پاکستان اور افغانستان کا انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور قریبی تعاون بڑھانے پر اتفاق

وزیر اعظم عمران خان، جو پہلی بار افغانستان کے دورے پر کابل آئے، نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے ، بین الافغان امن عمل اور علاقائی اقتصادی ترقی پر تبادلہ خیال کیا گیا

1531195
پاکستان اور افغانستان کا انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور قریبی تعاون بڑھانے پر اتفاق

کستان اور افغانستان نے افغانستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور قریبی تعاون بڑھانے کے لئے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جمعرات کو یہاں صدارتی محل میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لئے فوری اقدامات کے سلسلہ میں اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم عمران خان، جو پہلی بار افغانستان کے دورے پر کابل آئے، نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے ، بین الافغان امن عمل اور علاقائی اقتصادی ترقی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے افغان حکومت کو پاکستان کی طرف سے افغانستان میں تشدد کے خاتمے کے لئے تعاون اور جنگ بندی کے سلسلہ میں اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کی کس طرح مدد کر سکتا ہے۔ انہوں نے افغان صدر کو یقین دلایا کہ وہ تشددمیں کمی کے لئے بھرپور مدد فراہم کریں گے۔
وزیر اعظم نے افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے باہمی تبادلہ خیال کے لئے دونوں حکومتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹیوں کے قیام کی حمایت کی۔
وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کے دورے پر دعوت دینے کے لئے افغان صدر اشرف غنی کاشکریہ اداکیا اور اس اعتماد کا اظہار کیاکہ اس سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مددملے
گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تاریخی روابط اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے 60 اور 70 کی دہائی کا ذکر کیا جب کابل اور پشاردونوں ممالک کے شہریوں کے لئے پسندیدہ مقامات تھے۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس امر پر افسوس کااظہار کیا کہ افغانستان کے شہریوں کو گزشتہ چاردہائیوں سے تشدد کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس صورتحال پر اس لئے بھی بہت تشویش ہے کہ اس کے قبائلی علاقے اس صورتحال سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مخصوص وقت میں میرے دورے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان اور پورے خطے میں خوشحالی کو یقینی بنانے کے لئے امن اور روابط کا فروغ بہترین ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی کمیٹیوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مابین قریبی تعاون سے امن اور استحکام کے لئے موثر حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکسان نے بین الافغان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
قطر امن معاہدے کے باوجود تشدد میں اضافے پر وزیر اعظم نے تشویش کااظہار کیا اور کہاکہ ہم اعتماد سازی کے لئے افغان حکومت کی توقعات کو پورا کرنے میں مدد دیں گے۔ قبل ازیں افغان صدر اشرف غنی نے وزیر اعظم عمران خان کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے دورے کو اعتماد اور تعاون میں اضافہ کے لئے اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری مشترکہ توجہ غربت کے خاتمے اور اپنے عوام کو بااختیار بنانے پر ہو گی۔



متعللقہ خبریں