تجزیہ 22 (فرانس:جیکوبن سیکولرزم)

سیکولرزم کی آڑ میں مسلمانوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے، پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کا اس موضوع پر تجزیہ

تجزیہ 22 (فرانس:جیکوبن سیکولرزم)

ذرا سوچیں کہ  ترکی یاپھرآپ کے رہائش کردہ ممالک  میں والدین کے یہودی اور عیسائی لبادہ پہنتے ہوئے اپنے بچوں کے ہمراہ اسکول ٹرپ پر جانے کی پابندی عائد کردی جائے۔

آپ کو یقیناً اس پر یقین نہیں آئے گا، آپ کہیں گے اس دور میں ایساکیسے؟   آپ کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات اٹھیں گے ،  یہ کیسی جہالت ہے،   کیسی  دقیانونسی  ہے۔

سامعین انقرہ یلدرم بیاضید یونیورسٹی کے شعبہ  سیاسی علوم کے ڈین پروفیسر  ڈاکٹر قدرت بلبل کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ  ۔۔۔۔

ٹہریں ، بالکل فکر مند نہ ہوں، ایسی کوئی چیز ترکی  میں یا پھر آپ  کے رہائش کردہ ممالک میں نہیں بلکہ فرانس میں پیش آئی ہے۔ فرانس، مسلمانوں  کے لیے اس قسم کا فیصلہ کرنے کی کوششوں میں  ہے۔ فرانسیسی سینٹ نے حکومت کی جانب سے تیار کردہ                                  اسکولوں کے قانون کے دائرہ کار میں اسکول ٹرپ میں اپنے بچے کی رفاقت کرنے والے   سرپرستوں کے ہیڈ اسکار ف اوڑھنے پر  پابندی عائد کرنے والی شق کی منظوری دے دی ہے۔  اس قانون پر عمل درآمد کے لیے پارلیمنٹ  کی منظوری لازمی ہے۔

فرانسیسی  وزیر تعلیم بلینقر   نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ  وہ اسکول ٹرپس کے دوران  سرپرستوں  کی جانب سے مذہبی علامتوں  کا استعمال نہ کرنے کے لیے ہر ممکنہ جدوجہد کریں گے۔ ہیڈ اسکارف اوڑھنے والی ماؤں ، طلباء کے قریبی عزیز و اقارب ، پرائمری اسکولوں    کے طالب علموں کو اسکول ٹرپس میں شمولیت سے سیکولرزم اصولوں کے مطابق روکنے والا  بل، اسکول ٹرپ میں سرپرستوں  کے "عارضی سرکاری ملازم"کی حیثیت حاصل کرنے  کے جواز میں کسی قسم  کی مذہبی علامت  کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

فرانس  میں ، متعدد مغربی ممالک  میں خاصکر آسڑیا میں  اس طرز کےعمل درآمد اب معمول کی بات بن چکے ہیں۔ محض یہ عمل درآمد جیسا کہ اس سے قبل کے کالموں میں              ذکر کیا گیا تھا ، مغربی ممالک کے کس  حد تک خود اعتمادی اور آزادی بحرا ن  سے نبرد آزما ہونے کا مشاہدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔  آئیے  اب مزید مثالوں  پر بات کرنے کے بجائے فرانس  میں مذکورہ عمل درآمد کے بتدریج کس جانب آگے بڑھنے اور آزای بحران    سے نبردِ آزما  ہونے کے حوالے سے  بات  چیت کرتے ہیں۔

اس قانون   پر یہودی اور عیسائیوں کے لحاظ سے  ایسی کوئی چیز موجود نہ ہونے  کی بنا پر اس پر نکتہ چینی کی جا سکتی ہے۔  لیکن مختلف طرز زندگی کے عمل کو ختم کرنے والے، دباؤ،  بنیادی و مذہبی آزادی و، حقوقِ انسانی  کے منافی ایک عمل درآمد کو  مساوات کے نام  پر   ہر کس پرلاگو کرنے کی خواہش  رکھنا ویسے بھی ایک  ذی فہم بات نہیں ہے اور مساوات کے منافی ہے۔تا ہم   شاید اس چیز کا دفاع کرنا چاہیے کہ دباؤ اور عدم آزادی  میں مساوات نہیں ہونی چاہیے۔

اپنے مقصد سے ہٹ کر دباؤ کا آلہ کار بننے والا سیکولرزم

مغرب کے لیے سیکولرزم  مذہبی جنگوں سے نجات پانے کے لیے ایک مثبت قدم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مختلف طرز زندگی  کے حامل انسانوں کو زندہ رہنے کا حق  دینے والا اور مذہبی آزادی کا تحفظ  کے زیر مقصد فروغ دیا گیا ایک میکانزم ہے۔  ترکوں کی تاریخ کے اعتبار سے  ملکی سرحدوں کے اندر ہر کسی کو اپنے اپنے مذہبی فریضے ادا کرنے کا حق حاصل تھا۔مغرب میں سیکولر نظام سے متوقع  فائدہ  دین اسلام کی رواداری  اور اکثریت کے تبصرے سے  کافی حد  تک مشابہ تھا۔

اسرائیل  کے شعبہ تاریخ کے ایک پروفیسر   یووال نو آہ  حراری جو کہ حالیہ ایام میں ایک مقبو ل مصنف بھی  ہیں    کی مندرجہ ذیل تحریریں اس صورتحال کو واضح کرتی ہیں۔

"وسطی دور کے یورپ میں تحمل و برداشت کا  نام و نشان تک نہ  تھا۔۔۔سولہویں صدی میں پیرس میں ہر کوئی کیتھولک تھا۔ اگر یہاں سے کوئی پروٹسٹنٹ  شہر کو جاتا تھا تو اسے قتل کر دیا جاتا تھا۔ دوسری جانب لندن میں ہر طرف پروٹسٹنٹ آباد تھے۔ ان کے ساتھ بھی یہی  ہوتا تھا جو کہ فرانسیسی کیتھولک سے ہوتا تھا۔  ان ایام میں کوئی بھی مسلمانوں کی یورپ  آمد کے حق میں نہیں تھا۔ ایسا ہے کہ انہی ایام میں استنبول میں مختلف مذاہب  سے تعلق رکھنے والے مسلمان، کیتھولک ۔ آرمینی، اورتھاڈکس،  یونانی اور  بلغاری شہری ایک ساتھ مل کر زندگی بسر کیا کرتے تھے۔

مغرب میں سیکولرزم  کو مختلف اعتقاد، طرز زندگی  کو ایک ساتھ جاری رکھے جانے  کے ایک آلہ کار ایک میکانزم  کی حیثیت سے  تصور کیے جانے کے  باوجود خاصکر فرانس میں عمل درآمد میں سیکولزم ، زیادہ تر دین کے نام پر        کیے گئے حملوں کے ایک آلہ کار کی ماہیت میں بدلنے کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔جیسا کہ مندرجہ بالا مثال  میں واضح  کیا گیا ہے ، نہ صرف سیاست سے بلکہ زندگی  سے بھی  دین و مذہب کو بالکل علیحدہ کرنے کی کوششوں پر کام ہو رہا  ہے۔  ایک مذہب کے دباؤ  کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے وقت  سیکولرزم زندگی کے تمام تر شعبوں میں تمام تر مذاہب  کو دباؤ میں لینے والے کسی نئے دین کی ماہیت اختیار کر چکا ہے۔ایسا ہے کہ اس کے فریم کو مذہبی  شخصیات نے ترتیب نہیں دیا  اور یہ اسمبلیوں اور عدالتوں کی جانب سے تعین کردہ کسی نئے مذہب کی طرح ہے۔ سیکولرزم کو مختلف طرز زندگیوں    میں دقیانوسی، جبر اور رسم و رواج  کے خلاف ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔  اگر  سیکولرزم کے ذریعے مختلف اعتقاد و طرز ِ زندگیوں کو سماجی زندگی سے مکمل طور پر خارج کیا جانا ہے  اورپورے معاشرے  کو سیکولر افراد سے  تشکیل دیا جانا مقصود  ہے تو اس طرز  کی سیکولر تشریح کا نازی ازم یا پھر کیمونزم سے کیا فرق ہو گا؟

بچے پر کس کا حق ہے؟

جیکوبن سیکولر زم  سوچ  کی جانب سے سب سے زیادہ بیان   اور دفاع کردہ  شعبوں  میں سے ایک ہے  اور یہ بچوں کو مختلف اعتقاد کے برخلاف "تحفظ" فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اوپر بیان کردہ اسکول ٹرپ کی مثال کی طرح ،  یہ نظام بچے کو  جنم دینے والے والدین کو اپنے مذہبی تشخص  روپ میں بچے کے ہمراہ اسکول  ٹرپ  پر جانے کی ممانعت  کرتا ہے۔ اس صورتحال میں بچے کی تعلیم، ثقافت اور تشخص کا تعین کرنے   کا حق کس کو حاصل  ہےپر مبنی سوال سامنے آتا ہے۔ ریاست یا پھر خاندان؟ ریاست اس بچے کو  جنم دینے والے کنبے کے  باوجود کیونکر  ایسے حق کی مالک بنے ؟  اگر خاندان بچے کو بنیادی حقوق انسانی کے منافی ، دہشت گردی کی ترغیب کرنے والی کوئی تربیت  دے رہا ہے تو فطری طور پر حکومت کو مداخلت کرنی ہو گی۔ تا ہم عام حالات میں بچے کے کس شخصیت  کامالک بننے کے معاملے میں صاحب ِ حق محض والدین ہی ہیں۔

آنگلو/ساکسون خطہ یورپ سیکولرزم

سیکولرزم  کے طور پر تشریح کردہ آنگلو ۔ ساکسون  سسٹم    مذہب کے سرکاری شعبے میں مداخلت کی  راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان ممالک میں دین و ریاست تعلقات  ایک دوسرے میں مدغم ہیں۔ برطانیہ میں ملکہ سرکاری طور پر بیک وقت اینگلی کان کلیسا کی صدر بھی تصور کی جاتی ہیں۔

یورپ میں "سابق انتظامیہ" کی زوال پذیری کے بعد سیکولرزم کے ذریعے اغراض ومقاصد کا تعین کرنے والے  اور روشن خیالی  کی بنیادوں  پر استوار  کردہ  ایک نظام  کو لاگو کرنے کی کوششیں صرف کی جا رہی ہیں۔  جس کے مطابق  دین و مذہب کو نہ صرف سیاست سے بلکہ معاشرے کے ہر شعبے سے خارج کرتے ہوئے ایک انتہائی محدود دائرے تک  قید رکھے جانے کی سوچ عام  ہے۔ یہ موقف انقلاب فرانس کیطرح  خونی انقلابات ، ہٹلر اور موزولینی  کی طرح کے خونی لیڈروں کا یورپ   سے تعلق  اس جغرافیے کے تہذیبی سطح سے کس قدر دور ہونے کا مظاہرہ کرتا ہے۔  موجودہ دور میں بھی اسی نظریے کو کچھ مختلف طریقے سے انسانوں پر تھوپنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

جیسا کہ ایک فرانسیسی مصنفہ دی باوئیر کا کہنا ہے کہ "ہم انسانوں کے  لیے وضع کردہ نظریات  سے اسقدر وابستہ   ہیں  کہ انسانیت کو فراموش  کر چکے ہیں۔



متعللقہ خبریں