پاکستانی ڈائری - 34

عالمی مباحثے کے لیے فیس بک ، ٹویٹر ، انسٹاگرام ،یوٹیوب اور دیگر ویب سایٹس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ انفارمیشن کی وار میں ،لفظوں کی جنگ میں اور پیغام رسانی کے لیے سماجی رابطے کی ویب سایٹس کلیدی کردار ادا کرتی ہیں

پاکستانی ڈائری - 34

عالمی مباحثے کے لیے فیس بک ، ٹویٹر ، انسٹاگرام ،یوٹیوب اور دیگر ویب سایٹس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ انفارمیشن کی وار میں ،لفظوں کی جنگ میں اور پیغام رسانی کے لیے سماجی رابطے کی ویب سایٹس کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔تمام ممالک سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین اپنی نجی زندگی سے وابستہ چیزیں سماجی رابطے کی ویب پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ مبصرین، سوشل میڈیا ایکسپرٹ،سیاست دان صحافی،کالم نگار ملکی اور بین الااقوامی معاملات پر اپنی رایے پوسٹ کرتے ہیں۔ہم سب صارف ان ویب سایٹس کی انتظامیہ سے امید رکھتے ہیں کہ یہ ہماری نجی معلومات کو محفوظ رکھیں  گےاور ہماری رایے کا احترام کریںگے ۔پر سب کچھ ہو اسکے برعکس رہا ہے۔

 بھارت کی طرف سے ۳۷۰ شق ختم ہونے کے نتیجے میں حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور کشمیر میں کرفیو کے دوران پاکستانی صارفین کو ٹویٹر اور فیس بک کی جانب سے جانبدار رویے کا سامنا کرنا پڑا۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک اور ٹویٹر کے دفاتر بھارت میں موجود ہیں اور ان کا بڑا عملہ بھارتی نیشنل ہے۔گمان یہ ہے کہ لفظ کشمیر پر فلٹر لگا رکھا۔آپ خودساوتھ ایشیا ریجن میں ان دونوں سایٹس پر کشمیر کے حوالے سے بھارتی مظالم پر کچھ بھی لکھیں آپ کی پوسٹ ریمو ہوجایے گی، آپ کا اکاونٹ لاک ہوجایے گا،آپ پر پوسٹ کرنے پر پابندی لگا دی جایے گی۔۵ اگست کے بعد سے کویی ڈیڑھ سو سے زاید ٹویٹر صارفین اپنے اکاونٹ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس کی وجہ صرف کشمریوں سے ہمدردی اور اظہار یکجہتی ہے۔

ٹویٹر نے سب سے پہلے معروف اینکرز عمران خان، فرح سعدیہ اور مشعل بخاری کو سسپنڈ کردیا گیا۔فرح سعدیہ نے ٹی آر ٹی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آزادی رائے کو سلب کیا جارہا ہے۔کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق حاصل ہے۔میں نے ایمنسٹی بی بی سی کی رپورٹس شئیر کی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹس ری ٹویٹ کئے۔میں نے کوئی ٹویٹر رولز کی خلاف ورزی نہیں کی تھی بس کشمیریوں کے لئے آواز اٹھائی تھی۔میرا اکاونٹ کچھ دن سسپنڈ رہا تاہم بار بار اپیل کرنے پر یہ مجھے واپس مل گیا ۔ اینکر عمران خان اور مشعل بخاری کے اکاونٹس اب بھی معطل ہیں ۔

دوسری طرف بھارتی حکومت نے اینکر ارشد شریف کے خلاف ٹویٹر کو شکایت کی انکا اکاونٹ بند کیا جایے۔اینکر ارشد شریف کے جن ٹویٹس پر اعتراض کیا گیا وہ اے پی اور اے آر وایی نیوز کی سٹوری تھی۔اینکر ارشد شریف نے ٹویٹ کیا کہ انہیں ٹویٹر کی طرف سے یہ کہا گیا کہ دو ٹویٹس ڈیلیٹ کیے جاییں یہ بھارتی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔انہوں کہا کہ کیا ٹویٹر انڈیا یہ سنسر شپ پاکستانی صارفین پر لاگو کررہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے صحافی کامران یوسف کا اکاونٹ بھی اس لیے سسپنڈ کیا گیا انہوں نے بھارتی وزیر کی اٹیمی جنگ کی دھمکی والے ٹویٹ پرکمنٹ کیا تھا۔ٹویٹر نے پاکستانی صحافی کو ٹویٹ ریمو کرنے پر اکاونٹ واپس کر دیا لیکن بھارتی وزیر کا دھمکی آمیز ٹویٹ اب بھی موجود ہے۔

اب انسان یہاں سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ بھارت کہ ایما پر اب پاکستانیوں کی سوشل میڈیا پر زبان بندی کی جارہی ہے۔وہ اٹیمی جنگ کی دھمکی تک دے دیں ان کے اکاونٹ کو کچھ نہیں ہوتا لیکن پاکستانی امن کی بات کریں یا کشمیر میں بھارتی مظالم کی ان کے اکاونٹ بند کردیے جاتے ہیں۔پاکستان کا مقدمہ عالمی سطح پرصرف حکومت یا سفارت کار نہیں لڑتے پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین بھی یہ مقدمہ حب الوطنی اور رضا کاراںہ طور پر لڑتے ہیں جس میں ٹویٹر کے ایک صارف نبیل چوہدری بھی ہیں وہ پیشے کے اعتبار سے ڈینٹل سرجن اور پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ان کا پہلا اکاونٹ 27 فروری 19 کو ملکی دفاع میں ٹویٹس کرنے کی وجہ سے بھارتیوں کی طرف سے رپورٹ ہوا اور وہ اپنے اکاونٹ سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔5 اگست کے بعد سے پھر انکا اکاونٹ بند کردیا گیا۔ٹی آر ٹی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نبیل چوہدری نے کہا کہ 2016 میں ٹویٹر جوائین کیا میمز،فنی پوسٹ اور فنی ویڈیو ایڈیٹنگ شروع کی لوگوں کی طرف سے بہت پذیرائی ملی ۔26 اور 27 فروری سے پاکستان کے دفاع میں ویڈیوز بنائی جن پر لاکھوں ویوز آئے ۔بھارت کی طرف سے میری ویڈیوز اور اکاونٹ کو رپورٹ کردیا گیا۔سب لوگ ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں لیکن انڈیا ٹوڈے اور ری پبلک نے کاپی رائٹ اسٹرائک کرکے میرے ٹویٹس ڈیلیٹ کروائے بعد میں اکاونٹ معطل ہوگیا میرے فالورز تیس ہزار سے زاید تھے۔اسکے بعد میں نے دوسرا اکاونٹ بنایا جس کے فالورز کی تعداد چوبیس ہزار سے زاید تھی جس کو 5 اگست کی کشیدگی کے بعد معطل کردیا گیا۔میں صرف فنی ویڈیوز بناتا ہو کیا طنز و مزاح کرنا آزادی رائے نہیں ۔میں کشمیر کے لئے آواز بلند کرتا ہو اور کرتا رہو گا ۔مجھے امید ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور ہمارا مقدمہ امریکہ میں ٹویٹر کےدفتر میں پیشں کریں گے۔مجھے پی ٹی آئی کی حکومت نے مایوس کیا وہ ہمارے لئے آواز نہیں بلند کررہے اس سے میں بہت دل برداشتہ ہوا۔سوشل میڈیا صارفین پاکستان اور کشمیر کی آواز ہیں ۔ٹویٹر پر انڈیا کی طرف سے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

ٹی آر ٹی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کو ایسے ہی معصم ارادہ رکھنا ہوگا ۔ہم نے معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے رکھ دیا ہے ۔ان کے جواب پر منحصر ہےورنہ ہمارے پاس اور آپشن بھی ہیں ۔

 



متعللقہ خبریں