تجزیہ (دیارباقرکی ماؤں کی فریاد )

ہماری آنکھوں سے آنسو تک خشک ہوچکے ہیں

تجزیہ (دیارباقرکی ماؤں کی فریاد )

اغوا کرکے پہاڑوں پر لے جانے والے   بچوں کے لیے پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی  کے صوبائی  مرکزی دفتر  کی عمارت کے سامنے   دیار باقر  کی  ماؤں   نے گشتہ دو ماہ  سے اپنی اولاد کے لیے دھرنا دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔  ماؤں

دیار باقر  کی ایک ماں  ہاجر  آقار   کے  بیٹے     مہمت  آقار  کوپیپلز ڈیمو کریٹ پارٹی   میں بیٹھا کر  اغوا  کرتے ہوئے   پہاڑوں پر  لے جانے کام الزام  لگاتے ہوئے  22 اگست کو پارٹی کی صوبائی عمارت کے سامنے دھرنا شروع کررکھا ہے۔ 

آقار کی والدہ نے   اپنے بیٹے کو دہشت گردوں  کے ہاتھوں  قربان ہونے سے بچانے   کے لئے اپنے جس دھرنے  کا آغاز کیا تھا اس نے   جلد ہی ثمر دے دیا  اور   24 اگست کو ان کا بیٹا ان سے آ ملا ۔  اپنے بیٹے کو دہشت گردوں  کا لقمہ  بننے سے بچانے میں کامیاب ہونے والی  یہ ماں  اپنے بچوں کی حسرت میں آنسو بہانے والی دیگر ماوں کے لیے  ایک مثال ثابت ہوئی ہیں۔

دھرنا دینے والے  خاندانوں کی  تعداد 55 تک پہنچ گئی

3آقار  کی جدوجہد کو اپنے لیے مثال سمجھنے والی      فیضیہ  چیتین قایا، رمضیہ  آق قویون اور عائشہ گل  بیچر   کی جانب سے تین ستمبر کو شروع کردہ  دھرنے   میں شامل ہونے   والے خاندانوں کی تعداد  55 تک پہنچ گئی ہے۔    

پارٹی کی صوبائی عمارت کے سامنے دھرنا  دینے   اور  اپنے  بچوں کی راہ تکنے   والی  ماؤں  کی حمایت کے لیے آنے والے افراد کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ سلیمان سوئلو ، وزیر محنت وسماجی امور زہرہ زمرد سلچوق سمیت شہدا  کے کنبوں، سیاستدانوں، فنکاروں،  اخباری نمائندوں، مصنفین اور شہری تنظیموں کے نمائندوں  اور معاشرے  کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے  شہریوں نے متاثرین کے    گھروں میں جاتے ہوئے ان کے  عزیز و اقارب سے اظہار افسوس کیا اور  ان کے شانہ بشانہ ہونے کا اظہار کیا۔

اپنے ہاتھوں میں اپنے بچوں کی تصاویر اٹھاتے ہوئے دھرنا  دینے والی ماوں  کی   حسرت ہونے والی اپنی اولادوں سے ملنے کا انتظار جاری ہے۔

"انہوں نے ہماری  زندگی کا چراغ بجھا دیا ہے "

استنبول سے 4 برس قبل اغوا کرتے ہوئے پہاڑوں پر لیجائے جانے والے مہمت کے  لیے دیارِ بکر  کوآتے ہوئے دھرنا دینے والی اِمی خان  نیلی فرقہ  اپنے فرزند سے بغلگیر ہونے کی  تمنا  رکھتی ہے۔

اپنے برخودار کے اغوا کی ذمہ داری عوامی ڈیموکریٹک پارٹی  پر عائد ہونے کا ذکر کرنے والی نیلی فرقہ کا کہنا ہے کہ  میں جانتی ہوں کہ یہ میرے بیٹے کو اغوا کرنے والی یہی پارٹی ہے، میرے بچے کو لوٹا دیں۔  اس سے  ہمیں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔  ہم سب اس  کے لیے شدید پریشان   ہیں۔  یہ لوگ میرے  بیٹے سے کیا چاہتے ہیں؟ میرا بیٹا     چیونٹی تک کو نقصان نہیں پہنچاتھا اور پڑھائی میں بھی کافی اچھا تھا۔ 

دو ماہ سے دھرنا دینے  کی وضاحت کرنے والی نیلی فرقہ نے مزید بتایا کہ عوامی ڈیموکریٹ پارٹی سے فی الحال کوئی اعلان جاری نہیں کیا گیا۔

اگر ان میں ہمت  ہیں تو ہمارا سامنا کریں اور بتائیں  کہ ہمارے بچے کس حال میں ہیں  ،اگر وہ بھی کرد ہیں تو ہمارے درمیان  بیٹھ کر دھرنا دیں۔اگر نہیں تو ہمیں ایسی کرد پرستی نہیں چاہیئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے بیٹے  کی آزادی اور اس کا  مستقبل ہم سے چھین لیا ہے۔

 نیلی فرقہ نے  کہا کہ ہم  اس احتجاج کو آخری دم تک جاری رکھیں گے۔

 بچوں کی واپسی تک یہ دھرنا جاری رہے گا

 5 سال قبل اپنے 14 سالہ  بیٹے تنج آئے  کی رہائی  کےلیے دھرنے میں موجود  5 بچوں کی ماں  فاطمہ بنغول  نے بھی اپنی دہائی دیتےہوئے بتایا کہ   میں نے اپنے  بیٹے کو 5 سال سے نہیں دیکھا۔یہ لوگ ہمارے بچے ہمیں واپس کر دیں ۔ ہم جیسی ماوں کا کیا قصور ہے  جو ہم یہاں دھرنا ماریں بیٹھے ہیں  ،ہمارے حال پر رحم کرتےہوئے  ہماری اولاد  یں لوٹا دیں ،ہم پر اتنا ظلم نہ کریں۔ میں بھی اپنے بیٹے   کو لے جا کر ہی دم لوں گی  چاہے یہ ہمیں بھی مار ڈادلیں  مگر   میں پیچھے نہیں ہٹوں گی ۔

 پی کےکے   کا کردوں پر ظلم  بھی دنیا دیکھے

   مادر وطن     کے فرض کی خاطر  فوج میں شامل مسلم نامی ایک نوجوان کو  2 اکتوبر سن 2015 کے دن  ضلع تنج ایلی سے دہشت گردوں  نے  اغوا کرلیا تھا  جس کی غمز زدہ  اور بد حال ماں  سونگل آلتن تاش   نے کہا کہ مجھے اپنے بیٹے کے بارے میں 4 سال سے  کوئی خبر نہیں ملی ۔

 ہم لوگ یہاں دو مہینوں سے دھرنا مارے بیٹھے ہیں اور تب تک بیٹھیں گے  جب تک یہ لوگ ہمارے بچے ہمیں نہ لوٹا دیں،انہوں نے  دہشت گردوں کے ہتھے چڑھے بچوں کے دیگر والدین سے بھی درخواست کہ وہ بھی ہمت کرتےہوئے ہمارے اس دھرنے مِیں  شامل ہو جائیں۔

آلتن تاش نے کہا ہے :

"اب کُرد مائیں بیدار ہوں ۔ ان کی اولاد ان کی نگاہوں کے سامنے تلف ہو رہی ہے۔ بیدار ہوں اور PKKکی طرف سے کردوں پر ڈھائے جانے والے اس ظلم کو دیکھیں۔ بیدار ہوں اور جانیں کہ ہماری دشمن PKK ہے۔ اس دہشت گرد تنظیم کے دل میں نہ تو ماوں کے لئے رحم ہے نہ باپوں کے لئے اور نہ ہی بچوں کے لئے"۔

"جب تک میری بیٹی نہیں آتی ہم یہاں سے نہیں جائیں گے"

یہ الفاظ ضلع آری سے  مظاہرے میں شرکت کرنے والے باپ  یاسین کھایا کے ہیں۔ یاسین کھایا  کی بیٹی چیدیم کو4 سال قبل  17 سال  کی  عمر میں اغوا کر کے پہاڑ پر دہشت گرد تنظیم کے کیمپ میں پہنچا دیا گیا تھا۔ یاسین نے کہا  ہےکہ" میں آج بھی اپنی اولاد کا انتظار کر رہا ہوں"۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم مظاہرے میں شامل تمام مائیں اور باپ آندھی طوفان کی پرواہ کئے بغیر اپنی اولادوں کا انتظار کرنا جاری رکھیں گے۔

کھایا نے کہا ہے کہ " ہم کسی بیان کے منتظر ہیں ۔ میں اپنی بیٹی کو لئے بغیر یہاں سے نہیں جاوں گا۔ وہ خود کو کُرد کہتے ہیں لیکن وہ کُرد نہیں ہیں۔ اصل کُرد ہم ہیں۔ ہمارے بچوں کو اغوا کر کے پہاڑوں پر پہنچانے والی پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی HDP  کو ہم دعوت دیتے ہیں کہ یہاں آئیں  اور  پی کے کے مردہ باد کا نعرہ لگائیں، اس دہشتگرد تنظیم کے ساتھ لاتعلقی کا اعلان کریں۔ پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی HDP  یہ اعلان کر دے تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے کیونکہ ہم اپنے بچوں کے اغوا کا ذمہ دار انہیں ٹھہراتے ہیں۔

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں