صدر ٹرمپ نے غیر ملکی ٹیلی کام کمپنیوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا

غیر ملکی کمپنیوں  کو  ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ  تصور کیا جا رہا تھا۔ صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر میں کسی بھی کمپنی کا نام خاص طور پر نہیں لیا ہے

صدر ٹرمپ نے غیر ملکی ٹیلی  کام کمپنیوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا

بدھ کو صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے ہیں جس  کے  ذریعے امریکی کمپنیوں کو غیر ملکی حریف ٹیلی کام کمپنیوں کی خدمات استعمال کرنے سے منع کیا ۔

ان کمپنیوں  کو  ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ  تصور کیا جا رہا تھا۔ صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر میں کسی بھی کمپنی کا نام خاص طور پر نہیں لیا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے خاص طور پر چین کی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کے حوالے سے یہ اقدام اٹھایا ہے۔

بہت سے ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ چین نگرانی کے لیے چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کی مصنوعات کو استعمال کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ہواوے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا کام کسی کے لیے بھی خطرے کا باعث نہیں ہے۔

گو کہ حکم نامے میں کسی ملک یا کمپنی کا نام نہیں لیا گیا، لیکن امریکی حکام ماضی میں 'ہواوے'کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں اور امریکی اتحادیوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ جدید فائیو جی نیٹ ورک کے لیے 'ہواوے' کے آلات تیار نہ کریں۔

'ہواوے' موبائل انٹرنیٹ کے جدید فائیو جی نیٹ ورک کے آلات بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور کئی مغربی ممالک اور ان کی کمپنیاں اس کے بنے آلات استعمال کرتے ہیں۔

'ہواوے' کی انتظامیہ ماضی میں بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ امریکہ کے لیے خطرہ نہیں اور اس پر امریکی کمپنیوں کی جاسوسی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

نئی پابندی کے نفاذ پر 'ہواوے' نے کہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے۔

کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ 'ہواوے' کو امریکہ میں کام کرنے سے روکنے کے نتیجے میں امریکہ کو کم صلاحیت کے مہنگے آلات پر بھروسا کرنا ہوگا اور اس کی وجہ سے امریکہ فائیو جی نیٹ ورک کی تنصیب میں باقی دنیا سے پیچھے رہ جائے گا۔

خدشہ ہے کہ 'ہواوے' اور اس کی ذیلی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں سے چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی جنگ دوبارہ شدت اختیار کرجائے گی جس میں گزشتہ چند روز کے دوران کچھ کمی دیکھنے میں آئی تھی۔



متعللقہ خبریں