وطن عزیز کو ایک فلاحی ریاست کے سانچے میں ڈھالنے کا جام جاری ہے: وزیراعظم عمران خان

عیدمیلادالنبی 1442ھ 2020ءکے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ سرورکائنات حضرت محمد رسول اﷲ خاتم النبیین کی حیثیت اس کائنات میں اس بے مثال آفتاب کی ہے جو غار حرا سے طلوع ہوا اور ساری کائنات کو رحمت اور ہمدردی کے نور سے منور فرمایا

1518564
وطن عزیز کو ایک فلاحی ریاست کے سانچے میں ڈھالنے کا جام جاری ہے: وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری یہ کوشش ہے کہ ہم ریاست مدینہ کے تصور سے پوری طرح سے رہنمائی حاصل کرکے وطن عزیز کو ایک فلاحی ریاست کے سانچے میں ڈھالیں، یہ ایک مسلسل اور صبر طلب راستہ ہے مگر ہم نے بحیثیت قوم اس سفر کا آغاز کر دیا ہے، اب انشاءاﷲ منزل زیادہ دور نہیں اور بہت جلد اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے، میں آج معلم انسانیت حضرت محمدرسول اﷲ خاتم النبیین کے یوم ولادت کے موقع پر اہلیان وطن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ یہ ماہ مبارک ہم سب کے لئے باعث رحمت ثابت ہو۔

 عیدمیلادالنبی 1442ھ 2020ءکے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ سرورکائنات حضرت محمد رسول اﷲ خاتم النبیین کی حیثیت اس کائنات میں اس بے مثال آفتاب کی ہے جو غار حرا سے طلوع ہوا اور ساری کائنات کو رحمت اور ہمدردی کے نور سے منور فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ خاتم النبیین کی بے مثل تعلیمات رہتی دنیا تک کے نظاموں اور انسانوں کے لئے مشعل راہ ہیں، آپ خاتم النبیین کی ساری زندگی جہد مسلسل، انسانیت کی رہنمائی اور دنیا وآخرت کی فلاح پر مشتمل عظیم نظام کے قیام سے عبارت ہے۔ آپ نے آج سے 14 سو سال پہلے اپنی زندگی کے مختصر سے عرصہ میں ایک ایسی مثالی فلاحی ریاست قائم کرکے دکھائی جس کی نظیر آج تک نہیں ملتی، جدید دور کے رفاہ اور فلاح عامہ کی بنیاد پر تشکیل پانے والے معاشرے ٹھیک انہی اصولوں پر قائم ہیں جن کی بنیاد حضور خاتم النبیین نے آج سے 14 سو سال پہلے ریاست مدینہ کے طور پر رکھی تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عدل و انصاف، معاشی و معاشرتی مساوات، مذہبی و سماجی آزادی، اعلیٰ اخلاقی اقدار، رفاہ عامہ، ہمدری اور غریب پروری وہ اعلیٰ اوصاف ہیں جن کا عملی نمونہ ریاست مدینہ کے طورپر موجود تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ مغربی ممالک نے ریاست مدینہ سے رہنمائی لے کر انسانی فلاح وبہبود کے لئے کام کیا ہے لیکن مسلم دنیا مسلسل زوال پذیر ہونے کے باوجود بھی اس سے رہنمائی لینے اور نظام کو اس کے تابع بنانے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ کوشش ہے کہ ہم ریاست مدینہ کے تصور سے پوری طرح سے رہنمائی حاصل کرکے وطن عزیز کو ایک فلاحی ریاست کے سانچے میں ڈھالیں۔ اس حوالے سے مختلف شعبہ جات میں معاشی اور معاشرتی اصلاحاتی ایجنڈا پر عمل جاری ہے، یہ ایک مسلسل اور صبر طلب راستہ ہے مگر ہم نے بحیثیت قوم اس سفر کا آغاز کر دیا ہے، اب انشاءاﷲ منزل زیادہ دور نہیں اور بہت جلد اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے میری تمام اہلیان وطن اور بالخصوص علماءسے درخواست ہے کہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ وطن عزیز بھی ایک فلاحی ریاست بن سکے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ میں اس موقع سے فائدہ ا±ٹھاتے ہوئے قوم سے یہ اپیل بھی کرنا چاہوں گا کہ ہم نے کورونا وائرس کو پہلے مرحلے میں اﷲ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے زیادہ پھیلائوسے روکا لیکن پچھلے کچھ عرصہ سے اس وائرس کی دوسری لہر سر اٹھا رہی ہے، ہمیں چاہئے کہ مسلسل احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا رہیں تاکہ پورے ملک وقوم کو وائرس کی تباہ کاریوں اور مضراثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نبی اکرم کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں اپنے روزوشب بسر کرنے اور سیرت مطہرہ کے پیغام کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 



متعللقہ خبریں