آل پارٹیز کانفرنس نے حکومت مخالف ‘’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’’ کے نام سے نیا اتحاد قائ٘ئم کرلیا

اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا کو اعلامیے کے نکات سے متعلق آگاہ کییا۔ اس کے علاوہ آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ حکومت مخالف یہ لانگ مارچ جنوری 2021ء کو ہوگا

1494339
آل پارٹیز کانفرنس نے حکومت مخالف ‘’پاکستان ڈیموکریٹک  موومنٹ’’ کے نام سے نیا اتحاد قائ٘ئم کرلیا

آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے حکومت مخالف نیا اتحاد بنا لیا. جنوری 2021ء میں حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم کے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اپوزیشن نے حکومت مخالف الائنس کے نام پر مشاورت کے بعد اسے ‘’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’’ کا نام دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا کو اعلامیے کے نکات سے متعلق آگاہ کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر اپوزیشن کی اے پی سی ہوئی، جس میں اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سےالائنس تشکیل دیا ہے۔

اس کے علاوہ آل پارٹیز (اے پی سی) کانفرنس میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ حکومت مخالف یہ لانگ مارچ جنوری 2021ء کو ہوگا۔

اپوزیشن کے لانگ مارچ سے قبل ملک بھر میں ریلیاں اور جلسے ہوں گے۔ اس کے علاوہ اے پی سی نے وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں 26 نکاتی قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے قومی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1947ء سے اب تک تاریخ کو دستاویزی شکل دینے کیلئے ٹروتھ کمیشن اور چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے۔

علامیے کے مطابق اپوزیشن ربر اسٹمپ پارلیمنٹ سے کوئی تعاون نہیں کرے گی، موجودہ حکومت نےپارلیمان کو مفلوج کردیا ہے، اجلاس نے ٹروتھ کمیشن کا مطالبہ کیا ہے، تباہ حال معیشت ملک کے لیے خطرہ بن چکی ہے، میثاق جمہوریت پر نظرثانی کی جائے گی، متحدہ اپوزیشن ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کرتی ہے، اس تحریک میں وکلا، تاجر،کسان، عوام اور سول سوسائٹی کو بھی شامل کیا جائے گا،

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ‘’سلیکٹڈ’’ حکومت کو دھاندلی سے مسلط کیا گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ الیکشن میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ تباہ حال معیشت ملک کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ آٹا، چینی، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو کم کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں غیر جانبدار ججز کو بے بنیاد مقدمات میں جکڑنے پر شدید تشویش کا اظہار اور مذمت کی گئی۔ اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج کے بعد ربڑ پارلیمنٹ سے اپوزیشن کوئی تعاون نہیں کرے گی۔ میڈیکل کمیشن سمیت شہری آزادیوں کے خلاف قانون سازی کو واپس لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اے پی سی وزیراعظم کے فوری استعفے کا مطالبہ کرتی ہے۔ دسمبر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ جنوری 2021ء میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہوگا۔

اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کا میڈیا سے گفتگو کا کہنا تھا کہ اے پی سی میں اتفاق رائے سے فیصلے کیے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی۔ سوا 2 سال میں معیشت کا بیڑہ غرق کیا گیا۔ حکومت کا مزید قائم رہنا ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ ڈیموکریٹک موومنٹ کل سے کام شروع کرے گی۔ ہم ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ سلیکٹڈ حکومت کیخلاف نکل رہے ہیں، امید ہے عوام ساتھ دیں گے۔



متعللقہ خبریں