پاکستان ڈائری - 23

روزہ اور صحت

پاکستان ڈائری - 23

روزہ اور صحت

 

رمضان المبارک بہت ہی برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔اس بابرکت مہینے میں اللہ تعالی نے قرآن مجید کا نزول فرمایا ۔اس ماہ مبارک میں اللہ تعالی نے طاق راتوں میں ایک شب کو شب قدر قرار دیا۔جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں اور شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔

اس ماہ میں جتنی نیکیاں سمیٹ لی جائیں کم ہیں ۔اس ماہ میں ہمارا جسم بھی زکوتہ دیتا ہے۔اس ماہ میں روزے فرض جس کی وجہ سے اس ماہ کو ماہ صیام بھی کہا جاتا ہے۔

اے ایمان والوں تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تاکہ تم پرہیزگار بن جاو ؛ سورتہ البقرہ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جنت کے آٹھ دروازے ہیں ایک دروازے کا  کا نام ریان ہے جس سے صرف روزہ دار داخل ہوسکتا ہے۔

 

 

 مسلمان مرد اور عورتیں صبح فجر کی نماز سے روزے کا آغاز کرتے ہیں اور غروب آفتاب پر افطار کرکے روزہ کھولتے ہیں۔روزہ جسم سے فاسد اور فاضل مادوں کا نکالنے میں مدد کرتا ہے۔رمضان میں روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ نماز قرآن اور تراویاں بھی روز پڑھی جاتی ہیں۔ان تمام عبادت کو یکسوئی سے کرنے کے لئے ضروری کہ انسان سحری اور افطاری میں متوازن غذا کا استعمال کرے۔اگر کھانا متوازن نا ہو تو انسان بیمار ہوسکتا ہے اور عبادت کے یہ قیمتی لمحات بیماری کی وجہ سے ضائع ہوسکتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ وہ کھجور سے روزہ افطار کرتے اور اگر کھجوریں میسر نا ہوتی تو پانی سے روزہ کھولتے۔

اس بار رمضان موسم گرما میں آیا ہے اور محکمہ موسمیات کی طرف سے ملک بھر میں موسم گرم اور خشک رہنے کی پیش گوئی کی گئ ہے۔ماہرین طب کے مطابق سحر اور افطار میں ایسی اشیاء استعمال کی جائیں جوکہ جسم میں توانائی کو بہت دیر تک برقرار رکھیں۔

ترجمان پمز ہسپتال ڈاکٹر وسیم خواجہ کہتے ہیں گرمی کے روزے ہیں اس میں کوشش کی جائے کہ پانی زیادہ سے زیادہ پیا جائے ۔افطاری سے سحری کے  درمیانی ٹائم میں پانی کے آٹھ گلاس پیئں۔سحری میں دو گلاس پانی پئیں غذا سادہ رکھیں۔سحری میں بغیر چھنا ہوا آٹا یا بران بریڈ لیں۔انڈے کی سفیدی جو کا دلیہ اور لسی استعمال کریں۔ کھجوریں لیں شہد لیں کافی چائے سے اجتناب کریں۔زیادہ میٹھی چیزوں سے گریز کریں کیونکہ ان کی وجہ سے دن میں پیاس زیادہ لگے گی۔۔افطاری کریں تو کھجوریں کھائیں پانی پئیں تھوڑی واک کریں اس کے بعد سبزیوں کا سوپ ،کوئی ایک پھل ،یا سلاد کا استعمال کیا جائے۔رات کے کھانے میں بغیر چھنے آٹے کی روٹی ساتھ گوشت دالوں یا سبزیوں کا استعمال کیا جائے۔بڑا گوشت تلی ہوئی اشیاء بازار کی بنی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں۔پکوڑے سموے پیزا جلیباں پیٹس کچوریوں سے مکمل پرہیز کریں ۔اگر بہت طلب ہو تو ان اشیاء کو گھر میں بنا کر تھوڑا چکھ لیا جائے۔

ڈاکٹر زیشان طارق ماہر امراض قلب معدہ جگر و آنت ہیں ان کے مطابق روزے میں غذا میں حراروں اور غذائی اجزاء کے صیح تناسب کے ساتھ تمام نعمتوں سے مستفید ہوسکتے ہیں۔سب سے زیادہ پانی کا استمعال کیا جائے۔فریزی ڈرنکس سافٹ ڈرنکس سے مکمل پرہیز کیا جایا۔پانی سے مراد سادہ پانی اور ملک شیک لسی  تازہ پھلوں کے جوس ہیں۔لائٹ سحری کریں یہ غلط بات کہ بھاری سحری کرکے ہم روزہ آرام سے گزار سکتے ہیں۔بھاری سحری سے طبعیت پر بوجھ رہتا ہے۔اس لئے افطاری کو بھی لائٹ رکھیں۔کھجور کھائیں فروٹ چاٹ کھائیں۔اس کے بعد روٹی کھائیں تلی ہوئی اشیاء اور بہت زیادہ مرچ مصالحے سے پرہیز کریں۔یکدم بہت کھانا نا کھائیں نماز پڑھیں وقفہ دیں۔پھر اس کے بعد کچھ کھالیں۔

کوشش کریں کہ معمولات زندگی  جاری رہیں۔خود کو دھوپ سے بچائیں۔جسم سے پیسنے کا اخراج کم ہو اگر روزے میں جسم سے نمکیات کم ہوجائیں تو طبعیت خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔روزہ کھولنے کے بعد لیموں کی سکنجبین بھی بہت راحت بخش ہے۔تربوز آڑرو آلو بخارہ فالسہ بھی بہت فرحت بخش ہیں۔سلاد میں چنے آلو زیتون مرغی بھی شامل کی جاسکتی ہے۔رات کے کھانے میں آدھی چپاتی کے ساتھ دال چھوٹا گوشت یا سبزیاں کھائی جائیں۔تلی ہوئی اشیا پراٹھے پکوڑے سموسے نا کھائیں جائیں۔کیک رول پیسٹریز نا کھائیں جائیں۔

ڈاکٹر زیشان طارق کہتے ہیں بہت سے روزہ دار  افطاری کرتے ہی اس لئے بیمار ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ اتنی دیر کچھ کھائے بغیر رہنے کے بعد جب کھاتے ہیں تو وہ تلی ہوئی اشیا ء ہوتی ہیں جو فوری طور پر دل اور معدے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔جس کی وجہ سے طعبیت خراب ہوجاتی ہے۔اس لئے افطاری سحری لائٹ

 

                     ڈاکٹر سماویہ رحمان

                      ڈاکٹر زیشان طارق  

                                           ڈاکٹر وسیم خواجہ 

ڈاکٹر سماویہ رحمان ماہر امراض جلد ہیں وہ کہتی ہیں کہ رمضان میں پھلوں کا استعمال زیادہ کردینا چاہیے پانی زیادہ سے زیادہ پئیں اور تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں۔وہ کہتی ہیں سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ روزہ جلد کو مزید خوبصورت بناتا ہے۔روزہ جلد سے ایکنی ایگزیما اور کنٹیکٹ ڈرماٹیٹس کو کم کرتا ہے ۔دوران روزہ جسم میں ایسے ہارمون پیدا ہوتے ہیں جو جلد کو تروتازہ رکھنے میں معاون ہیں۔روزہ انسانی جسم کو کمزور نہیں کرتا بلکے یہ جسم کو فاضل مادہ نکال کر چست اور توانا کرتا ہے۔اگر غذا درست رکھی جائے تو جسم کے ہر حصے پر روزہ خوشگوار تاثر چھوڑتا ہے۔پانی پئیں پھل کھائیں دودھ پئیں دالیں ضرور کھائیں۔پانچ وقت نماز کے لئے وضو کے بعد منہ پر موسچرائز لگائیں۔منہ مائلڈ سوپ سے دھویں۔ ۔۔اس طرح آپ کی جلد تروتازہ رہے گی۔آپ پوری یکسوئی کے ساتھ رمضان گزار سکیں گے۔

 



متعللقہ خبریں