پاکستان کی بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت

بھارت کی جانب سے تحریری درخواست کی گئی تھی کہ بھارتی وزیراعظم کے طیارے کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جائے

پاکستان کی بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت

پاکستان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے طیارے کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

بھارت کی جانب سے تحریری درخواست کی گئی تھی کہ بھارتی وزیراعظم کے طیارے کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ فروری میں بھارتی فضائیہ کے طیاروں کی دراندازی کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود کو بھارت کے لیے بند کیا ہوا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو کرغستان کے شہر بشکیک جانا ہے جہاں وہ 13جون کو شنگھائی تعاون تنظیم سمٹ میں شرکت کریں گے

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس کل سے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شروع ہورہا ہے جس میں بھارت اور پاکستان کے سربراہان مملکت بھی شریک ہوں گے۔

اس اجلاس میں شرکت کے لئے بھارتی وزیراعظم کا طیارہ پاکستان کی حدود سے گزر کر بشکیک جائے گا اور نئی دہلی حکومت نے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ وزیراعظم عمران خان بھی دو روزہ سربراہ کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

فروری میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارت کے لیے بند کردی تھی جس سے بھارت کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ دہلی سے ایمسٹر ڈیم اور یورپ کے دیگر شہروں کی پرواز کے دورانیے میں22فیصد اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے بھارتی ایئرلائنز کو اوسطاً 913کلومیٹر زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑرہا ہے۔

طویل پروازوں کے سبب ہونے والے اخراجات کے باعث بھارتی ایئرلائن جیٹ ایئر اپنے طیارے گراؤنڈ کرچکی ہے یہاں تک کہ اسٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی سے بھی قاصر ہے۔

 

 



متعللقہ خبریں