ترکی اور پاکستان کے تعلقات پر ایک نظر ۔ 32

ترکی کے انمٹ اور منفرد نقوش

105531
ترکی اور پاکستان کے تعلقات پر ایک نظر ۔ 32

ترکی کی آب و ہوا ترکی کی ثقافت طرز تعمیر اور ترکی کی تاریخ انمٹ نقوش کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ترکی کی خاص وجہ شہرت جلیل القدر صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بھی نقوش ترکی کی پہلی علامت ہیں مسجد ابو ایوب انصاری وہ مسجد ہے جہاں پر نمازیوں اور زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔
ترکی ایشیا اور یورپ میں ہونے کی وجہ سے یورپ ترکی کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتا تھا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے رسولِ اللہﷺ کا استقبال کیا آپ نے سب سے پہلے حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر قدم مبارک رکھا ان کے گھر میں آپؐ کے لیے بہترین اعلی انتظام کیے گئے تھے وہ اور ان کی اہلیہ اوپر کی منزل میں منتقل ہوگئے تھے۔لیکن ان کو اس بات پر شرم محسوس ہوئی کہ ان کے قدم رسولِ پاک کے سر مبارک کے اوپر ہیں چنانچہ وہ اور ان کی بیوی د یوار کے قریب ہی رہے کمرے کے اندرونی حصہ میں نہ گئے دوسرے دن ابو ایوب انصاری نے یہ درخواست کی آپؐ اوپر کی منزل میں قیام فرمائیں۔یہ وہ صحانی رسول ہیں جنھوں نے غزوہ بدر کے ساتھ تمام معرکوں میں حصہ لیا یہ ہر غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے انھوں نے حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ،حضرت علی ، معاویہ رضوان اللہ تعالی کے عہد میں ان کے ساتھہ جہاد کیا اور یزید بن معاویہ کے ہمراہ بھی جہاد میں حصہ لیا۔ وہ کیا کرتے تھے کہ مجھے اس بات کی فکر نہیں کہ کون مسلمانوں کا خلیفہ بنا ہے مجھے تو فکر اس بات کی ہے میں اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جاؤں۔
ویسے بھی کسی شہید کو تلوار کی دھار اذیت نہیں دیتی اسے تو اتنی تکلیف ہوتی ہے جتنی چیونٹی کاٹنے سے ہو تی ہے۔ حدیث رسول ہے کہ شہید کو اللہ تعالی سے جا ملتے وقت اتنی تکلیف ہو تی ہے جتنی کہ چیونٹی کاٹنے یا سوئی چبنے سے ہوتی ہے جس وقت حضرت ابو ایوب انصاری یزید بن معاویہ کی فوج میں جہاد کے لیے نکلے تو ان کا بد ن بہت نحیف ہو چکا تھا ان کی آنکھوں کی روشنی کمزور ہو چکی تھی آنکھ کے پپوٹے اندر دھنس چکے تھے۔ وہ اچھی طرح دیکھ بھی نہ پاتے تھے، یزید بن معاویہ کے دور میں قسطنطیہ کا محاصرہ ہوا تو مسلمان ابھی اس شہر کو فتح نہیں کر پائے تھے کہ حضرت ابو ایوب انصاری کی موت کا وقت قریب آگیا ۔
یزید بن معاویہ ان کے پاس آیا اور اس نے پوچھا آپ کی کیا خواہش ہے ابو ایوب انصاری نے جواب دیا میری وفات ہو جائے تو مشرکین کے علاقے میں جتنی دور تک تم جاسکو جاؤ پھر مجھے وہیں دفن کر دینا اور فوج کی طرف واپس آجا نا اور ان سے کہنا کہ ابو انصاری کی یہ خواہش ہے کہ" وہ اپنے سر کے اوپر سے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنیں" یعنی میں قبر میں رہوں تو میرے اوپر سے گھوڑے گزریں اور میں ان کی آواز سن سکوں۔ یزید بن معاویہ نے ایسا ہی کیا واپس آکر فوج کو ابھارا چنانچہ اللہ کے فضل و کرم سے اور ابو ایوب کی ترغیب سے ان کو اس بار کامیابی ملی۔
ابو ایوب کو غیر مسلم کے نزدیک بھی بزرگانہ مقام حاصل تھا اس دور میں جب ترکی غیر مسلم کے قبضہ میں تھا لوگ ان کے پاس ان کے بابرکت فرد کی حیثیت سے آتے تھے اور آج بھی سبحان اللہ ان کی قبر کی زیارت کرنے والے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بہت سے غیر مسلم بھی ہیں اگر کسی عورت کی شادی ہوتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ ہم ابو ایوب انصاری کے پاس جا کر برکت طلب کریں گے حقیقت تو یہ ہے کہ اس طرح کے عمل کو بعض لوگ جائز نہیں سمجھتے۔ لیکن مسلم اور غیر مسلم کے نزدیک آج بھی ابو ایوب کو ایک اونچا مقام حاصل ہے۔
ترکی میں ایک دوسرا انمٹ نقش ایک مسجد ہے جسے مسجد فاتح کہا جاتا ہے کسی کو کیا پتہ کہ محمد فاتح کتنا عظیم نام ہے جب وہ چھوٹے تھے تو ان کے والد ان کے شیخ اور استاد کے پاس روزانہ لے جاتے تھے وہ ان کو قرآن پڑھایا کرتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے آپؐؐ کی ایک حدیث سنی ہے جس میں آپؐ فرماتے ہیں کہ قسطنطینہ فتح ہو گا اور اس کا سپہ سالار کیا ہی اعلیٰ ہوگا اور اس کی فوج کتنی اچھی ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ 21 سالوں تک مجھے روز ہی میرے شیخ یہ حدیث سناتے رہے۔
جس وقت محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو ان کی عمر 21 سال تھی پوری تاریخ میں رومیوں کا سب سے بڑا قلعہ استنبول میں تھا، انہوں نے ایک بڑی فوج تیار کی نئے نئے وسائل جمع کیے، پتھر کے بڑے بڑے گولے بنائے جو کہ اتنی بڑے تھے کہ انہیں توپ کے منہ تک لےجانے کے لیے 3 ہزار افراد مل کر اُٹھاتے تھے۔ اس کے سامنے جو بھی آتا پاش پاش ہو جاتا، انھوں نے بہت سی کشتیاں بنائیں اور ان کشتیوں کو پانی پر نہیں بلکہ خشکی پر چلایا قسطنطیہ پر قبضہ کرنے کے لیے انہوں نے ایک نئے طریقے سے شہر میں داخل ہو نے کا راستہ تلاش کیا۔ انھوں نے زمین پر لکڑیاں بچھا دیں ان پر تیل ڈلوایا اور ان کے اوپر کشتیاں چلائیں کشتیاں پھسلتے پھسلتے استنبول کے اندر داخل ہو گئیں۔ ایک سخت مقابلہ ہوا رومی شہنشاہ نے شکست کے بعد اپنے فوجیوں سے کہا کہ میرا سر تن سے جدا کر دو لیکن محمد الافاتح اور اس کے فوجیوں کے حوالے نہ کرو کیونکہ آج ہم کرسیوں کے نیچے سو رہے تھے اسی لیے ہار گئے ۔ معرکے کے بعد محمدالافاتح نے اس کے جسم اور سرکو تلاش کیا اور رسمی طور پر اس کے لیے بادشاہوں اور شہنشاہوں جیسا جنازے کا انتظام کیا اور اسے بادشاہوں کے قبرستان میں دفن کیا۔
یہ وہ مثالیں ہیں جو آزادی کا راستہ دکھاتی ہیں لیکن ہمارے آج کے نوجوان فیشن کے دلدادہ ہیں آج کا نوجوان کہتا ہے کہ میں لگتار دو انڈے اکٹھے ہاتھ میں رکھ کر توڑسکتا ہوں میراہاتھ لوہے کا ہے ہماری بچیوں کا بھی یہی حال ہے ان کا رویہ بھی معمولی اور حقیر ہے وہ فتنے اور ہلاکت خیز اشیا کے پیچھے بھاگتی ہیں ہم یہ گفتگو کر رہے ہیں لیکن ہمیں اس حال میں بھی شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ کے فضل و کرم سے آج بھی امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور موجود ہیں اور نیک خواتین کی بھی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ محمد فاتح نے استنبول فتح کیا تو ایک انتہائی ترقی یافتہ مملکت کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے استنبول میں مسجد بھی بنوائی یہ مسجد انتہائی اعلی طرز تعمیر کی عکاسی کرتی ہے اگر آپ سلطان محمد کی مسجد کے منبر پر چڑھنا چاہیں تو اس کے لیئے ضروری ہے کہ آپکی صحت اچھی ہو اس نے اس دور میں مسجد کی امامت کے لیے کچھ شرطیں رکھی تھیں ۔جو ان پر پورا اترے گا وہ ہی امامت کے لائق ہو گا (1) قرآن کا حافظ ہو (2)قرت اور شریعت سے واقف ہو (3) کسی ورزشی کھیل تیراکی، شہسواری اور تیر اندازی میں ماہر ہو (4)اسے بہت سارے علماء سے سند حاصل ہو کہ وہ امت کے نئے معاملات اور مسائل کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو یعنی کہ وہ سماجی انسان ہو کوئی ایسا انسان نہ ہو جس کے بارے میں کوئی کچھ نہ جانتا ہو۔اللہ کے فضل و کرم سےتاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے مسجد محمد فاتح میں دس ہزار حفاظ اکرام ہیں جو قران کو سینے میں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔
ایک دور تھا کہ اس استنبول کی سڑکیں انتہائی خستہ حالت میں تھیں اور آج سڑک پر کاغذ کا ٹکڑا بھی نظر نہیں آتا ہر تھوڑے فاصلے پر ایک خوبصورت پارک ہے پورا شہر خوبصورتی اور نفاست کی تصویر ہے۔ اس لیے اب یہاں چوریوں اور ڈکیتیوں کے بہت کم واقعات پیش آتے ہیں۔ حکومت بھی چور نہیں ہے اگر کسی مملکت کی حکومت چور نہ ہو تو یقین جانیے کہ وہ مملکت ترقی کے سوا اور کچھ نہ دیکھے۔ یہاں قیمتیں مناسب ہیں ترک معیشت بھی کامیابی کا سفر تیزی سے طے کر رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ترکی پر اللہ کی خاص رحمتیں ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ ترکی میں سرمایہ کاری کا تناسب بیسیوں گنا بڑھ گیا ہے اور کیوں نہ بڑھے یہ کیوں نہ ترقی کرے جس کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا ہو اور جس میں جلیل القدر صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کا مزار مبارک ہو۔
¬¬¬
محمد ناصر اوپل


ٹیگز:

متعللقہ خبریں