کورونا وبا اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے: عمران خان

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل فورم برائے ترقی کیلئے مالی معاونت کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا

1620164
کورونا وبا اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت  عملی کی ضرورت ہے: عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وبا اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، کورونا وبا کی عالمی سطح پر روک تھام کیلئے ویکسی نیشن کے عمل میں ترقی پذیر ملکوں کی مدد کی جائے، پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے کیلئے 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے، ہمیں کورونا وبا کی تیسری لہر کا سامنا ہے، اس لہر کو بھی شکست دیں گے، عالمی برادری کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ ویکسین ہر جگہ، ہر کسی کیلئے اور جلد سے جلد دستیاب ہو، ٹیکنالوجی کی منتقلی کے راستے میں رکاوٹیں دور کی جانی چاہئیں، ترقی یافتہ ممالک پیرس معاہدہ کے تحت اپنے وعدے پورے کریں، ترقی پذیر ممالک سے چوری شدہ اثاثے فوری اور غیر مشروط طور پر واپس ہونے چاہئیں، ہمیں مل کر غیر مشروط طور پر ایک نئے، پرامن، مساوی اور پائیدار عالمی نظام کیلئے تعاون کرنا چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل فورم برائے ترقی کیلئے مالی معاونت کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس فورم کا اجلاس رواں سال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا کو کورونا وائرس اور بڑے پیمانے پر اس کے سماجی و اقتصادی اثرات کا سامنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی کے ذریعے کورونا وائرس کی پہلی دو لہروں سے پیدا ہونے والی صورتحال کو کنٹرول کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے معاشرے کے غریب اور کمزور ترین افراد کی مدد اور اپنی معیشت کو بحال رکھنے کیلئے 8 ارب روپے کا ریلیف پیکیج دیا، اب بدقسمتی سے ہمیں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا سامنا ہے، انشاء اﷲ ہم اس لہر کو بھی شکست دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ ویکسین ہر جگہ، ہر کسی کیلئے اور جلد سے جلد دستیاب ہو، اگر ایسا نہ ہوا تو وائرس پھیلے گا، ویکسین کی تیاری کا عمل بھی تیز کیا جانا چاہئے اور اس مقصد کیلئے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے راستے میں حائل رکاوٹین ختم کی جانی چاہئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال جنوری میں یو این سی ٹی اے ڈی کے اجلاس میں انہوں نے قرضوں میں ریلیف اور تشکیل نو سمیت ترقی پذیر ممالک کیلئے ہنگامی مالی معاونت، ایس ڈی آر کے قیام اور نئے سرے سے تقسیم، ترقی پذیر ممالک سے رقوم کی غیر قانونی منتقلی کی روک تھام اور بڑے پیمانے پر رعایتی مالی معاونت کی فراہمی کا پانچ نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا۔ نئی ایس ڈی آرز میں 650 ارب ڈالر کی فراہمی کی آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امریکہ، چین، یورپی یونین اور جاپان سمیت بڑے شراکت داروں کی طرف سے اس کی حمایت کو سراہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر ترقیاتی بینکوں کے پاس ترقی پذیر ممالک کیلئے رعایتی مالی معاونت بڑھانے کی مناسب گنجائش موجود ہے، انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) کے آئندہ اجلاس میں اسے 60 ارب ڈالر تک بڑھایا جانا چاہئے، ترقی پذیر ممالک کو کم شرح سود پر مارکیٹ سے قرضے حاصل کرنے کے قابل بنایا جانا چاہئے اور اس مقصد کیلئے اقتصادی کمیشن برائے افریقہ کی طرف سے سرمائے اور پائیدار سہولت کی تجویز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔



متعللقہ خبریں