کورونا وائرس کےواقعات پر قابو پانےکےلیےعوام کواحتیاطی تدابیر پر سختی سےعمل درآمد کرنا ہوگا: اسد عمر

وفاقی وزیر اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا 70روز بعد کورونا مثبت آنے کی سطح گزشتہ روز 3 فیصد سے زیادہ رہی

1518661
کورونا وائرس کےواقعات پر قابو پانےکےلیےعوام کواحتیاطی تدابیر پر سختی سےعمل درآمد کرنا ہوگا: اسد عمر

وفاقی وزیراسد عمر کا کہنا ہے کہ ستر روز بعد کورونا مثبت آنے کی شرح میں تین فیصد اضافہ ہوا، وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے عوام کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔

 وفاقی وزیر اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا 70روز بعد کورونا مثبت آنے کی سطح گزشتہ روز 3 فیصد سے زیادہ رہی ، این سی اوسی نے سماجی سرگرمیوں پر پابندیاں سخت کی ہیں، وبا کو پھیلنے سے روکنےکیلئے عوام کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔

عوام سے اپیل ہے ماسک پہننے کو زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔

اسدعمر کا کہنا تھا کہ ملک میں مارکیٹس،دکانیں،شاپنگ مالز اور شادی ہالز رات10بجےبندکرنےکافیصلہ کیاہے جبکہ تفریح گاہیں جہاں عوام کا رش ہوتا ہے 6 بجے بند کیے جائیں گے۔

انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ کوروناوباکاپھیلاؤ بڑھ رہا ہے، ایس او پیز کا خیال رکھیں۔

خیال رہے حکومت کی جانب سے ملک بھر میں ماسک سے متعلق پابندی کا اطلاق آج سے ہوگا ، جس کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ، عوامی اجتماع ، مارکیٹوں ،بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر سب کو ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر کے تناظر میں تمام کاروباری مراکز شادی ہال ، ریستوران اور شاپنگ مال کو روزانہ رات دس بجے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

اس فیصلے کا مقصد ملک میں پہلے سے بڑھتی ہوئی کورونا وائرس کی وبا کو روکنا ہے۔
ضروری خدمات جیسے میڈیکل سٹورز کلینک اور ہسپتال کھلے رہیں گے جبکہ عوامی پارک شام چھ بجے تک بند کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔
این سی او سی نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بازاروں ، شاپنگ مال ، پبلک ٹرانسپورٹ اور ریستورانوں میں منہ ڈھانپنے اور دوسرے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
این سی او سی نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری اور نجی دفاتر میں ماسک سے چہرہ ڈھانپنا لازمی ہوگا۔
اِن فیصلوں پر آج سے کراچی ، لاہور ، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان حیدر آباد، گلگت ، مظفر آباد ، میرپور ، پشاور اور کوئٹہ جیسے شہروں میں عملدآمد کیا جائے گا۔



متعللقہ خبریں