جنہوں نےعوام کااستحصال کیا ہے ان کے پیچھے جائیں گے، ان کو ملک لوٹنے نہیں دیں گے : وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جب تک ہم نظریہ اوراصول پرقائم ہیں کوئی ہماری حکومت نہیں گراسکتا، مشرف کی حکومت اچھی تھی لیکن دواین آراوز سے 10 سال تک اس ملک کو لوٹنے میں مددملی

1446717
جنہوں نےعوام کااستحصال کیا ہے ان کے پیچھے جائیں گے، ان کو ملک لوٹنے نہیں دیں گے : وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جب تک ہم نظریہ اوراصول پرقائم ہیں کوئی ہماری حکومت نہیں گراسکتا، مشرف کی حکومت اچھی تھی لیکن دواین آراوز سے 10 سال تک اس ملک کو لوٹنے میں مددملی ، یہ لوگ سوچ رہے ہیں کہ مجھے مائنس کرکے یہ بچ جائیں گے، اگرمیں مائنس بھی ہوگیا تو یہ پھر بھی نہیں بچیں گے، ہم ہرجگہ تحقیقات کریں گے اورجنہوں نے عوام کااستحصال کیا ہے ان کے پیچھے جائیں گے، میرا قوم سے وعدہ تھا کہ اپے وژن اورمشن پرکاربند رہوں گا، مدینہ کی ریاست کے اصولوں کی بنیادپرملک کی تشکیل میرا مشن ہے۔

 منگل کو قومی اسمبلی میں بجٹ کی تکمیل پراظہارخیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پارٹی کے ارکان اسمبلی اوراتحادیوں کاشکریہ اداکیا اورکہاکہ سب نے ایک جذبہ کے ساتھ بجٹ کی منظوری میں حصہ لیا ہے۔ بجٹ سے ایک رات قبل ٹی وی شوز میں ایسا پیش کیا جاتارہاکہ کچھ بھی ہوسکتاہے اوریہ حکومت کاآخری دن ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ خواتین ارکان کا بھی شکریہ اداکرتے ہیں جو ایوان کی کارروائی میں بھرپورحصہ لے رہی ہے، مجھے پارٹی کے چیف وہپ عامرڈوگرنے خواتین اراکین کی کارگردگی بارے بتایا ہے، میں اقلیتی اراکین کا بھی مشکورہوں۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ اپنے خطاب کے آغاز میں پاکستان کے ان ہیروز کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے کل کراچی میں اپنی جانوں کی قربانی دیکر پاکستان کوعدم استحکام کا شکارکرنے والوں کے منصوبہ کوناکام بنایا ۔

وزیراعظم نے کہاکہ ہماری سکیورٹی فورسز نے قربانیاں دیکرملک کوایک بڑے سانحہ سے بچایا ہے، ہندوستان نے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچارکرنے کیلئے ایک بڑا منصوبہ بنایا تھا، دہشت گرد بھاری تعدادمیں اسلحہ لیکرآئے تھے، یہ ممبئی طرز کے حملہ کرکے اور بے قصورلوگوں کوقتل کرکے پاکستان کو عدم استحکام اوربے یقینی کاشکاربنانا چاہتے تھے۔ وزیراعظم نے کہاکہ کوئی شک نہیں کہ یہ حملہ ہندوستان سے ہواہے، پاکستان کے سکیورٹی ادارے الرٹ تھے اورگزشتہ دوماہ میں کابینہ میں بھی ملکی سلامتی کے حوالے سے صورتحال بارے گفتگو ہوتی رہی ، ہمارے سکیورٹی ادارے تیارتھے اوراللہ کا شکرہے کہ حملہ کو ناکام بنایا گیا کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں تیاریوں کے باوجود بھی اس طرح کے حملوں کو مکمل طورپر ناکام نہیں بنایا جاسکتا، یہ ہماری ایک بہت بڑی کامیابی ہے اور میں پاکستان کے سکیورٹی اورانٹیلی جنس اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ مالی سال کابجٹ مشکل حالات میں بنایا گیاہے ، وبا سے قبل 4900 ارب کے محصولات کی طرف سفرجاری تھا، پہلے 9 ماہ میں محصولات میں 17 فیصد اضافہ ہواتھا، تاہم کورونا کی وجہ سے رکاوٹیں پیش آئی۔ وزیراعظم نے کہاکہ لاک ڈاون کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشتوں پراثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان بھی اس سے متاثرہوا اورہمیں ٹیکس محصولات میں تقریباً ایک ٹریلین کے شارٹ فال کا سامناکرنا پڑا، لاک ڈاون کی وجہ سے معیشتوں کی صورتحال کا اب بھی درست اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، میں اپنی ٹیم کا شکریہ اداکرتا ہوں اورانہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

 وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں لاک ڈائون پرمسائل پیدا ہوئے جو لوگ لاک ڈائون کے حمایتی تھے وہ کبھی کچی بستیوں میں نہیں گئے، ان بستیوں میں ایک ایک کمرے میں آٹھ آٹھ لوگ رہ رہے ہیں ، یورپ کی پیروی میں لاک ڈاون کیا گیا، میں شروع سے ہی مکمل لاک ڈاون کے حق میں نہیں تھا، اس لئے حکومت نے تعمیرات اورچھوٹی صنعتوں کو بتدریج کھولنے کا فیصلہ کیا، ہمارے معاشی حالات پہلے سے ٹھیک نہیں تھے ، پاکستان میں 80 فیصد مزدوروں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی ، حکومت کو غریب اوریومیہ مزدوروں تک پہنچنے جیسی مشکلات کا سامناتھا، مکمل لاک ڈائون کے معاملہ پرہم پرتنقید ہوئی لیکن اس لاک ڈائون میں جب امدادی گاڑیاں غریب بستیوں میں جاتی تھیں تو لوگ گاڑیوں پرحملے کرتے رہے۔



متعللقہ خبریں