یورو کے کمزورہونے سے مہنگائی میں اضافے سے کساد بازاری کے امکانات بڑھ گئے ہیں: صدر ڈیوڈ مالپاس

سٹینفورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ مالپاس نے کہا کہ دنیا کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے

1886311
یورو کے کمزورہونے سے مہنگائی میں اضافے سے کساد بازاری کے امکانات بڑھ گئے  ہیں: صدر ڈیوڈ مالپاس

عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے کہا کہ یورپی کرنسی یورو کے کمزور ہونے اور مہنگائی میں اضافے سے براعظم میں کساد بازاری کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ مالپاس نے کہا کہ دنیا کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  دنیا کے لیے سب سے اہم خطرہ عالمی ترقی  کا  کساد بازاری میں تبدیل ہونا ہے، مالپاس نے  کہا کہ  بہت سے ترقی پذیر ممالک وبا سے پہلے کے دو کی  فی کس آمدنی کی سطح تک نہیں پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی معیشت اس سال کی پہلی دو سہ ماہیوں میں سکڑ گئی، مالپاس نے کہا کہ نئی قسم کے کورونا وائرس (کوویڈ-19) کی وبا کے خلاف اٹھائے گئے قرنطینہ اقدامات کی وجہ سے چین کی اقتصادی ترقی بھی تیزی سے کم ہوئی۔

انہوں نے کہا  کہ یوکرین میں روس کی 24 فروری کو شروع کی گئی جنگ کی وجہ سے یورپ کو توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورو کی کمزوری اوربلند   افراط زر نے یورپ میں کساد بازاری کے امکانات کو بڑھا دیا اور یورو زون کے طویل مدتی ترقی کے  دائرہ کار کو  محدود کردیا ہے۔

مالپاس نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو افراط زر، سست رفتاری، کم پیداوار، عالمی توانائی کے وسائل کی کمی اور ترقی یافتہ معیشتوں میں بلند شرح سود جیسے خطرے کا سامنا  2023 کے بعد بھی جاری  رہے گا۔

عالمی بینک کے صدر نے کہا کہ عالمی توانائی کی پیداوار میں روس پر انحصار کم ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں، جس سے جمود کا خطرہ یا کم ترقی اور مہنگائی کی مدت کو طول مل سکتا ہے۔



متعللقہ خبریں