ترک پکوان 47

ترک قہوہ

ترک پکوان 47

متعدد محقیقین کے مطابق  قہوہ کا مادر وطن  حبشستان یعنی  ایتھوپیا  اور متعدد کے مطابق   یمن ہے۔

قہوہ پینے کی عادت  یمن سے  جزیرہ نما عرب  اور وہاں سے  شام، ایران  اور بھارت تک پھیل گئی۔

استنبول  میں پہلے دو قہوہ خانے  حلب اور دمشق سے  آئے  ہوئے  دو افراد کی جانب سے کھولے گئے  اور بہت پسند کیے گئے۔

 

وقت کے ساتھ ساتھ قہوہ خانے میں   بڑھتے ہوئے    ہجوم پر  بزرگوں اور  مذہبی شخصیات کی  جانب سے  شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ۔

مفتیوں   اور عدلیہ سے رجوع کرتے ہوئے   قہوہ اور قہوہ خانے پر پابندی  لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔

بادشاہ نے اس موضوع سے متعلق  حکیمِ اعلیٰ اور  شیخ الاسلام سے ان  کے نظریات جاننے کی کوشش کی۔

حکیمِ اعلیٰ  پابندی لگانے کے خلاف   جبکہ شیخ الاسلام نے پابندی لگانے سے متعلق آگاہ کیا۔

اس پر  سلطان سیلمان قانونی نے اس موضوع کو  مذہبی اور علمی شخصیات پر مشتمل وفد   کوپیش کیا۔

وفد نے قہوہ پینے کے مذہب اسلام میں  کوئی پابندی نہ ہونے سے آگاہ کیا۔

 

قہوے اور قہوہ خانے سے متعلق  موضوع سلطان سیلمان کے بعد بھی زیر موضوع رہا ۔

مراد چہارم نے  قہوے اور تمباکو  کو ختم کرتے ہوئے تمام قہوہ خانوں کو مسمار کروادیا ۔

ابراہیم اول نے اس پابندی کو ختم کروادیا۔

کیونکہ اب قہوہ گھروں میں بھی پیا جا رہا تھا۔

 

عوام قہوے کو چکی یا پھر  پیتل کے ہاون دستے  سے کوٹنے کے بعد حاصل کرتے  اور پھر مہمانوں کو قہوہ پیش کرنے کی عادت رسم کی حیثیت اختیار کرگئی۔

 دولتِ عثمانیہ کے ساتھ اچھے تجارتی تعلقات رکھنے والےاطالویوں نے  سولہویں صدی  کے وسط میں استنبول، ازمیر  اور مصر کی بندرگاہوں سے حاصل کردہ قہوے کو اٹلی تک پہنچادیا۔

قہوہ ان دنوں تمام دنیا کی مشترکہ ثقافت کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔

صرف بیجوں  سے مختلف اقسام کا  حاصل کردہ قہوہ ،   زندگی  کے لیے  اور خاص طور پر صبح کے لیے  ایک ناگزیر  عنصر کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔

 

  ترک قہوہ نوشی  کےلیے تقریباً 70 ملی لیٹر کی حامل پیالیوں  کا استعمال  کیا جاتا ہے  جس کی تیاری کےلیے اجزا کچھ یوں ہیں :

1 چائے کا چمچ قہوہ 

1 پیالی پانی

شکر حسب ذائقہ

 ترک قہوے کی  تیاری  سب سے پہلے   قہوے کو   دودھ ابالنے والے برتن میں ڈالیں  بعد میں اس میں   ٹھنڈا پانی اور حسب ذائقہ  شکر ڈالیں کیونکہ بعد میں اس میں  اضافی شکر ڈالنے سے ذائقہ بگڑ جاتا ہے۔  اگر سادہ قہوہ پینا ہے تو شکر مت ڈالیں۔ اب اس آمیزے کو  ہلکی آنچ پر 3 تا 4 منٹ تک پکائیں اور جب  قہوہ ابل جائے تو اس کا کچھ حصہ پیالی میں  ڈالیں اور باقی کو پھر سے ہلکی آنچ پر ابلنے تک پکائیں اور   اسی پیالی میں ڈال کر نوش فرمائیں۔


ٹیگز: ترک قہوہ

متعللقہ خبریں