آنےوالی نسلوں کےمستقبل کومحفوظ بنانےکیلئےجنگلات کےکٹائواورآلودگی جیسےمسائل پرقابوپاناہوگا: وزیراعظم

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کلین گرین انڈیکس ایوارڈز تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا

1512375
آنےوالی نسلوں کےمستقبل کومحفوظ بنانےکیلئےجنگلات کےکٹائواورآلودگی جیسےمسائل پرقابوپاناہوگا: وزیراعظم

 

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے جنگلات کے کٹائو اور آلودگی جیسے مسائل پر قابو پانا ہو گا، صفائی ستھرائی ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اس حوالہ سے لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، رضاکارانہ خدمت کا جذبہ ہماری قومی طاقت ہے جس سے حکومتی سطح پر استفادہ کیا جانا چاہئے، سزا اور جزا کے نظام کے ساتھ معاشرے میں اچھے کاموں کو ترقی دی جا سکتی ہے، صاف سبز انڈیکس کے تحت شہروں کے مابین مقابلے کا اہتمام حوصلہ افزاءاقدام ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کلین گرین انڈیکس ایوارڈز تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  وزیراعظم نے کہا کہ اس کامیاب اقدام پر امین اسلم، زرتاج گل سمیت وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے حکام اور متعلقہ شہروں کے انتظامی افسران کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے مابین صفائی ستھرائی کے حوالہ سے مقابلے کا تصور پیش کرنا ایک خوش آئندہ عمل ہے، اس سے ہمیں آلودگی جیسے مسائل میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم اس حوالہ سے بڑی خوش قسمت ہے کہ یہاں رضاکارانہ خدمت کا بھرپور جذبہ پایا جاتا ہے، شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے دوران قوم کے جذبہ سے بہت متاثر ہوا، یہ جذبہ ہماری قومی طاقت ہے تاہم حکومتی سطح پر ماضی میں اس سے استفادہ نہیں کیا جا سکا جس کی بڑی وجہ عوام اور حکومتوں کے درمیان فاصلہ ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان خوبصورتی اور قدرتی وسائل کے حوالہ سے بے مثال ملک ہے تاہم ہم نے اپنی زندگی میں اس کے جنگلات کو تباہ اور شہروں کو آلودہ ہوتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کیلئے جنگلات کو بحال کرنا ہے اور آلودگی میں کمی لانا ہے، اس مقصد کیلئے ہماری حکومت نے 10 ارب درخت لگانے کا پروگرام شروع کیا ہے، اسی طرح شہروں کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ سالڈویسٹ مینجمنٹ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، اس سلسلہ میں ویسٹ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو سرسبز اور صاف ستھرا بنانے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو اس تحریک میں شامل کرنا ہے، اس سلسلہ میں پہلے لوگوں کی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تبدیلی پہلے ہمیشہ ذہنوں میں آتی ہے۔ وزیراعظم نے کلین گرین انڈیکس ایوارڈز حاصل کرنے والے شہروں کے منتظمین کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاشرے میں آگے بڑھنے کیلئے جزا و سزا کے نظام کو فروغ دینا ہے، اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، اس مقصد کیلئے انہیں سہولیات و مراعات دی جائیں گی، اسی طرح پروگرام کے تحت صفائی ستھرائی کے حوالہ سے اچھی کارکردگی نہ دکھانے کے ذمہ داران کو سزا ملنی چاہئے۔

 وزیراعظم نے رضاکاروں کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے کام کرنے والے رضاکار ہمارے ہیرو ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف موجودہ حکومت کی کامیابی کو عالمی سطح پر سراہا گیا، پاکستان نے وبا کے دوران لوگوں کی صحت کے ساتھ ساتھ انہیں معاشی تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور جیسے زیادہ آلودگی والے شہر میں اکتوبر، نومبر، دسمبر کے مہینوں کے دوران کورونا کے کیسز بڑھنے کا خدشہ ہے، حکومتی سطح پر اس پہلو کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، ماحولیاتی تحفظ کے حوالہ سے لوگوں میں شعور بیدار کرنا ہے۔



متعللقہ خبریں