پاکستان ڈائری - 46 ( آہ ! یہ کینٹینر اور ہماری شادی )

یا اللہ ایک عدد مولوی صاحب درکار ہیں ورنہ ہمارا نکاح رک جائے گا

پاکستان ڈائری - 46 ( آہ ! یہ کینٹینر اور ہماری شادی )

پاکستان ڈائری -46

ہمارا نام حسیب ہے اور ہم غلطی سے اسلام آباد میں پیدا ہوگیے۔ہمیں کیا پتہ تھا جس شہر کے ہم گن گاتے نہیں تھکتے تھے اور کراچی پنڈی لاہور والو کو ٹف ٹایم دیتے تھے کہ ہمارا شہرسب سے پیارا ہے سب سے حیسن اور سرسبز ہے یہ شہر ہمیں زندگی کے سب سے اہم دن پر دغا دے جایے گا۔ہوا کچھ یوں کہ ہم اکثر اتوار کے روز آئی ایٹ سے پشاور موڑ صرف اور صرف حلوہ پوری کے ناشتے کے لیے جاتے تھے۔ایک دن ہم ناشتہ لینے گیے تو حسین و جمیل دوشیزہ کو حلوہ پوری والے سے لڑتے دیکھا جو کہ بیچارے دوکان دار کو ہاتھوں میں دستانے پہن کر کام نہ کرنے پر صحت و صفایی پر لیکچر دے رہی تھیں۔وہ بھی بس باجی باجی ہی کہہ پارہا تھا وہ حیسن محترمہ اس غریب کو بولنے کا موقع کب دے رہی تھیں۔بس انکی ہرن جیسی آنکھیں ناگن زلفیں دیکھ کر ہم اپنا دل ہار بیٹھے۔ہر روز جی ناین پشاور موڑ کے چکر لگانے لگے اور ایک دن حال دل بیان کرنے میں کامیاب ہوگے قسمت اچھی تھیں کہ لیکچر ملنے کے بجایے وہ بھی اپنا دل ہمیں دے گئی۔ہم نے فوری طور پر مدعا اپنے امی ابو کے سامنے رکھا اب ہم 30 کے ہوگیے ہیں اور ہمیں شادی کروائی جائے۔

شکر ہماری پھپھو تائی ،مامی اور خالہ اچھی ہیں تو بنا گھریلو فسادات ہمارا رشتہ جی ناین فور کی ماہ جبین کے ساتھ طے ہوگیا اور نکاح یکم نومبر کو ہونا مقرر پایا ہم خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔جلد ہی شادی کی تیاریاں شروع ہوگی ہم نے دیگوں کا  آڈر جی ناین میں اس ہی حلوہ پوری والے کو دیا کہ ہماری محبت کا آغاز چونکہ آپ کی دوکان سے ہوا تو ہماری مہندی شادی کا کھانا آپ کے زمے ہے۔انہوں نے بھی مبارک باد دی۔جلدی سے جی ناین والا میرج ہال بک کیا تاکہ ہمارے سسرال والو کو تمام فنکشنز پر زیادہ سفر نا کرنا پڑے۔

شیروانی کا ذمہ پھھپو نے لے رکھا تھا اور ہونے والی بیگم نے کہا کہ انکے کپڑوں کا آڈر انہوں نے مری روڈ پر کروادیا ہے۔جہیز کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تو سب انتظامات سادگی سے مکمل کرلئے ۔۔

ہم نے پشاور موڑ کے پاس سے دیہاڑی دار مزدور لیے اور گھر پر پینٹ شروع کرادیا ۔ہم خوابوں کی دنیا میں تھے کہ اچانک ہمارے حواسوں پر بم گرا کہ دھرنا مظاہرین اسلام آباد آرہے ہیں۔ہم تو یہ بھول ہی گے تھے کہ اسلام آباد میں سردی بہار گرمی خزاں کے ساتھ دھرنے کا بھی موسم آتا ہے۔ یہ پانچواں موسم جس کو دھرنے کا موسم کہا جاتا ہے یہ اکتوبرسے دسمبر تک محیط ہوتا ہے اور اپنے ساتھ کنٹینرز بھی لاتا ہے۔دھرنے والے کیا ناک میں دم کریں گے انتظامیہ ان کے چکر میں  ہمارا

 ناطقہ بند کردیتے ہیں۔ہر طرف کینٹینر آگیے ہر طرف پولیس آگی اور پھر مظاہرین بھی آگیے اور ہماری شادی کی تاریخ بھی سر پر آگی۔پینٹ والے کام ادھورا چھوڑ کر چلے گیے اور گھر اب آسیب زدہ حویلی کا منظر پیش کررہا تھا۔

اب منظر کچھ یوں ہے کہ ماہ جبین اور ہمارے گھر میں صرف دس منٹ کا فاصلہ بڑھ کر ایک گھنٹے پر پہنچ گیا ۔آغا شاہی ایونیو پر مولوی صاحبان آکر بیٹھ گیے اور ہم اسلام ایکسپرس وے سے ،سیٹنٹورس کو ہاتھ لگا کر پھر ایف ایٹ پار کرکے ، ایف ناین پارک کو دیکھتے دیکھتے کراچی کمپنی کر طرف سے پشاور موڑ پہنچے۔وقت کا ضیاع الگ اور پیٹرول کا خرچہ جیب پر الگ بھاری لیکن شادی کی خوشی سب پر حاوی تھی۔

آگے دیکھا تو دھوبی کی دوکان بند پڑی تھی اور لکھا تھا دھرنے کی وجہ سے دوکان بند رہے گی۔ہماری طبعیت مکدر ہونا شروع ہوگی کیا ضرورت تھی ہمیں نی شیروانی کو دوبارہ استری کروانے کی ۔دھوبی کو فون کرنے کی کوشش کی تو موبایل اور انٹرنیٹ سگنل ڈوان تھے۔

ہم اسکی دوکان کے بند شیٹر کے ساتھ لگ کر دل ہی دل میں آنسو بہانے لگے ۔بھاری قدموں کے ساتھ حلوہ پوری والے ہوٹل پہنے تو وہ بھی سب بند کرکے ہاتھ سر پر رکھ کر فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا ،ہم نے پوچھا بھایی کیا ہوا وہ کہنا لگا حسیب صاحب آپ کی مہندی شادی کی دیگیں انتظامیہ سیل کرکے لگے کہ ہم نے کہا بھی یہ دیگیں دھرنے کی نہیں شادی کی ہیں پھر انہوں نے ہماری ایک نہ سنی ۔اب کی بار تو ہم دل پر ہاتھ رکھ کر سسرال کا رخ کیا اور گلوگیر ہوکر انہیں سانحات سے آگاہ کیا۔سسرال والو نے تسلی دے ہمارے لیے ایف ٹین کیمرج سے ایک سادے جوڑے کا بندوبست ہوگیا ۔

شیروانی پہنے کے خواب خاک ہوگئے۔

 ہمارے بھایی نے کہا میرج ہال کے سامنے تو شرکا نے اپنے تمبو لگا لیے ہیں اب کیا کریں شادی وہاں ہونا ممکن نہیں ہے۔

سب بڑوں نے طے کیا شادی کی تقریب سادگی سے گھر میں آئی ایٹ میں کرلی جایے وہاں معمولات زندگی پھر بھی معمول پر ہیں۔جتنے لوگ آسکتے تھے گھر پہنچ گیے جو نہیں آسکے ہمیں نے انہیں کینٹینرز کی وجہ سے معاف کردیا۔کھانا حلیم گھر اور سیور سے آگیا ۔نکاح کے بعد تقسیم ہونے والے چھوارے ہمیں ملے نہیں تو ہم نے انکا متبادل ٹافیوں سے تھیلا بھر لیا۔لایٹ والا بھی دھرنا تعطیلات پر تھا تو ہم نے صرف گھر کے فانوس جلا کر کام چلالیا اور ادھورے پینٹ کے ساتھ گھر جنات کا مسکن زیادہ لگ رہا تھا۔محلے سے مانگ تانگ کر کرسیاں مکمل کی یوں رشتہ داروں احباب سمیت پچاس لوگوں کے بیٹھنے کا بندوبست ہوگیا۔ایسا لگ رہا تھا میں اسلام ٓاباد کا شہری نہیں شاید خانہ بدوش ہیں۔پر خوشی اس بات کی تھی کہ ماہ جبین ہمیں ملنے جارہی ہے۔

۔ماہ جبین تو جنت کی حور لگ رہی تھیں انہوں نے اپنا میک اپ جوڑا سب بروقت مینج کرلیا تھا اور ایک ہم ہیں آئی ایٹ سے جی نائن کے درمیان زلیل ہوتے رہے ۔ لیکن اب بھی قسمت نے ہمارا امتحان لینا تھا اب مولوی صاحب ہیں نکاح کے وقت غایب ہوگیے مسجد گیے تو معلوم پڑا وہ تو آزادی مارچ میں چلے گیے ۔اب سب مہمان اور دلہن گھر پر بیٹھے اور ہمیں نکاح خواں نہیں مل رہا۔ہم وہیں سیڑھیوں پر سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور فریاد کی  

یا اللہ ایک عدد مولوی صاحب درکار ہیں ورنہ ہمارا نکاح رک جائے گا۔

راہ گیر نے گزرتے ہویے ہمیں آواز ماری مولوی صاحب  کو دھرنے میں تلاش کرو۔بس اس کی آواز ہمارے کانوں میں کیا پڑی ہم بجلی کی رفتار گھر کی طرف دوڑ پڑے۔ماہ جبین کو کہا پھپھو کا برقع پہنو فوری طور پر اور چلو سب میرے ساتھ ۔رشتہ داروں کو لگا کہ شاید مولوی نا ملنے کے غم میں ہمارا ذہنی توازن بگڑگیا ہے۔ہمارے اصرار پر سب چل پڑے اور ہم نے ٹافیوں والا تھیلا بھی ہاٹھ میں اٹھا لیا ۔

دولہا بنے ہم اور ماہ جبین لہنگے پر برقع پہنے چل پڑے  دیکھنے والے بھی دنگ رہ گئے ماجرا کیا ہے اور ساتھ براتی بھی ہماری ذہنی صحت پر شک کرتے رہے۔

دھرنے کے مقام پشاور موڑ پہنچے وہاں تو اتنے مولوی تھے کہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں پاکستان کا نام آجاتا ۔ہم نے مسکین سی شکل بنا کر اپنا مدعا ایک باریش مولوی  صاحب کے سامنے پیش کیا اس پہلے وہ مجھے اور ماہ جبین کو گھر سے بھاگا جوڑا سمجھ لیتے میں نے اشارہ کیا وہ رہا میرا خاندان ۔ ماشاء اللہ ماشااللہ کا شور ہوگیا ہوں دھرنے میں ہمارا نکاح ہوگیا   ۔پشاور موڑ سے واپسی پر ہم ماہ جبین کا ہاتھ پکڑے سوچ رہیے تھے کہ اپنے بچوں کی شادیاں دھرنے کے موسم میں کبھی نہیں رکھیں گے۔

 لیکن اس بات کی خوشی بھی تھی یا اللہ شکر ہماری شادی ہوگئ

 



متعللقہ خبریں