ترکی اور پاکستان کے تعلقات پر ایک نظر ۔ 42

عظیم ترک صوفی شاعر یونس ایمرے

ترکی اور پاکستان کے تعلقات پر ایک نظر ۔ 42

پاکستان اور ترکی سے محبت کرنے والوں کے لیئے آج ہم بات کریں گے ترکی کے عظیم صوفی شاعر یونس ایمرے کی۔۔۔
یونس ایمرے نے 1238 کے لگ بھگ ترکی کے ایک گاؤں صارے کوئے میں جنم پایا۔ جسے آج ایمپرے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی تاریخی کلیات کا جائزہ لیں تو ان کی تاریخِ پیدائش کا قریبی طور پر اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس بے مثال عوامی شاعر کے بارے میں بہت سی روایات موجود ہیں، جب یونس ایمرے پیدا ہوئے تو اسوقت قونیہ پر سلجوقی حکمران کی حکومت تھی اور اس وقت قونیہ اور اناطولیہ کا نواحی علاقہ وسطی ایشیا کے رہنے والوں کے لیے واحد پناہ گاہ تھا۔ کیونکہ وسطی ایشیا کے باسیوں کے خلاف منگول حملہ آوروں نے قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا، اس دور میں مذہبی اختلافات بھی عروج پر تھے اور لوگ اپنے اپنے عقائد دوسروں پر مسلط کر نے کے لیے کسی کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہ کرتے تھے۔
مہاجرین میں بڑی بڑی نامور تاریخ ساز شخصیات بھی شامل تھیں جو کسی تعارف کی محتاج نہیں تھیں، جن میں سے ایک مثنوی معنوی کے خالق مولانا جلال الدین رومی تھے اور دوسرے حاجی بیکتاش ولی رحم اللہ تھے جن سے یونس ایمرے نے بیت حاصل کی۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ ابھی یونس ایمرے نو عمر ہی تھے کہ انا طولیہ میں سخت قسم کا قحط پڑا اور ان کا گاؤں بھی بری طرح متاثر ہوا ۔ان حالات میں بھی یونس ایمرے کو اپنے سے زیادہ دوسروں کی فکر تھی اس پریشانی کے عالم میں یونس ایمرے نے حاجی بیکتاش کی درگاہ جانے کا ارادہ کیا تو دوسری جانب بیکتاش کو بھی یونس ایمرے کے دل کا حال معلوم تھا۔
انہوں نے اپنے مریدِ خاص کو بتایا کہ آج یونس نے آنا ہے یونس آئے تو اس سے معلوم کرنا کہ تم کو اناج چاہیے یا برکت۔لیکن یونس ایمرے ان تمام باتوں سے بے خبر تھے مرید خاص نے یونس سے دریافت کیا کہ تم کیا لو گے اناج کہ برکت؟ جواب میں یونس نے سوال کیا کہ کیا برکت اتنی جگہ لے گی جتنا کہ رزق تو جواب ملا کہ نہیں کیوں کہ برکت تو چھوٹی سی جگہ میں بھی سما سکتی ہے۔ یونس ایمرے نے سوچا کہ لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں اور برکت جو کہ اتنی چھوٹی سی چیز ہے میں اسے لیکر لوگوں کی مدد کس طرح کر سکتا ہوں اس لیے میں رزق ہی لے لیتا ہوں تاکہ میں لوگوں کی مدد کر سکوں۔ انہوں نے اناج کی بوریاں اٹھائیں اور گاؤں کی جانب چل پڑے ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ اچانک خیال آیا کہ کہ ہو سکتا ہے برکت کسی ہیرے یا سونے کا نام ہو جس کو بیچ کر بہت سا اناج خریدا جا سکے، اسی سوچ کے ساتھ وہ واپس پلٹے اور مرید خاص سے واپس آنے کی وجہ بتائی مرید خاص نے جواب دیا کہ اے بھائی صاحب جو برکت تھی وہ تو بیکتاش سلسلہ صوفیا کے دوسرے بزرگ شیخ حضرت تاپدوک ایمرے کو بھیجی جا چکی ہے۔ برکت کو لینے کے لیے آپ کو تاپدوک جانا پڑے گا لہذا جو ملا اسی پر قناعت کی اور جہاں سے فیض ملتا رہا لیتے رہے ایک وقت آیا کہ فنا فی اللہ ہوئے مرجع خلق ہوئے روحانیات میں جورشتہ مولانا روم سے حضرت شمس تبریز کا تھا وہی رشتہ تاپدوک کا یونس سے تھا۔ جن کی تربیت میں یونس نے راہ سلوک کی کٹھن منازل طے کیں اور گاؤں گاؤں یہ ہی صدا لگاتے محو سفر میں رہے۔
جمال الدین سرور اوعلو کی رائے میں یونس ایمرے عشقِ مجازی کی راہ سے نہیں بلکہ طریقت کی راہ سے عشق حقیقی تک پہنچے ہیں یونس ایمرے کے کلام میں رباعیات ،گیت ، نظمیں شامل ہیں جن میں بلا کی سلاست روانی ملتی ہے جس کی ایک جھلک کچھ یوں ہے:
میں نہیں آیا فرش زمین پر
تفریق و تخلیق کی خاطر
آپس میں ہو پیار محبت
یونس یہ ہے میری ذات کا مقصد
جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونس کی شاعری میں کھوکھلا پن، مذہبی روایت پسندی اور اسلام کے نام پر بیہودہ رسومات نہیں ملتیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یونس ایمرے کی شاعری کا اچھا خاصہ حصہ دریا برد کر دیا گیا۔
ملا قاسم کا ایک آدمی جو ایک تنگ نظر اور انتہا پسند تھا ایک دریا کے کنارے بیٹھا یونس کی شاعری کا مطالعہ کررہا تھا ایک کے بعد ایک صفحہ پلٹتا جاتا اور کہتا جاتا کہ یہ تو خرافات ہیں۔ یہ تو کفر کی باتیں لکھتا ہے وہ کتاب کو پڑھتا جاتا اور کتاب کا صفحہ پھاڑ پھاڑ کر دریا میں ڈالتا جاتا حتی کہ وہ آخری صفحے پر آگیا تو وہ یہ دیکھ کر چونک اٹھا کہ جس میں یونس نے اپنی ذات کے بارے میں لکھا تھا کہ یونس تم حق کی بات کر رہے ہو اور کرتے رہو اس لیے کہ ایک دن آئے گا جب قاسم تمارا محاسبہ کرے گا قاسم اس صفحے کو بار بار پڑھتا رہا، کیوں کہ جو بات کوئی نہیں جانتا تھا وہ یونس کیسے جان سکتا تھا کہ قاسم یہ کام کرے گا قاسم یہ صفحہ پڑھ کر ہوش میں آیا۔ اس پر وہ پچھتایا اور بے اختیار رونے لگا محترم یونس کہتے ہیں اور کیا خوب کہتے ہیں ہم میں سے ہر ایک کے لیے موت یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ اختلافات کی بنا پر جنگ ،غرور، تکبر،عداوت ،غصہ،بغض، یہ تمام عناصر زندگی کا ضیاں کرنے والے اعمال ہیں انسان کو ایک دوسرے کے ساتھہ محبت اور خلوص سے پیش آنا چاہیے۔
ہم گلوبلائزیشن کے نرغے میں ہیں، یہاں محنت کش کو اس کا معاوضہ نہیں ملتا لیکن سرمایہ دار اپنی تجوریاں بھرتا ہی جاتا ہے یونس نے اپنی شاعری سے دعوت تبلیغ کا کام لیا وہ معاشرے کی اصلاح کی آرزو رکھتے تھے ان کی نظر میں حاکم اگر راہ راست پر ہو تو عدل قائم ہوگا اور محکوم بھی نیک اور صالح ہوں گے۔ اسی لیئے وہ محکوم ،مظلوم ،مجبور کے علم بردار اور زمینداروں اور جاگیر داروں کی اصلاح کے حامی تھے اسی حوالے سے انہوں نے یہ شعر کہا ۔
حاکم جب تو سید ھی راہ چلے گا
لوگ بھی صالح ہو جائیں گے
تو شاطر مکار ہو اگر خود
کیسے پھر وہ نیکو کار بنیں گے
1308 میں لکھی گئی 1575 اشعار پر مبنی ایک مثنوی رسالہ الن یص حہ جو فارسی زبان میں ہے جسمیں 350 نظمیں ہیں اور ان نظموں کا منبع فلسفہ وحد ت الوجود ہے ان کی شاعری میں فنا ایک دہرایا جانے والا موضوع ہے لیکن اس کو یہاں بیان کرنے کا انداز افسردہ نہیں واعظا نہ ہے وہ کہتے ہیں کہ :

اول و آخر فنا ظاہر و باطن فنا
یونس تاپدوک سے پوچھو
ان کے مطابق دنیا کیا ہے
یہ فریب اور کھیل تماشے
تم خود کیا جا نو میں خود کیا ہوں
سب کچھ فانی ہے سب کو فنا ہے
اس عظیم شاعر کا انتقال 1320 میں ہوا ان کا مزار مرجع خلق میں ہے ترکی میں ایک زمانے میں لسانی بنیادوں پر جھگڑے ہوئے تھے بہت پہلے سے ہی یونس ایمرے نے ان جھگڑوں کو فساد کی جڑ کہا تھا اور اپنی ایک نظم جس کا عنوان تھا (تمھارے نام) لکھی۔
میں اور تم ہم دونوں اگر ایک لفظ کو مختلف گردانتے ہیں
تو کیا لفظ تو وہی رہتا ہے ہم بدل جاتے ہیں
محمد ناصر اوپل

 


ٹیگز:

متعللقہ خبریں