تجزیہ 23 (جدید دور اور ماہِ رمضان)

ماہ رمضان کی فضیلتوں کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کا جائزہ

تجزیہ 23 (جدید دور اور ماہِ رمضان)

آج  کے اس تجزیے کو ایک چینی بددعا کے ساتھ شروع کرتے ہیں:" تمھیں عجیب و غریب  دور میں زندگی بسر کرنا نصیب ہو"ہم نہیں جانتے کہ چینی لوگوں کا  اصل مفہوم کیا ہوتا ہےتا ہم ہر طرح کے  آرام وآسائش کی سہولتوں  تک رسائی  ہو سکنے والے موجودہ جدید دور میں انسانوں کے تنہا اور ان کی  قدرو قیمت نہ  ہونے کا بحران ہم سب کے سامنے ہے تو ہمارے خیال میں مذکورہ  عجیب و غریب دور کچھ ایسا ہی ہو گا۔۔

سامعین انقرہ یلدرم بیاضید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔

دردمند جدید انسان۔۔

در حقیقت جدید دور کا بالکل تنہا انسان، دیگر جانداروں سے بھی زیادہ قابلِ رحم صورتحال سے دو چار ہے۔ جدید انسان نے فطرت، رسم و رواج، دین، اقدار،  ہر طرح کی حدود کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے  اور محض اپنی من مانی سوچ  کے مطابق اپنی خدائی کااعلان کر رکھا ہے۔ اس نے مصنوعی ذہانت کی طرح کی کوششوں کے ذریعےابدیت کی جستجو جاری رکھی ہوئی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری تخلیق  ابدی نہیں فانی ہے۔

تاریخ کی کسی دوسرے دور میں جدید انسان کی حد تک لا محدود خواہشات کی بنا پر ہر چیز کے ہوتے ہوئے بھی مفلسی، ہجوم کے درمیان تنہائی کے احساسات، ہر طرح کے مواقع پائے جانے کے باوجود لاچارگی کااحساس  کا  کیا کسی دوسرے دور میں بیک وقت  مشاہدہ ہوا ہو گا ، ہم نہیں جانتے۔

جدید انسان۔۔ہر چیز کا بے جا خرچ کرنے والے معاشرے کے غلام کی مانند ہے۔۔ جو کہ  فطرت، اشیا، اصولوں، اقدار، رسم و رواج کو قابلِ تصفیہ کی ماہیت دیتے ہوئے خرچ کر ڈالتا ہے۔ ۔

جدید دور کے انسان کو ہر چیز کو خرچ  کر دینے کی خود غرضی سے نجات دلانے والی، ایک لمحہ کے لیے رکتے ہوئے استاد نجیب فاضل کے قول،اے ہجوم رک جا یہ بند گلی ہے، اگر میں بازو پھیلاتے ہوئے گڑگڑاوں تو۔  کیا ایسا  دور نہیں آسکتا  جو مجھے جھنجھوڑتے ہوئے واپس لے آئے؟ اپنے آپ پر نظر ثانی کرنے کی عادت ہونے والے ایک دور کی جانب؟ آیا کہ مذاہب، نظریات اور طرز فکر کے درمیان ایسی کوئی ریت پائی جاتی ہے کا سوال کریں تو شاید ماہِ رمضان ٹھیک اسی چیز کی تلاش کا جواب ہو گا۔

روزے کا مفہوم

جدید انسان کو اس بحران، خود غرضی  اور تنہائی سے نجات دلانے  والا عمل محض اپنے لیے زندگی نہ گزارنا اور  ہر چیز کو ذاتی تسکین کےعنصر کی ماہیت میں  نہ بدلنا ہے۔ ماہ صیام اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کا موقع فراہم کرنے والا ایک مقدس مہینہ ہے۔

موجودہ دور میں انسانوں کے تین بنیادی مسائل شاید، عدم انصاف، مختلف انسانوں کے ساتھ  مل جل کر زندگی گزارنے سے پرہیز کرنا اور غیر حصہ داری ہیں۔ یہ مقدس ماہ ان تمام خامیوں کو بیک وقت دور کیے  جاسکنے کا موقع فراہم کرنا ایک دورانیہ ہے۔

روزہ رکھنا کم ازکم معینہ دورانیہ  کے لیے طرح کی کھانے پینے کی اشیا سے پرہیز کرنا ہے۔ مزید  برآں ، اپنے بدن کو تمام تر نعمتوں سے محروم رکھتے  وقت اللہ کریم کی تمام تر نعمتوں کو یاد  کرنا ہے۔

روزہ، انسان کو فضول خرچی سے نجات دلاتے ہوئے اسے اصل آزادی کے جذبات و احساسات سے سرشار کرنے کا ایک دوسرا نام ہے۔ اس ماہ میں روزہ  رکھنا محض پیٹ باندھنے کا مفہوم نہیں رکھتا بلکہ یہ زبان، ذہن اور برتاؤ میں نہار لانے کی بھی  تبلیغ کرتا ہے۔ ماہ ِصیام ہمارے جسم و بدن ہمارے ریزے ریزے کو ہر طرح کی برائیوں سے پا ک کرنے والا بھی مہینہ ہے۔

روزہ اولین طور پر دل و دماغ کی صفائی کرتا ہے،مسلسل دوسروں کے مال و دولت پر نظر رکھتے ہوئے ان سے زیادہ کمانے کی حرص رکھنے والے انسانوں  کے دل و دماغ کو فراغت دلاتا ہے، یہ  ہر طرح کی آرائش و زیبائش سے مالا مال ہونے کے باجود لالچ ، طمع  کی بیماری سے نجات دلانے کا وسیلہ ہے۔

مل بانٹنے اورامن و تسکین کا ماہ

ماہ رمضان لسانوں، نسلوں، رنگوں، نظریات، مذاہب سے بالا ترشراکت داری، اتحاد و یکجہتی کا ایک قیمتی دور ہے، اور شاید یہ دینِ اسلام کی کائناتی حیثیت کا خوبصورت ترین عکس ہے۔ مسلم معاشروں میں روایتی افطار دعوتوں میں ، اجتماعی افطاریوں میں کسی سے یہ سوال دریافت نہیں کیا جاتا کہ تم کون ہو۔ جیسا کہ حضرت یونس ؑ کا ارشاد ہے:" ہرانسان سے رواداری سے پیش آنا ، خدائی  کا تقاضا ہے"۔

افطاری کےکائناتی پیغام اور یکسانیت کی عکاسی غیر مسلم معاشروں  میں بھی ہوتی ہے۔ ہمارے جغرافیہ میں مسلم معاشرے، ہمسایوں اورغیر مسلمانوں کو بھی دستر خوانِ افطار میں مدعو کرتے ہیں۔اس کائناتی پیغام پربعض مملکتوں میں بڑھ چڑھ کر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ہر برس ماہ رمضان میں وائٹ ہاؤس اور بض مغربی سرکاری مقامات پر دعوتِ افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں یہ مہینہ ترک شہری سماجی تنظیموں کی جانب سے اندرون و بیرونِ ملک سب سے زیادہ امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے، دنیا بھر کے یتیموں، بے گھروں اور  حاجت مندوں  کی سب سے زیادہ خوشنودی حاصل کرنے والے ادوار میں پیش پیش رہتا ہے۔ فطرانے، صدقہ جاریہ، زکواۃ اور عطیات کے ذریعے حاجت مندوں کی ضروریات کو پورا کرنا محض اچھائی اور ایک رضا کارانہ فعل  ہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ عوامل ، انسانوں کو مفلسی و غریبی کی بنا پرلوٹ مار، چوری چکاری، غصب اور دہشت گردی کی طرح کے غلط راستے سے باز رکھتے ہوئے عالمی امن کے قیام میں انتہائی اہم خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔ کیونکہ یہ امداد، اعانت   اور امن و آشتی  کے ماحول میں زندگی گزار سکنے کی بنیاد کو تشکیل دیتاہے۔ امیر ترین ملک نہ ہونے کے باوجود ترکی اپنی قومی آمدنی  کے مطابق سب سے زیادہ مالی امداد فراہم کرنے والی ایک مملکت کے طور پر نہ صرف بے یارو مدد گار وں کی جانب ہمدردی کا ہاتھ بڑھاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ امن و امان  کے قیام میں اہم سطح کی خدمات بھی ادا کر رہا ہے۔

اعداد و شمار اور اندازوں کے مطابق  جرائم کی شرح کم ترین ہونے والا ماہِ صیام  ہی ہے۔

یاد دہانی، میل جول اور صلح کرنے کا ماہ

ترکی میں ماہ  رمضان کو بڑے اہتمام کے ساتھ گزارا جاتا ہے، ملک بھر میں افطاریاں، سحریاں، تروایح نماز، شب ِ قدر اور اس شب کے لیے مخصوص سرگرمیاں ، دعوتیں ، تقریبات، سحری کے ڈھول اور نعت و قرآن خوانی  اس ماہ کے لازمی جزو ہیں۔ یہ تمام تر سرگرمیاں پورے معاشرے سے بغلگیر ہونے کا مفہوم رکھتی ہیں اور اجنبی کو بھی اپنا ہی ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔شایدیہ  ترک ملت کو اجنبیت  کے احساس سے عاری کرنے والی  چند ایک اقوام کی صف میں شامل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

رمضان فراموش کردہ اقدار کی یاد دہانی  کرانے،صلح کرنے اور میل جول بڑھانے والا ایک مقدس ماہ ہے۔ یہ ایسی یاددہانی ہے کہ نہ صرف بڑے بزرگوں کی زیارت کرنے بلکہ چاند رات کو اور عید کی صبح عزیز و اقارب کی قبروں پر حاضری کا وسیلہ  بھی ثابت ہوتا ہے۔ قبرستان کی زیارت شاید  مرحومین سے  بڑھ کر  باحیات انسانوں کی زندگیوں  کے لیے منافع بخش ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ شاعر سیزائی قارا کوچ  نے کہا ہے:"یہ ہمیں قبروں سے اٹھنے والے موسم بہار کا احساس دلاتا ہے"۔ یہ حاضری دنیاوی زندگی کے فانی ہونے کی یاد دہانی کراتے ہوئے  کائنات کے اندر ہمارے وجود کے اصل معنی کا احساس بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ مسائل کے بوجھ ، نا قابل دوری اشیا اور حصول کی دوڑ میں ہونے والی چیزوں  کو معمولی بنا دیتا  ہے۔ قبرستان میں حاضری ہمارے نقطہ نظر، مؤقف اور سوچ میں ایک بار پھر درستگی لانے کا بھی وسیلہ ثابت ہوتی ہے۔

ماہ صیام بیک وقت ناراضگیوں کے خاتمے، ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے والا امن کا پیامبر بھی ہے، یہ ہمسایوں، عزیز اقارب، دوست و احباب  سے مل بیٹھنے کا بھی دورانیہ ہے۔ عید ملن، بڑھے بزرگوں کی زیارت جدید دور کے انسان کو تنہائی سے نجات دلاتے ہوئے دوستی و میل جول کی ترغیب بھی دیتی ہے۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایک سروے کے مطابق ترک انسانو ں کا 84 فیصد عید ِ سعید کے موقع پر اپنے عزیز و اقارب سے عید ملن کرتا ہے۔

اس خوبصورت  بات چیت کو ہم ایک تجویز کے ساتھ نکتہ پذیر کرتے ہیں:" ماہِ صیام جدید دور کے انسانوں کو تنہائی کی زنجیروں سے نجات دلانے، آزادی کا احساس دلانے ، معاشرے ، قدرت اور دیگر جانداروں کے لیے زیادہ احساس مند ہونے، برکتوں، رحمتوں اور عالمی امن  میں معاونت فراہم کرنے جیسی خصوصیات سے مالا مال ہونے کی بنا پر یونیسکو کےغیر جسمی ثقافتی ورثوں میں شامل کیے جانے کی ضرورت ہونے والا ایک مہینہ ہے۔" یا پھر اگر عالمی امن میں خدمات کا ایوارڈ انسانوں یا اداروں کے علاوہ کسی وجود کو دیا جانا ہے تو اس کا بہترین امیدوار ماہِ رمضان ہی  ہے۔

ہم آپ تمام دوستوں ماہ صیام اور عیدالفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔



متعللقہ خبریں