حالات کے آئینے میں 13

یورپی  دوستوں کو  یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے  کہ دہشت گرد تنظیموں  میں  اچھی اور  بُری تنظیمیں   نہیں ہوتیں

700140
حالات کے آئینے میں 13

نائب وزیر  اعظم نعمان قرتلمش  نے انادولو ایجنسی   کے  ایڈیٹر ڈیسک کو یورپی ممالک کے   ترک سیاستدانوں  کے ساتھ  مؤقف کے   حوالے سے  اظہار خیال کرتے ہوئے  کہا ہے کہ  " ترکی کی   منتخب شدہ حکومت کے ارکان اور   ممبر انِ اسمبلی  کو وہاں  پر بات کرنے کا حق نہ دینے  والوں نے   علیحدگی پسند تنظیم PKK   کو پولیس کی نگرانی میں   جلسے کرنے  اور  'منفی' پراپیگنڈا کرنے  کی   اجازت دی  ہے  یہ ناقابل قبول  فعل ہے۔ "

انہوں نے کہا کہ "یورپی   دوستوں کو  یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے  کہ دہشت گرد تنظیموں  میں  اچھی اور  بُری تنظیمیں   نہیں ہوتیں،  اگر اس  دہشت   گرد تنظیم کی   اسی طرح  پشت پناہی    اور  طرفداری کی جاتی رہی  تو   پھر ایک  دن   یہ یورپی سیاستدانوں کو بھی نقصان پہنچائے  گی۔    ویسے  یہ  پہلے بھی نقصان پہنچا چکی ہے، ان کو  اولوف  پالمے کے قتل کو  نہیں  بھلانا چاہیے۔  یورپ کے   جمہوریت اور اعتدال   پسند ترین    سیاستدانوں میں شمار کیے جانے والے   پالمے کو    PKK نے  سن 1986 میں قتل کر دیا تھا۔ یعنی ہم    یورپ  کے مرکز  میں بھی  یورپی سیاستدانوں کو   اپنے  گندے عزائم کا   نشانہ بنانے وا لی ایک  دہشت گرد تنظیم کی بات کر رہے ہیں۔ "

جناب قرتلمش   کا کہنا تھا کہ  یورپ سے    نیو نازی زم، انتہائی  نسل  پرستی، نیو فاشزم  کے  قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ ماضی قریب میں   ہٹلر اور موزولینی   کے فاشزم   سے    بری طرح متاثر ہونے والے   یہی یورپ  تھا۔ یورپ کی  قریبی  تاریخ، پہلی اور دوسری جنگ عظیم  کا درمیانی   عرصہ ایک     خونریز    دور  تھا۔ اس خونی ماضی   کی بنیادی   وجہ  انتہائی  نسل پرستی  کے نظریات  اور عوامل تھے۔

 جناب  قرتلمش   کا کہنا تھا  کہ یورپ کی جانب سے  16 اپریل   کے  ریفرنڈم     میں یورپ  میں  مقیم ترک تارکین وطن    پر      پولنگ میں حصہ لینے کی   راہ میں  رکاوٹیں پیدا کر نے  کی   خبریں  بھی   سامنے آنے    لگی ہیں،  تا ہم کوئی بھی  طاقت  ہم وطنوں کو حق رائے دہی کے استعمال سے نہیں  روک سکتی۔

ترکی میں نئے نظام کے  صدر   کی نگرانی  نہ کر سکنے کے دعووں   کے حوالے سے  انہوں نے بتایا کہ  "اس سے بالکل  برعکس   صدر کے پاس وسیع  پیمانے کے اختیارات ہونے  کے ساتھ ساتھ ان پر بھاری ذمہ داریوں بھی عائد ہوں گی۔ صدر قومی اسمبلی سے   بڑھ کر قوانین  بنانے      کے اختیارات   کا مالک    نہیں ہو گا۔

صدر کی جانب سے جاری کردہ  قوانین   کے نکات میں قرار دادوں کے منافی ہر گز کوئی عوامل شامل نہیں ہوگا۔ یعنی       قانونی گروہ بندی کی گئی ہے،  آئین     کو  ایک باضابطہ بنایا گیا ہے۔ نئے نظام میں وزیر  اعظم نہ ہونے  کی وجہ سے   وزیر  اعظم کی جگہ   حکومتی سربراہ   صدر  ان قوانین کا  نفاذ کرے گا۔ تا ہم    کوئی بھی نکتہ  قوانین کے منافی نہیں ہو گا۔

ترکی  میں  اب کے بعد  50 فیصد سے زائد ووٹ لینے والا امیدوار صدر    بنے گا اور  یہ حکومتی نظام کو تشکیل دے گا۔ لہذا  عوام کے ساتھ  کہیں  زیادہ    اچھے تعلقات قائم کرتے ہوئے   عوامی مطالبات  اور   توقعات کو پورا    کر سکے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عوام  کی بھی مطلوبہ  شخصیت کو امیدوار  کھڑا کیا جانا چاہیے۔ در اصل   یہ حزب ِ اختلاف کو زیادہ   بڑے   مواقع فراہم کرتا ہے۔

"تین ملین  شامی شہریوں کو   ترک شہریت دینے    کی افواہیں   مکمل طور پر    من گھڑت ہیں"

نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ     ترکی میں موجودہ تیس لاکھ شامی  پناہ گزینوں کو   ترک شہریت دیے جانے  کی     خبریں    مکمل  طور  پر جھوٹ  ہیں۔ اس  معاملے کو   بعض لوگ اپنے   مفاد کے لیے استعمال  کر رہے ہیں،   یہ  ہمارے ہم وطنوں کو  بے چین  اور خوفزدہ کرنے کی   ایک چال ہے۔

شامی پناہ گزینوں کو شہریت  دیے جانے      پر کوئی کام نہیں کیا جا رہا۔ اس   معاملے کو اچھالتے ہوئے  ہمیں  برا دکھانے کی کوششیں صرف کی جا رہی ہیں۔ یہ ہمارے دوست و بھائی ہیں۔  ہم  ان کو  اپنے وطن میں  کسی مہمان  کی  طرح   کا سلوک کر رہے ہیں اور ان کی ہر ممکنہ سہولت  کے  لیے  کوشاں ہیں۔

انہوں نے مزید  بتایا کہ   ہم نے تیس لاکھ  سے زائد مہاجرین  کو  پناہ دی،  اپنی   روٹی  کو ان کے ساتھ بانٹا،   اللہ  تعالی کا شکر ہے کہ  ہم سب میں  مہمان نوازی اور مدد شناسی کا مادہ  موجود ہے۔   بعض مسائل کا سامنا ہونے کے ساتھ ترکی کو شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے سماجی مسائل کا سامنا نہیں ہے۔ اس قوم کی مہمان نواز کا کوئی  مذاق اڑانے کی کوشش نہ کرے۔  یہ  سب مظلوم اور ہمارے بہن بھائی ہیں جو کہ  مجبوراً ہمارے وطن میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

"یہ کھلم کھلا  دہشت گرد تنظیم  فیتو کی پشت پناہی کے مترادف ہے"

نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یورپ  میں  ترک باغیوں کو پناہ دینا اور ان  سے بغلگیر ہونا ایک غیر انسانی  فعل ہے۔جسے  قبول  کرنا  نا ممکن ہے، یہ سرا سر ایک غلط امر ہے، جو کہ فیتو  کی پشت پناہی کرنے کا عکاس ہے۔ ان     افراد کو فی الفور  ترکی کے حوالے کرنا  ان ملکوں کی ترکی کے ساتھ دوستی و باہمی تعلقات  کی  عکاسی کرے گا۔

 



متعللقہ خبریں