کینیڈا میں پاکستانی نژاد خاندان گاڑی تلے روند کر قتل

ولیس نے بتایا کہ خوفناک واقعے میں ان میں سے چار افراد جاں بحق اور ایک لڑکا شدید زخمی ہوگیا تھا۔ میئر ایڈ ہولڈر نے اس واقعہ پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ یہ ایک دہشتگردی کا واقعہ اور کینیڈین معاشرے کا امتحان ہے

1654236
کینیڈا میں پاکستانی نژاد خاندان گاڑی تلے روند کر قتل

کینیڈین شہر لنڈن کے میئر نے بتایا ہے کہ پانچ مسلمانوں پر مشتمل ایک خاندان کو شام کی سیر کے دوران ایک 20 سالہ سفید فام نوجوان نے اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر چار افراد کو قتل اور ایک کو شدید زخمی کر دیا ہے۔ 

پولیس نے بتایا کہ خوفناک واقعے میں ان میں سے چار افراد جاں بحق اور ایک لڑکا شدید زخمی ہوگیا تھا۔ میئر ایڈ ہولڈر نے اس واقعہ پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ یہ ایک دہشتگردی کا واقعہ اور کینیڈین معاشرے کا امتحان ہے۔

یہ واقعہ اتوار کی شام اونٹاریو کے شہر لندن میں پیش آیا تھا جب 20 سالہ مقامی شخص نے اپنی گاڑی اس خاندان پر اس وقت چڑھا دی تھی جب وہ اپنے گھر کے باہر چہل قدمی کر رہے تھے۔

اس واقعے میں اس خاندان کا صرف ایک نو سال کا بچہ زندہ بچ پایا ہے جو ہسپتال میں داخل ہے۔

مرنے والوں میں 46 سالہ فزیوتھریپسٹ سلمان افضل، ان کی اہلیہ اور پی ایچ ڈی کی طالبہ 44 سالہ مدیحہ سلمان، نویں جماعت کی طالبہ 15 سالہ یمنیٰ سلمان اور اُن کی 74 سالہ ضعیف دادی شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسی خاندان کے نو سالہ فائز سلمان زیرِعلاج ہیں مگر ان کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔

اس واقعے پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے مغربی ممالک میں پھیلنے والے ’اسلاموفوبیا‘ کی ایک کڑی قرار دیا۔

 

پولیس نے چاروں متاثرین کی شناخت 74 سالہ خاتون ، 46 سالہ مرد ، ایک 44 سالہ خاتون اور ایک 15 سالہ لڑکی کے طور پر کی ہے۔ ایک نو سالہ لڑکا شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل ہے۔

ایک خاتون جس نے حادثہ دیکھا اس نے کہا کہ وہ متاثرین کے بارے میں سوچنا نہیں روک سکتی۔

شہر کے ایک 20 سالہ سفید فام نوجوان کو جائے حادثہ سے سات کلومیٹر دور ایک مال کی پارکنگ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ اب اس کے پاس فرسٹ ڈگری قتل اور قتل کی کوشش کے چار الزامات کا سامنا ہے۔

پولیس چیف اسٹیو ولیمز کا کہنا تھا کہ "ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک جان بوجھ کر کیا گیا عمل تھا اور اس خوفناک واقعے کے شکار افراد کو ان کے اسلامی عقیدے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، اس معاملے کے متاثرین کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔"

جاں بحق ہونے والوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ خاندان کے ایک قریبی دوست کا کہنا ہے کہ یہ خاندان 14 برس قبل پاکستان سے کینیڈا آیا تھا۔

 

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں