حالات کے آئینے میں 51

نظریہ مملکت کا جنم میثاق مدینہ سے ہوا

871450
حالات کے آئینے میں 51

نظریہ مملکت   کی افلا طون سے عصر ِ حاضر   تک آنے  والی اصطلاح کچھ یوں ہے:"زمین سالمیت   سے وابستگی کے  ساتھ سیاسی    اعتبار سے منظم ہونے والی قومی   یا  پھر مختلف   اقوام  پر  مبنی  ایک طبقے کی جانب سے تشکیل دیے گئے سرکاری  وجود کو مملکت   کہا جاتا  ہے۔ "

سیاسی   لحاظ سے  منظم ہونا نمایاں  اصولوں  اور بنیادوں پر   عمل میں آتا ہے۔ یہ اصول  وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  قوانین اور حقوق کے زیر نام   از سر نو تشکیل دیے گئے ہیں۔

مغربی  اقوام  قوانین کو سرکاری حیثیت  دیے جانے  کی تاریخ کو سن 1215 میں  طے پانے والے ماگنا کارتا معاہدے سے    شروع کرتے ہیں۔

جبکہ  مسلمان  طبقہ اسے   مدینہ معاہدے یا پھر  دیگر وسیع  پیمانے پر  استعمال کیے  جانے والے  میثاق ِمدینہ سے  تعبیر کرتا ہے۔

پیغمبر  اسلام  حضرت محمد ؐ نے مکہ  والوں کے  مظالم   کے باعث اللہ تعالی  پر ایمان لانے والوں کے ہمراہ    مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت کرنے کے بعد  بذاتِ  خود  اس معاہدے کو   سن 623 میں  وضع کیا تھا۔ یہ معاہدہ   رسول ِ اکرم ؐ اور مسلمانوں، یہودیوں اور پاگانیوں  کو اپنے اندر شامل کرنے والے وسیع ترین  پیمانے کے حقوق انسانی  کی اسناد  کی خصوصیت کا حامل ہے۔

ان اسناد  میں   دوقبیلوں   کے درمیان  جھڑپوں کا خاتمہ کرنے کا ہدف  ہونے والے نکات    موجود ہونے کے باوجود اس کا مرکزی   خیال ، انسانوں کے انفرادی اور سماجی طور پر حق و آزادی کو ضمانت میں لینا تھا۔ علاوہ  ازیں یہ    منتشر شکل میں ہونے والے قبائل  کو اُمت  یعنی  مملکت  کے زیر  نام کسی واحد معاشرے کی حیثیت سے یکجا کرنے اور  ہر کس کی ایک دوسرے  پر ذمہ داریوں  کی  تقسیم کے اعتبار سے انسانی   ورثے کا پہلا اور جامع ترین آزادی اعلامیہ ہے۔

میثاق ِمدینہ  امت کے شعور ، سماجی تعاون، سیاسی یکجہتی ، مشترکہ  دفاعی  کسی ڈھانچے  کی تجویز کے  لجاظ سے بھی  یہ قابل  توجہ   ایک تاریخی، سیاسی اور قانونی  متن ہے۔

مشرق اور مغرب  کے انسانوں کی جدوجہد زندگی ، تمام  تر حکمرانوں، ڈکٹیٹروں اور ظالم    حکام کے برتاؤ کے  باوجود  مکمل   طور پر انصاف پر مبنی کسی دنیا کے  قیام کی  جدوجہد بھی  اس میں پوشیدہ ہے۔  مملکت کی طاقت کے فروغ ، قوم کے شعور کے عام  ہونے کے ساتھ نظریہ   انصاف کے  کائناتی اقداد کی ماہیت اختیار کرتے ہوئے "بین  الاقوامی قانون"   کا قیام بھی اسی  کا مرہون  منت ہے۔  اور  تقریبا ً ہر دور  میں تمام تر مملکتوں نے   منسلک ہونے والے بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کی  ضمانت دے رکھی ہے۔

پہلی اور دوسری جنگ عظیم  کی تباہ کاریوں نے انسانوں  کو ایک  کائناتی ادارے اور ایک نئے قانونی نظام  کے گرد یکجا ہونے پر  مجبور کیا۔  بنی نو انسانوں  کو بین الاقوامی قوانین اور  حقوق کا تحفظ کرنے والے کسی ادارے کی عدم موجودگی کی بنا پر ان دونوں  جنگوں میں   کروڑوں کی تعداد میں  ہلاکتوں  اور  اس سے کہیں زیادہ تعداد میں زخمیوں کے ساتھ اس  چیز کا  ہرجانہ ادا کرنا پڑا۔   یہ مجبوری 25 اکتوبر سن 1945   میں امریکی شہر سان فرانسسکو میں  اقوام متحدہ کے نام سے  ایک بین الاقوامی تنظیم کے قیام  کا موجب بنی ۔  عالمی امن،  سلامتی کے تحفظ اور  عالمی اقتصادیات، معاشرتی و ثقافتی  تعاون  کو تشکیل دینے کے لیے  قائم کی جانے والی اس تنظیم  میں  مذکورہ دونوں  عظیم جنگوں   کی تخریب  کاریوں کی بنا پر    تقریباً تمام تر ممالک نے شرکت کی۔

اقوام متحدہ نے خاصکر سرد جنگ کے دور میں   سنجیدہ سطح کی خدمات ادا کیں۔  1960 کی دہائی سے ابتک    انفرادی اور مملکتی طور پر  بین الاقوامی قوانین  کا تحفظ کرنا  کٹھن بنتا جا رہا ہے۔  بالٹا معاہدے اور  اس  کے  ضمنی معاہدوں سمیت دوسری جنگ عظیم   کے بعد قائم  ہونے والے تمام تر  عالمی ادارے آج  بنی نو انسانوں کے لیے  بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔  خاصکر  طاقتور مملکتیں   ان اداروں کو  کمزور   یا پھر چھوٹے ملکوں کے خلاف ایک مہرے کے طور پر استعمال    کر رہی ہیں۔  مثال کے طور پر امریکہ  نے عراق میں جوہری اسلحہ موجود ہونے کے   جواز میں اس ملک پر قبضہ جما لیا تھا جو کہ  دس لاکھ سے زائد انسانوں کی ہلاکتوں اور   کروڑ سے زائد کے مہاجر  وں کے زندگی بسر کرنے کا موجب بنا۔  اس نے بالا آخر عراق میں جوہری اسلحہ  موجود نہ ہونے کا اعتراف کر لیا۔ اس  حقیقت کے باوجود کوئی بھی  عالمی ادارہ امریکہ سے اس فاش غلطی   کا حساب  پوچھنے کی  ہمت  نہیں  کر سکتا۔

حالیہ ایک چوتھائی صدی میں تمام  تر امریکی  صدور نے افغانستان، فلسطین ، شام اور عراق  میں  لاکھوں انسانوں   کی ہلاکتوں کا موجب بننے والی  جنگیں چھیڑیں اور تصادم   کا ماحول پیدا کیا۔ تا ہم  کسی بھی امریکی صدر کو عالمی عدالتی دیوان میں  پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سے کوئی سوال  کیا گیا ہے۔

 اسی طرح اسرائیل بھی 1960 سے ابتک اقوام متحدہ کی کسی بھی قرار داد کو تسلیم   نہ کرتا  چلا آیا ہے۔  اپنے قیام کے دن سے لیکر   اپنے ہمسائیوں کی سرزمین   پر جھڑپوں کے ذریعے قبضہ جمانے والا اسرائیل ، فلسطین کی   باقی ماندہ  مختصر سی سر زمین پر بھی قبضہ جمانے کے درپے ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ عالمی قوانین میں  تمام تر جھڑپوں کے حوالے سے  نکات اور اساس وضع ہیں۔  قوانین  واضح اور قطعی  ہیں ، بین الاقوامی قوانین  اصولوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ جنگوں کے ذریعے  زمینوں پر قبضہ نہیں جما یا جا سکتا۔ تاہم اسرائیل   اس ہٹ دھرمی کو اپنے وجود  کے عمل  میں آنے کے دن سے جاری رکھے ہوئے ہے۔  مثال کے  طور پر گولان  پہاڑی سلسلوں  پر اس نے 1967 میں اسلحہ کے بل بوتے قبضہ جما لیا۔  عالمی قوانین کی رو سے اسے  اس سرزمین کو فوری طور پر  واپس   کرنا لازمی تھا۔  لیکن یہ کئی ایک مغربی ملکوں  کی غیر رسمی اور امریکہ کی واضح حمایت  کی بنا پر 50 برسوں سے  اس  سرزمین پر  قبضہ جمائے بیٹھا ہے اور یہ نہ ہی قانونی  طریقوں سے  اس چیز پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

اسرائیل  کی جانب سے  جھڑپوں اور  قبضے کے جاری  ہونے والے فلسطین   کے ساتھ ہم سب کو عالمی قوانین کے دائرہ کار میں   مذاکرات کی میز پر یکجا ہونا چاہیے۔ لیکن اسرائیل مذاکرات کرنے کے بجائے  فلسطین اور مملکت ِ فلسطین  کے وجود سے منکر ہے اور  یہ اس مؤقف کو اقوام متحدہ  کے چبوترے پر  یعنی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کر رہا ہے۔

تا ہم اسرائیل جیسا کہ  جمہوریہ ترکی کے صدر جناب ایردوان  نے کہا ہے "ریاستی دہشت گردی" کو رسمی پالیسیوں   کی حیثیت دینے  کے عمل سے باز نہیں  آرہا ۔ آج امریکہ اور طاقتور ممالک  بذات خود تشکیل  کردہ  عالمی قوانین کے نظام کو  خود ہی اپنے پاؤں تلے روند  رہے ہیں۔

اس سے بھی  کہیں زیادہ  خوفناک  چیز یہ ہے کہ   ہماری دنیا کو افراتفری   کی جانب سے دھکیلنے سے  اپنے مفادات  کے حصول کے درپے  ہونے والی  طاقتور  مملکتیں ان پالیسیوں پر  عمل پیرا ہیں۔  مظالم اوغنڈا  گردی   کو اپنا شعار  بنانے  والے امریکہ اور اسرائیل    کے "انصاف" اور "کائناتی حقوق"  کا واویلا مچانے پر اب  ان کی صداؤں پر   کان دھرنے والا  نظام  کا وجود  شاید ہی اس دنیا میں باقی بچے۔

 



متعللقہ خبریں