پاکستان معاشی بحران کی زد میں ہے، اقوامِ متحدہ

گذشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کے معاشی مسائل میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب اس کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو معاشی دیوالیہ پن کے راستے پر گامزن ہیں

پاکستان معاشی بحران کی زد میں ہے، اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ’ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ برائے سال 2019' میں کہا گیا ہے کہ چین، سعودی عرب سے ملنے والی امداد اور عالمی مالیاتی فنڈ سے لیے گئے قرض سے فوری طور پر درپیش مسائل کے حل میں مدد ملنے کے باجود پاکستان کا معاشی بحران دور نہیں ہوسکا۔

گذشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کے معاشی مسائل میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب اس کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو معاشی دیوالیہ پن کے راستے پر گامزن ہیں۔ پاکستان اور ایسے دیگر ممالک میں فرق یہ ہے کہ انکے معاشی مسائل کی وجہ معدنی وسائل کا فقدان یا پھر انکی جغرافیائی حیثیت ہے جبکہ پاکستان کا معاشی نظام تباہ کرنے میں آمریت بالخصوص پرویز مشرف اور ان سیاستدانوں کا ہاتھ ہے جو اگرچہ ابھی تک خود کو عوامی نمائندہ کہلاتے ہیں مگر درحقیقت آمریت کی جڑیں مضبوط کرنے کےلئے اپنی تمام توانائیاں صرف کرتے رہے۔

و این سی ٹی اے ڈی کی سالانہ فلیگ شپ رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے باب میں پاکستان کے حوالے سے تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’پاکستان بحران کی زد میں ہے‘۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ملک کی شرح نمو تھم جانے، ادائیگوں کے توازن کی خراب صورتحال، روپے کی قدر میں کمی اور غیر ملکی قرض بڑھنے کی وجہ سے معیشت بحران کا شکار ہوئی۔

س کے علاوہ کہا گیا کہ چینی معیشت کی شرح نمو 2017 کے بعد سے سست روی کا شکار ہے اور ٹریڈ ٹیکنالوجی کے تنازع کے پیشِ نظر 2019 میں اس میں شدت آنے کا امکان ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں بھارتی معیشت کی سست روی کا بھی اندازہ لگایا گیا جہاں حال ہی میں متعارف کراوئے گئے ’اشیا و خدمات ٹیکس‘ کی وصولی مقررہ ہدف سے کم رہی۔

رپورٹ میں تجزیہ کیا گیا کہ مجموعی طور پر ایشائی خطے کی شرح نمو مزید سست روی کا شکار ہوگی۔

 



متعللقہ خبریں