بحری ممالیہ جانور پانی کے ذریعے کورونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں

سمندروں میں آلودہ پانی کی نکاسی کی وجہ سے ایسے بحری جانوروں کےکووڈ۔19 کا شکار ہوسکتے ہیں

1526670
بحری ممالیہ جانور پانی کے ذریعے کورونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں

بحری ممالیہ جانور پانی کے ذریعے کورونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

روزنامہ دی ڈیلی میل کے مطابق کینیڈا کی ہیلی فیکس ڈیل ہاوس یونیورسٹی میں وہیل، ڈولفن اورفوک  جیسے بحری ممالیہ جانوروں میں کوووِڈ۔19 کے احتمال پر  تحقیق کی گئی ہے۔

تحقیق میں36 بحری ممالیہ جانوروں کے جینوم کا مشاہدہ کیا گیا اور کم از کم 15 بحری ممالیہ کو کووِڈ۔19 کا خطرہ لاحق ہونے کا نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔

سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ بحری ممالیہ جانوروں کے ACE2 نامی پروٹین انزائم  جانوروں میں وباء  کا سبب بن سکتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بحری جانور انسانوں کے مقابلے میں وباء کے مقابل زیادہ بے بس ہیں۔ انہوں نے سمندروں میں آلودہ پانی کی نکاسی کی وجہ سے ایسے بحری جانوروں کےکووڈ۔19 کا شکار ہوسکنے کی وارننگ دی ہے  کہ جن کی نسل کو خاتمے کے خطرے کا سامنا ہے ۔

تحقیقی ٹیم میں سے پروفیسر ڈاکٹر گراہم ڈیلاری نے کہا ہے کہ بحری جانور اس سے قبل بھی مختلف اقسام کے کووِڈ۔19 کا شکار ہو چکے ہیں  اور اس جراثیم نے جانوروں کے پھیپھڑوں اور جگر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

تحقیقی کام جریدہ دی ٹوٹل انوائرمنٹ میں شائع کیا گیا ہے۔



متعللقہ خبریں