وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں با اثر خطاب

کورونا وبا، معاشی بدحالی اور موسمیاتی ایمرجنسی کا مقابلہ کرنے کیلیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے

1710427
وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں با اثر خطاب

وزیراعظم  عمران خان نے اقوام متحدہ کی 76 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے  اپنے خطاب میں کہا دنیا کو کووڈ ، معاشی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے تین طرفہ چیلنج کا سامنا ہے، وائرس اقوام کے درمیان تفریق نہیں کرتا، نہ ہی غیر یقینی موسمیاتی رویوں کی وجہ سے آنے والی تباہیاں تفریق کرتی ہیں، درپیش مشترکہ خطرات نہ صرف بین الاقوامی نظام کی نزاکتوں کو آشکار کررہے ہیں بلکہ وہ انسانیت کے اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں، پاکستان کووڈ کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

 مضر گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے باوجود ہم ان دس ممالک میں سے ایک ہیں جو سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں جنگلات اگا رہے ہیں، قدرتی آماجگاہوں کو محفوظ بنا رہے ہیں، قابلِ تجدید توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں، شہروں سے آلودگی کا خاتمہ کر رہے ہیں،ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کیلیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔

 کووڈ ، معاشی بدحالی اور موسمیاتی ایمرجنسی کا مقابلہ کرنے کیلیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس میں پہلے نمبر پرویکسین کی یکساں دستیابی ہے اور جتنا جلدی ممکن ہوہرشخص کو لگنی چاہیے، ترقی پذیر ملکوں کو مناسب فنانسنگ کی سہولت لازماً ملنی چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں سے چوری شدہ اثاثوں کی واپسی غریب قوموں کیلیے ناممکن ہے، امیر ملکوں کیلیے نہ کوئی کشش ہے اور نہ ہی مجبوری کہ وہ یہ غیر قانونی طور پر کمائی دولت واپس لوٹائیں حالانکہ یہ ترقی پذیر ملکوں کے عام عوام کی ملکیت ہے، مستقبل میں ایک وقت آئے گا جب امیر ملکوں کو ان غریب ملکوں سے معاش کیلئے ہجرت کرنے والوں کو روکنے کیلئے دیواریں تعمیر کرنا پڑ جائیں گی، جنرل اسمبلی کو ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے،جامع قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے دولت کی غیر قانونی اڑان کو روکا اور اس دولت کو واپس لوٹایا جائے۔

انہوں نے کہا  کہ اسلامو فوبیا ایسا خوفناک رجحان ہے جس کا ملکر مقابلہ کرنا ہے، نائن الیون کے بعد کچھ حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا رہا جس سے دائیں بازو کے خوفناک اور پرتشدد قومیت پرستی کے رجحانات میں اضافہ ہوا، امید ہے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ ان اسلام مخالف رجحانات اور دائیں بازو کے انتہاپسندوں کی جانب سے لاحق دہشت گردی کے نئے خطرات کا احاطہ کرے گی، سیکرٹری جنرل سے اپیل کرتا ہوں وہ اسلامو فوبیا کا تدارک کرنے کےلئے عالمی مکالمہ شروع کرائیں، اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک شکل بھارت میں پنجے گاڑھے ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ فاشسٹ آر ایس ایس،بی جے پی حکومت کے ہندوتوا نظریات نے بیس کروڑ مسلمانوں کےخلاف خوف اور تشدد کی لہرجاری کر رکھی ہے، وقفے وقفے سے قتلِ عام جاری ہے، شہریت کے امتیازی قوانین کا مقصد بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنا ہے،کوشش کی جارہی ہے مقبوضہ کشمیر کو مسلم اکثریتی علاقے سے مسلم اقلیتی علاقے میں بدل دیا جائے۔بھارتی کارروائیاں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے،بڑی طاقتوں کو علاقائی سیاسی معاملات اورکاروباری مفادات مجبور کردیتے ہیں کہ وہ دوست ممالک کی خلاف ورزیوں سے صرفِ نظر کرجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اور ممکنہ جنگ کو روکنا ضروری ہے، یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بنائے، بھارت کی فوجی تیاری، جدید جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور عدم استحکام پیدا کرنے والی روایتی صلاحیتوں کا حصول دونوں ملکوں کے درمیان موجود ڈیٹیرنسس کو بے معنی کر سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا افغانستان کی موجودہ صورتحال یعنی وہاں ہونے والی تبدیلی کے حوالے سے امریکا اور یورپ میں بعض سیاستدان پاکستان پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں، اس پلیٹ فارم سے میں چاہتا ہوں کہ سب جان لیں کہ جس ملک نے افغانستان کے علاوہ سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے وہ پاکستان ہے۔

 جب ہم 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ میں شامل ہوئے تھے، 80 ہزار پاکستانی مارے گئے اور ہماری معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان میں 35 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور یہ کیوں ہوا؟ ہم افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکی اتحاد کے ساتھ تھے جہاں افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کیے جارہے تھے۔

  



متعللقہ خبریں