پاکستان ڈائری-17

پاکستان  ایسا ملک ہے جہاں ہر سال  پانچ سال کی عمر سے پہلےچار لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔جن میں سے ہر پانچ میں ایک کی موت نمونیہ کا باعث ہوتی ہے۔  اس لئے بچوں کو پولیو ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کا کورس کروانا بہت ضروری ہے

پاکستان ڈائری-17

بچے کی آمد اس کے سارے خاندان کے لیے مسر ت کا باعث ہوتی ہے ،گھر کے تمام ہی افراد ننھے مہمان کی آمد کا سن کر ہی اس کے استقبال کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں۔بچے کی پیدائش اور پرورش ایک آسان مرحلہ نہیں ہے اس کے لئے ماں کے ساتھ ساتھ پورے خاندان کا تعاون بہت ضروری ہے۔ متوازن غذا صاف ستھری طرز رہائش بچے کو تندرست و توانا رکھنے کے لئے بہت ضروری ہے۔لیکن یہاں پر ایک بات جو بہت سے لوگ یکسر نظر انداز کرجاتے ہیں وہ ہیں بچوں کے لئے حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس۔چوبیس اپریل سے تیس اپریل کو حفاظتی ٹیکوں کے عالمی ہفتے کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں اس کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔

اس بار یہ ہفتہ کلوز دی امیونیزیشن کوریج کے تھیم کے ساتھ منایا جارہا ہے۔جس کا مقصد دوہزار بیس تک اپنے اہداف حاصل کرنا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ صحت  مارگریٹ چین کے مطابق گذشتہ سال ایک ملک میں پولیو تین میں ٹیٹنس کا خاتمہ ویکسن کی وجہ سے ممکن ہوا۔ان کے مطابق ایک اعشاریہ پانچ ملین اموات کو ویکسین کی وجہ سے کم کیا جاسکتا ہے۔دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ ویکسین سے محروم ہے جس کے لئے ضروری کے ہر بچے تک ویکسین پہنچے ۔جس کے لئے مقامی لوگوں کا ساتھ محکمہ صحت کا رول اور آگاہی بہت ضروری ہے۔

پاکستان  ایسا ملک ہے جہاں ہر سال  پانچ سال کی عمر سے پہلےچار لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔جن میں سے ہر پانچ میں ایک کی موت نمونیہ کا باعث ہوتی ہے۔  اس لئے بچوں کو پولیو ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کا کورس کروانا بہت ضروری ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے سے بچوں میں مزید قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے بچے  صحت مند اور لمبی زندگی گزار سکتے ہیں ۔ پولیو ،خناق،تشنج،،پیپاٹایٹس،ٹی بی،کالی کھانسی،خسرہ،نمونیا اور گردن توڑ بخار بچوں میں اموات کی بڑی وجہ ہیں۔جس کی وجہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے نا لگوانا ہے۔حفاظتی ٹیکے صرف چھ بار لگوانے پڑتے ہیں اور یہ بچوں کو ان نو مہلک بیماریوں سے بچایا جاسکتےہیں۔

بچے کو پیدایش پر دو ویکسین دی جاتی ہیں جن میں پولیو ویکسن اور بی سی جی ویکسین شامل ہے ۔پولیو ویکسین بچے کو پولیو سے بچاتی ہے ۔بی سی جی کا انجیکشن بچے کو ٹی بی سے لڑنے کی قوت مدافعت دیتا ہے۔بچے کو پیدایش کے چھ ہفتے بعد ایک بار پھر پولیو سے بچاو کے قطرے دیے جاتے ہیں ۔۔پولیو ویکسین کے علاوہ بچوں کو چھٹے ہفتے میں پینٹا ویلنٹ ون ﴿ ڈی پی ٹی،ایچ بی،ایچ آیی بی﴾ انجکشن دیے جاتے ہیں۔ یہ ٹیکہ جات کا کورس نومولود کو خناق،تشنچ،کالی کھانسی،گردن توڑ بخار اور ہیپاٹایٹس بی سے محفوظ رکھتا ہے۔

بچوں کو پیدایش کے دس ہفتے  بعد ایک با ر پھر پولیو سے بچاو کے لیے قطرے  پلوایے جاتی ہیں اور پینٹا ویلنٹ ٹو ﴿ ڈی پی ٹی،ایچ بی،ایچ آیی بی﴾ ٹیکہ جات بھی لگتے ہیں۔یہ ٹیکے بچے کو  خناق،تشنچ،کالی کھانسی،گردن توڑ بخار اور ہیپاٹایٹس بی سے مقابلہ کرنے کے لیے قوت مدافعت فراہم کرتے ہیں۔پیدایش کے چودہ ہفتے کے بعد ایک بار پھر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے اور اور پینٹا ویلنٹ تھری ﴿ ڈی پی ٹی،ایچ بی،ایچ آیی بی﴾ کی ڈوز دی جاتی ہے۔بچے کو نو ماہ کی عمر میں خسرہ سے بچاو کے لیے ٹیکا لگایا جاتا ہے اور دوسرا ٹیکہ ڈیڑھ سال کی عمر کے بعد لگایا جاتا ہے۔

پاکستان میں صرف پینتس سے چالیس فیصد بچوں کا حفاظتی ٹیکوں کا کورس  کروایا جاتا ہے جبکے باقی بچے اس سے محروم رہ جاتے ہیں ۔یہاں پر حکومت علماء کرام استاتذہ اور ڈاکٹرز پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر کریں۔ ویکسن اور ٹیکوں کا کورس مکمل کرنے کے بعد  بچہ ایک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے اگر اس کو ساتھ میں متوازن غذا،پینے کا صاف پانی  اور آلودگی سے پاک ماحول میسر ہو۔اس کے ساتھ دیگر وبائی بیماریوں سے بچنے کے لئے بھی ویکسین لگوانا بہت ضروری ہے جس کو ہر عمر کے افراد حفاظت کے طور پر لگا سکتے ہیں ۔ہمیں معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ ان ویکسن اور ٹیکہ جات میں کوئی مضر چیز شامل نہیں ۔رویوں میں تبدیلی اور مناسب طبی سہولیات سے ایک صحت مند معاشرہ پروان چڑھ سکتا ہے۔



متعللقہ خبریں