تجزیہ 37 (کیا یہ عہدِ عثمانیہ سے تعلق رکھنے والا ایک معاملہ ہے؟)

عصر حاضر کے بعض مسائل کو عہدِ عثمانیہ سے وابستہ کرنے کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کا جائزہ

تجزیہ 37 (کیا یہ عہدِ عثمانیہ  سے تعلق رکھنے والا  ایک  معاملہ ہے؟)

بعض ایسے معاملات ہوتے ہیں کہ ان کو حل کرنے میں آپ کا حق بجانب ہونا کافی نہیں ہوتا۔ دولت ِ عثمانیہ کا ورثہ بھی اس قسم کے معاملات میں شامل ہے۔ عثمانیوں کو کس نگاہ سے دیکھے جانے کا معاملہ ہمیشہ ایک متنازعہ معاملہ ہی رہا ہے۔ حال ہی میں لبنانی صدر مشل عون نے لبنان کے قیام کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر فرانس کے تعاون سے آزادی حاصل کرنے کا ذکرکرتے وقت  دولتِ عثمانیہ پر سرکاری دہشت گردی پر عمل درآمد کرنے کا الزام عائد کیا۔ ایسے ہی الزامات اور تہمتوں کا مغربی لڑیچر میں اور بعض عرب ممالک  کی نصابی کتب میں بھی گاہے بگاہے مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔

انقرہ یلدرم بیاضید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے ڈین  پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ  ۔۔۔۔

6 سو برسوں تک حکومت کرنے  والی ایک ریاست  پر بلا شبہہ کئی ایک زاویوں سے نکتہ چینی  کی جا سکتی ہے البتہ سامراجی ممالک کے ہمراہ قابض بننا، مختلف طبقوں اور ثقافتوں پر دباو ڈالنے کی الزام تراشیاں دولت ِ عثمانیہ پر محض کیچڑ اچھالنے کے مترادف ہو گا۔ ترکی میں بعض حلقے،  دولت عثمانیہ کے مختلف عمل درآمد کے ذریعے حکومت کردہ علاقوں کے ساتھ یکسانیت قائم  نہ کرنے اور ان کو جبری طور پر مذہب  بدلنے کا نا کہنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر عثمانی حکمران اس طرز کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوتے تو  عثمانیوں کے ماتحت رہنے والے علاقے آج  کہیں زیادہ ترک ثقافت اور اسلام کا بول بالا ہونے کی خصوصیت کے مالک ہوتے۔ برطانیہ اور  فرانس کی جانب سے حکومتی نظام چلائے گئے معاشروں کے آج ان ملکوں سے کہیں زیادہ مماثلت رکھنے کو بالائے طاق رکھیں تو  اس دعوے کے بے بنیا د نہ ہونے کا  کہنا ممکن ہے۔  تا ہم، یہاں پر یہ بھی واضح کرتے چلیں کہ دولت عثمانیہ کا اس جیسی پالیسیوں پر عمل درآمد نہ کرنا  اس کو سامراجی ممالک سے مختلف درجہ رکھنے کے حقائق کا  ثبوت بھی پیش کرتا  ہے۔

پیکس اٹومانا

دولت ِ عثمانیہ کے طویل عرصے تک حکومت کردہ علاقے  آج کسی خون کی نہر کا نظارہ پیش کر رہے ہیں۔ بلقانی علاقے، مشرق وسطی، افریقہ سینکڑوں برسوں تک آج بھی  رسائی نہ کیے جا سکنے والی  اقدار یعنی مختلف مذاہب، نسلوں اور ثقافتوں کا احترام کیے  جانے والے علاقوں میں شامل تھے جو کہ عثمانی حکمرانوں کا مرہونِ منت تھا۔ اس چیز کی ایک ٹھوس  مثال دولت عثمانیہ کی زیر انتظامیہ  ہونے کے وقت دولت عثمانیہ کی سرزمین  پر نواع وا قسام کی ثقافتوں اور مذاہب   میں بتدیلی لائے بغیر ہر طرح کی آزادی کے ساتھ اپنی زندگیوں، رسم و رواج اور مذہبی فرائض کو ادا کرنے  کی اجازت دینا اور عثمانیوں کے بعد بھی اسی  عمل درآمد کاجاری  رہنا ہے۔ عثمانی رواداری کو لٹریچر میں پیکس اوٹومانا کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ عثمانیوں  کی تکثریت کی اقدار  کا ، امریکہ کی دریافت کے بعد وہاں کے "مقامی لوگو کے ساتھ غیر انسانی فعل"  مقامی لوگوں کے عقائد ، زبانوں اور ثقافت کا خاتمہ ، برطانیہ کے برصغیر پر  تقریباً ڈیڑھ سو سال حکومت کرنے کے بعد وہاں پر بعد میں معرض وجود میں آنے والے ممالک   میں   انگریزی  زبان کو سرکاری زبان     کا درجہ حاصل  ہونے سے  موازنہ کرنے  پر اس کے ان عمل درآمد سے کہیں زیادہ بہتر ہونے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

جیسا کہ دعوی کیا جاتا ہے متعدد مغربی سامراجی ممالک کی طرح  اگر دولت عثمانیہ  بھی سخت گیر پالیسیاں اختیار  کرتی تو لبنان صدر کا نام"مشل عون"  اور ان کا عیسائی  عقیدے سے ہی وابستہ رہنا قدرے مشکل تھا۔ ان کی طرح لبنانی اور عیسائی ہونے والے اور متعدد شہہ پاروں  کی تصنیف کرنے والے امین مالووف  کے سامراجی ممالک اور عثمانیوں کے عمل درآمد  کے درمیان موازنہ کا بھی مفہوم رکھنے والے مندرجہ ذیل الفاظ ان کے ملک کے صدر کے لیے جواب کی  طرح ہیں:

"کوئی بھی مذہب عدم رواداری کو اساس نہیں بناتا۔ تا ہم ، اگر ہم ان دو 'رقیب' مذاہب  کا موازنہ کریں تو  دین اسلام کے کافی عمدہ ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔ اگر ہمارے آباو اجداد مسلمان فوجوں کی طرف سے فتح کردہ کسی ملک میں عیسائی رہنے کے بجائے ، عیسائیوں کی جانب سے فتح کردہ کسی ملک میں  مسلمان ہوتے تو  میں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ اپنے عقیدوں اور ایمان  کا تحفظ کرتے ہوئے 14 سو سالوں تک اپنے گاوں اور قصبوں میں زندگی بسر کر سکتے تھے۔ درحقیقت اسپین کے مسلمان کدھر چلے گئے؟ اسی طرح سسلیا کے مسلمان؟  سارے کےسارے ختم ہو گئے ، ان کو جلا وطن کیا گیا یا پھر جبری طور پر عیسائی بننے پر مجبور کیا  گیا۔"

اسرائیل کے تاریخ کے ایک مقبول پروفیسر یووال نوآح حراری  کے  روزنامہ حریت سے انٹرویو  میں بیان کردہ الفاظ بھی پیکس اوٹومانا  یعنی عثمانی امن کے نظریے اور رواداری  کے اصول کی واضح طور پر توضیح کرتے ہیں:

"وسطی دور کے یورپ میں تحمل و برد باری کا وجود تک نہ تھا۔سولہویں صدی میں پیرس میں ہر کس کیتھولک تھا۔ جب کوئی پروسٹنٹ اس شہر میں داخل ہوتا تھا تو اسے قتل کر دیا جاتا تھا۔ دوسری جانب لندن کے سارے کے سارے باسی پروسٹنٹ تھے اور ان کا رویہ بھی پیرس والوں کی طرح تھا۔ اس دور میں یہودیوں کو یورپ سے باہر نکال دیا جاتا تھا۔ ۔کوئی بھی مسلمانوں  کی آمد کے حق میں نہیں تھا۔ لیکن اسی دور میں استنبول  میں مختلف مذاہب اور عقائد سے منسلک انسان یعنی مسلمان،کیتھولک، آرمینی، یونانی، بلغاری ، اورتھاڈکس مل جل کر خوش باش  زندگی بسر کیا کرتے تھے۔"

تاریخ کو آلہ کار بنانا یا پھر عثمانی سر زمین کے ٹکڑے کرنے کے عمل کو جاری رکھنا

عثمانیوں پر لگائی گئی تہمتوں کا مندرجہ بالا مثالوں  کےساتھ یا پھر کئی دوسری مثالوں کے ساتھ جواب دیا جا سکتا ہے۔ تا ہم اصل مسئلہ یہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر سامراجیت"بٹوارہ کرو، توڑو اور اپنے زیرِ تسلط لو"  حکمت ِ عملی پر مبنی ہے۔ کیا ہم  صدہا سال سے بٹوارہ کرنے کا سدِ باب کرنے اور امن کے قیام میں اہم ترین اقدار کے حامل دین ِ اسلام  کااسی طریقے سے حوالہ دے سکتے ہیں؟ سلطنتِ عثمانیہ کا شیرازہ بکھرنے کے بعد  اس کی سرحدوں  میں شامل بلقان، مشرق وسطی اور افریقہ کے ممالک  کے ٹکڑے کرنے کے عمل کےدوام کی خواہش پائی جاتی ہے۔ مائیکرو سطح پر وجود میں آنے والی نسلی، مذہبی ، ثقافتی اور قومی اقدار نے اس عمل  میں مزید تیزی لائی ہے۔ ان علاقوں میں جھڑپوں، نئی سرحدوں کو کھینچنے  پر مبنی آپریشنز کا مفہوم بھی یہی ہے۔ اس دائرہ کار میں تاریخی سامراجی   نظریات کی روشنی میں بعض چالیں چلی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں  ماضی کو تاریخدانوں پر چھوڑیں اور انہیں آلہ کار نہ بنایا جائے   الفاظ کا کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں۔ کیا ہر چیز کو آلہ کار بنانے والے سامراجی مقاصد کو تاریخ کو بھی آلہ کار  بنانے سے باز رکھنا ممکن ہے؟

تو پھر کیا کیا جائے؟

اس بنا پر عثمانی ورثے کا جائزہ لینا اب ماضی بن چکا ہے یا پھر یہ ماضی سے متعلق ایک جائزہ نہیں  بلکہ آج اور مستقبل کے لیے کسی پوزیشن  کو وضع کرتا ہے۔ عثمانی اور جمہوری دور کی روشن خیال شخصیات  اور سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد  کے مغرب سے سرایت کرنے والے وائرس کی بنا پر اس امتحان میں سرخرو ہونے کا کہنا  قدرے مشکل  ہے۔ مغرب پسندی اور رحجان کے باعث اپنے معاشرے، رسم و رواج و اقدار سے رشتہ ناطہ توڑنے والی  پڑھی لکھی شخصیات اور سیاستدان، مغرب میں  عثمانیوں کا شیرازہ بکھیرنے  کے لیے جنم پانے والے نظریات کے اسیر بن کر رہ چکے ہیں۔ آج سلطنت عثمانیہ کے ماتحت دیگر ممالک  کی مغرب پسندی  کے تسلط  میں آنے والی شخصیات اور سیاستدانوں کا عثمانیوں اور اپنے معاشروں سے متعلق نقطہ نظر اس صورتحال سے کچھ مختلف نہیں ہے۔

در حقیقت بلقان، مشرقِ وسطی اور افریقہ کی موجودہ  صورتحال ماضی کی صورتحال سے مختلف نہیں ہے۔ یہ ممالک مزید شیرازہ بکھرنے کے خطرات سے دو چار ہیں۔ اپنے معاشرےماضی، رسم و رواج  سے  رشتہ ناطہ  ٹوٹنے والی شخصیات اور سیاستدان  اپنے ممالک کو مزید انتشار   کی جانب گھسیٹ رہے ہیں۔ اس بنا پر سامراجی مقاصد    کو سمجھتے ہوئے ماضی اور  حال کی جانب تاریخ، معاشرے اور علاقے  کے ساتھ زیادہ انسیت  قائم کی جانی چاہیے۔

اکیڈمیشنز، ذی فہم شخصیات، عالمین ، سیاستدانوں اور عقلِ سلیم کے مالک انسانوں کو کسی مشترکہ موقف کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ کو مسخ  کیے جانے  اور علاقے  میں مزید انتشار کا ماحول پیدا کیے  جانے کی مخالفت کرنی چاہیے۔ سیاسی مقاصد کو نظر انداز کرتے ہوئے محض پیش  کردہ دریچے سے دیکھنے سے بھی گریز کیا جانا چاہیے۔ علاقے سے باہر سے انتشاری نہیں بلکہ اپنے ماضی اور اقدار کو مزید یکجا کرنے والے نظریات  کے لیے اپنے دروازے کھولے جانے چاہییں۔ وگرنہ علاقائی ممالک اور انسان مزید ٹکڑوں میں بٹتے ہوئے  ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے  اور نازک ماحول کے حامل ممالک کے انسان بڑی آسانی سے سامراجی  ٹولوں  کا مہرہ بن جاتے ہیں۔



متعللقہ خبریں