تجزیہ 2

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا قتل اور امریکہ ۔ ایران بحران

تجزیہ 2

جنرل قاسمی سلیمانی کے بغداد میں امریکہ کی جانب سے ہلاک کیے جانے کے بعد امریکہ ۔ ایران تناو  میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک القدس خصوصی قوتوں کے کمانڈر سلیمانی، خطے میں ایران  کی حالیہ دور میں سیاسی پالیسیوں  کی ریڑھ کی ہڈی    کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ عرب ممالک میں بغاوتوں کے چھڑنے کے بعد ایران کے  بیرون ملک آپریشنز کی کمان سنبھالنے والی اہم ترین شخصیت تھے۔ انہوں  نے  لبنان، شام، عراق  اور یمن میں  فوجی کاروائیوں  میں کردار اد ا کیا تھا اور شیعہ ملیشیاوں  کو جھڑپوں میں شرکت کرنے کے امور کو منظم کیا تھا۔ علاوہ ازیں  سلیمانی نے لبنان سے یمن تک  کے وسیع رقبے میں عسکریت پسندوں کو اپنے زیر ِ اثر لے رکھا تھا اور یہ  ایرانی  داخلی پالیسیوں میں مذہبی رہنما خامنہ آئی  اور صدر روحانی سے کہیں زیادہ مقبولیت    کے حامل تھے۔  اگر سلیمانی کے ادا کردہ کردار اور اپنے سر لینےو الی ذمہ داریوں کو مد ِ نظر رکھا جائے تو  یہ کہنا ممکن ہے کہ ان کی ہلاکت ایران  کو گہرائیوں سے متاثر کرنے والے ایک سلسلے کو شروع کر سکتی ہے۔

سیکورٹی تحقیقاتی امور کے ڈائریکٹر منصف اسوسیئٹ  پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل تاش کا اس موضوع کے حوالے سے جائزہ پیشِ خدمت ہیں۔

سلیمانی کی ہلاکت اور ایران کے  فوری حملے کے بعد مشرق وسطی کے  سیاسی  ماحول میں  سال 2020 میں کافی گہما گہمی رہنے کی دلیل کے مترادف ہے۔ امریکہ ۔ ایران کشیدگی آیا کہ ان دونوں ممالک کے درمیان براہ راست جنگ  چھڑنے کا موجب بنے گی کوئی نہیں جانتا تا ہم  یہ ان دونوں اداکاروں کی ایک طویل عرصے سے جاری پس ِ پردہ جنگ  کو مزید طوالت  دے گی۔ تہران انتظامیہ  نے سلیمانی کے قتل کا بعد انتقام لینے کی قسم اٹھائی ہے۔ ایک طویل عرصے سے کٹھن حالات سے دو چار ایرانی  عوام بھی تہران کے گلی کوچوں میں اس قسم کے حق میں نعرے بازی کرنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بغداد  میں بھی  سلیمانی کے ہمراہ  ہلاک کیے جانے والے الا مہندس کا بدلہ لینے کے بارے میں بھی نعروں کی صدائیں   گونج  رہی ہیں۔حتیٰ حال ہی میں ظہور پذیر ہونے والے چھوٹے بڑے مسلح گروہوں  نے مقتول دونوں رہنماوں کا بدلہ لینے  پر اٹل ہونے کا مظاہرہ کرنے والی قسمیں کھائی ہیں۔ ادھر عراقی پارلیمان نے امریکی فوجیوں کے عراق سے انخلاء  کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت کو اس حوالے اختیارات سونپے ہیں۔ ویسے بھی  ایک طویل عرصے سے خانہ جنگی اور سیاسی انتشار  کا سامنا ہونے والے عراق کے اس مشکل مرحلے کو  کس طریقے سے پار کرنے    کے حوالے سے کافی سوالات پائے جاتے ہیں۔ عراقی شہری یہ بخوبی جانتے ہیں، امریکہ ۔ ایران کشیدگی  اور رقابت  نے ان کے ملک کو کسی ملبے کے ڈھیر میں بدل  دیا ہے۔ تا ہم    یہ لوگ ان حالات سے نمٹ سکنے  کی صلاحیت نہیں رکھتے۔"   نہ امریکہ نہ ہی  ایران، بلکہ ایک خود مختار و آزاد عراق"  کی سوچ کو عملی جامہ پہنا  سکنے کے حامل کسی جادوئی فارمولے سے آگاہ ہیں ۔

ایرانی انتظامیہ نے امریکہ  کو کس طریقے سے جواب دیے جانے  سے متعلق   سخت   ہنگامی حالات  میں یکجا ہونےو الی اعلی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد کیا جس میں مذہبی رہنما خامنائی  نے بھی شرکت کی۔ مملکت ِ ایران نے اہل ِ تشیع کی ایک مضبوط علامت   سرخ رنگ کے پرچموں کو مساجدکے گنبدوں پر بلند کیا۔ تہران انتظامیہ  نے علاو ہ ازیں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق   بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری نہ کرنے اور یورینیم کی  افزودگی  کے عمل کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے  امریکہ کو سخت ترین جواب دینے کا انتباہ دیا ہے۔

سلیمانی کے قتل نے مشرق وسطی کے علاقے  کو ہلا کر رکھ دیا ہے، تمام تر  اداکار اب کے بعد کی ممکنہ پیش رفت پر  اپنےا پنے تخمینے ظاہر کر رہے ہیں اور ان تخمینوں کی روشنی میں  اپنا حساب و کتاب  پیش کر رہے ہیں۔  ابتک اعتدال پسند ی کی اپیل کرنے والا واحد ملک ترکی ہے۔  اسرائیل ، سلیمانی کی موت سے بڑا خوش دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب  پہلے سے  ہی سلیمانی کے اپنے ہاتھ خون سے رنگنے والی ایک   مجرم کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ اب  یہ کہیں زیادہ خوش ہے تا ہم  یہ  ایران کے رد عمل کے سعودی عرب کی جانب  مڑ سکنے پر خوفزدہ بھی ہے۔ خلیجی علاقے کے دیگر چھوٹے ممالک بھی اسوقت بے چینی کے شکار ہیں۔ عالمی برادری  نے خاموشی اختیار کر رکھی  ہے اور ان  میں سے بعض کا رد عمل تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔  دوسری جانب امریکہ  جنگ کا خطرہ اپنے سر مول لینے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ کیا   خطے  میں کوئی نئی جنگ  چھڑسکتی  ہے اس  حوالے سے  قطعی طور پر کچھ کہنا ناممکن ہے البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ رواں سال مشرق وسطی میں فضا کافی گرم رہے گی۔



متعللقہ خبریں