2030 تک ملک سے ٹی بی کے خاتمہ کا ہدف پورا کرنا ناگزیر ہے: صدرعارف علوی

صدر مملکت نے کہاکہ ٹی بی کاماضی میں علاج موجود نہیں تھا، ٹی بی ایسا مرض نہیں جسے چھپایا جائے، حالیہ عرصے کے دوران شعبہ صحت میں بہت سی کامیابیاں ملی ہیں، پولیو پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں

1764725
2030 تک ملک سے ٹی بی کے خاتمہ کا ہدف پورا کرنا ناگزیر ہے: صدرعارف علوی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ٹی بی کی روک تھام کے لئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2030 تک ملک سے ٹی بی کے خاتمہ کا ہدف پورا کرنا ناگزیر ہے، ملک میں بیماریوں کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے، تپ دق کے مرض کی بروقت تشخیص سے علاج ممکن اور زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں، میڈیا آگاہی مہم میں حکومتی کوششوں کا بھرپور ساتھ دے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایوانِ صدر میں انسداد ٹی بی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں، اراکین پارلیمنٹ، طبی ماہرین اور سفارت کاروں نے شرکت کی۔

صدر مملکت نے کہاکہ ٹی بی کاماضی میں علاج موجود نہیں تھا، ٹی بی ایسا مرض نہیں جسے چھپایا جائے، حالیہ عرصے کے دوران شعبہ صحت میں بہت سی کامیابیاں ملی ہیں، پولیو پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ افغانستان میں بھی پولیو پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہیں، غذائی قلت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

صدر نے کہاکہ عالمی اداروں نے انسداد ٹی بی کے لئے بڑا تعاون کیا، صحت کارڈ غریبوں کےلئے بڑی نعمت ہے۔ صدر مملکت نے کہاکہ چین نے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا، پاکستان کو کورونا کے اثرات سے بچانے کے لئے کوشاں ہیں، بہترین حکمت عملی سے کورونا وبا پر قابو پایا، امید ہے آنے والے سالوں میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگی۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ٹی بی کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے، بیماریوں سے تحفظ کے متعلق عوامی آگاہی کے لئے ملک بھر میں ادارے کوششوں میں تعاون کررہے ہیں، حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام کو صحت کے بہتر مواقع فراہم کئے جائیں۔

ڈاکٹر مملکت نے کہا کہ ملک میں بریسٹ کینسر اور دیگر بیماریوں کے بارے میں بھی آگاہی بڑھ رہی ہے، میڈیا نے بریسٹ کینسر آگاہی مہم میں بھرپور ساتھ دیا ہے، ماضی میں پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے بارے میں بات کرنا بھی مشکل تھا جس کے باعث خواتین اس مہلک مرض کی جلد تشخیص اور علاج نہیں کرپاتی تھیں، آگاہی مہم کے نتیجے میں یہ صورتحال اب تبدیل ہوچکی ہے۔

صدر نے کہا کہ ٹی بی کے متعلق ملک کے دیہی علاقوں میں رہنے والے شہریوں تک بھی پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے، اس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو ٹی بی کے مرض سے بچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ٹی بی کے مریضوں کے ذریعے آگاہی دینا ہوگی، پاکستان میں گذشتہ سال پولیو کا صرف ایک کیس سامنے آیا۔



متعللقہ خبریں