پاکستان کی معیشت گرواٹ سے نکل کر بہتری کی جانب گامزن

پاکستان کی معیشت میں آخری مرتبہ منفی گروتھ مالی سال 52-1951ء میں دیکھی گئی تھی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلہ کے باعث ملکی معیشت دوبارہ بحالی کی جانب گامزن ہے

1555619
پاکستان کی معیشت  گرواٹ سے نکل کر  بہتری کی جانب گامزن

سال 2020ء کے آغاز میں پاکستان کے معاشی اعشاریوں میں گراوٹ کے بعد بہتری آنا شروع ہوئی البتہ عالمی وبا کورونا کے باعث لاک ڈاؤن نے پوری دنیا کی معیشت کو اپنی جکڑ میں لیا، اس کے منفی اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑے۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح منفی 0.38 تک کم ہو گئی۔

 پاکستان کی معیشت میں آخری مرتبہ منفی گروتھ مالی سال 52-1951ء میں دیکھی گئی تھی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلہ کے باعث ملکی معیشت دوبارہ بحالی کی جانب گامزن ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.426 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق جون 2020ء کے اختتام پر ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب 88 کروڑ ڈالر کی سطح پر تھے، جس میں سے سٹیٹ بینک کے پاس 12 ارب 13 کروڑ ڈالر کے ذخائر جبکہ نجی بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 6 ارب 75 کروڑ ڈالر تھا۔ تاہم 18 دسمبر 2020ء کو سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس 13 ارب 21 کروڑ ڈالر کے ذخائر جبکہ دیگر بینکوں کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر کا حجم 7 ارب 9 کروڑ ڈالر ہے۔

 اسی طرح سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال 2021ء میں جولائی سے نومبر کے دوران ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 27 فیصد زیادہ ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق پچھلے پانچ سال کے برعکس رواں مالی سال 2021 میں موجودہ تجارتی توازن میں بہتری دیکھنے میں آئی سے جبکہ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ کے باعث اکاؤنٹ سرپلس کی طرف گامزن ہے۔

سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل پانچویں مہینے سرپلس ہونے کے بعد 44 کروڑ 70 لاکھ ڈالر پر پہنچ گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 32 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا۔ مزید برآں رواں مالی سال میں جولائی سے نومبر کے دوران مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بڑھ کر 1.64 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران 1.745 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ کورونا لاک ڈاؤن کے باعث متاثرہ معیشت کی بحالی ممکن بنانے کیلئے وزیراعظم عمران خان نے اپریل 2020 میں تعمیراتی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جس کے باعث معیشت میں بہتری آئی اور ملک میں روپے کی گردش میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اس پیکج کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس معاف کردیا اور صرف اسٹیل اور سیمنٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکس کو برقرار رکھا جبکہ تعمیرات کے شعبہ میں شامل دیگر چیزوں پر ٹیکس معاف کر دیا۔ اس کے علاوہ نئی پالیسی کے تحت بینک نجی قرضوں میں سے 5 فیصد تعمیرات کے شعبہ کو دینے کے پابند ہوں گے۔

اس کے ساتھ بینکس تعمیرات کے شعبہ میں سالانہ 330 ارب روپے کے قرضے دے سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے تعمیرات کے شعبہ میں فکسڈ ٹیکس پالیسی متعارف کرائی جس کے تحت 31 دسمبر تک تعمیرات کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے۔ ہاؤسنگ اور تعمیراتی صنعت سے معیشت مضبوط کرنے کیلئے نیا پاکستان ہاؤسنگ کے لئے 30 ارب کی سبسڈی بھی رکھی گئی۔ ہر گھر پر 3 لاکھ روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت 10 مرلہ کے گھر پر 7 فیصد جبکہ پانچ مرلہ کے گھر پر 5 فیصد سود دینا ہو گا اور لوگ قرضوں کی قسطیں آسانی سے ادا کر سکیں گے۔ وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 2021 میں چار ہزار 900 ارب روپے کا ٹیکس اکھٹا کرنے کا ہدف مقرر کیا۔ ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں ٹیکس محصولات گذشتہ مالی سال مقابلہ میں چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایف بھی آر نے رواں مالی سال میں جولائی تا نومبر 2020 کے دوران 1688 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا جبکہ اس کا مقرر کردہ ہدف 1669 ارب روپے تھا۔ گزشتہ مالی سال کے ان پانچ ماہ میں 1623 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا گیا تھا۔ جس میں سے انکم ٹیکس کی مد میں 577 ارب روپے حاصل ہوئے، سیلز ٹیکس سے 743 روپے ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 104 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی سے 264 ارب روپے حاصل ہوئے ہیں۔ مزید برآں ایف بی آر نے رواں مالی سال میں جولائی تا دسمبر 2020 کے دوران 144 روپے کے ریفنڈز جاری کیے جبکہ گزشتہ مالی کے سال اس عرصہ میں جاری کردہ ریفنڈز 76 ارب روپے تھے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے مینو فیکچررز کی آسانی کے لیے ایک صفحہ پر مشتمل ٹیکس گوشوارہ بھی متعارف کرایا گیا۔ 8 دسمبر 2020 تک 17 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے ہیں۔ جنوری 2020 کے دوسرے ہفتہ میں مارکیٹ میں تیزی کے باعث انڈیکس 43,200 کی سطح کو عبور کر گیا لیکن عالمی وباء کورونا نے دنیا بھر کی معاشی سرگرمیوں کو منجمد کر دیا جس کے سبب صرف دو ماہ کے بعد پاکستان اسٹاک ایکچینج انڈیکس 27,200کی سطح پر آگیا تاہم لاک ڈائون میں نرمی کی حکومتی پالیسی کے تحت مارکیٹ نے پھر رفتار پکڑی اور دسمبر 2020 کو 43,416کی سطح پر آ گئی جس میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔ عالمی وبا کورونا کے باعث معاشی سست روی کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ میں روانی کیلئے رواں سال 625 بیس پوائنٹ کی کمی کر کے مانیٹری ریٹ 7 فیصد کر دیا جو ابھی تک قائم رکھا گیا ہے۔

 



متعللقہ خبریں