حکومت کی رونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے پالیسی میں شروع دن سے کوئی تضاد نہیں : عمران خان

وزیراعظم نے کہا کہ اتنی زیادہ آبادی کے ہوتے ہوئے زیادہ عرصے تک مکمل لاک ڈاؤن لگانا ممکن نہیں کیونکہ ہمیں لوگوں کو کورونا وائرس اور بھوک سے بھی بچانا ہے لہٰذا سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے

1443643
حکومت کی رونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے  پالیسی میں شروع دن سے کوئی تضاد نہیں : عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومتی پالیسی میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

انہوں نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فوری طور پر لاک ڈائون نافذ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اتنی زیادہ آبادی کے ہوتے ہوئے زیادہ عرصے تک مکمل لاک ڈاؤن لگانا ممکن نہیں کیونکہ ہمیں لوگوں کو کورونا وائرس اور بھوک سے بھی بچانا ہے لہٰذا سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس عالمگیر وبا سے موثر طور پر نمٹنے کی غرض سے سہولیات کی مکمل معلومات اور تفصیلات کے حصول کے لئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر قائم کیا گیاہے۔
انہوں نے کہا کہ وبا کی روک تھام کے لئے ایس او پیز پر عمل درآمد کی غرض سے عوام کو قائل کرنے کے لئے ٹائیگر فورس تعینات کی گئی ہے۔
مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تعمیراتی اور زرعی شعبوں کو ترجیح دیکر کم شرح سود پر لوگوں کو سستے گھروں کی فراہمی کیلئے تیس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ صنعتی شعبے کے احباء اور اس کے پھیلائو کیلئے ہزاروں اقسام کے خام مال پر ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ایس اوپیز کے ساتھ سیاحتی شعبے کو دوبارہ کھولنے کیلئے کوششیں جاری ہیں تاکہ اس شعبے سے وابستہ افراد کا روزگار بچایا جاسکے۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت نے احساس پروگرام شروع کیا اور ایک کروڑ بیس لاکھ مستحق کنبوں میں شفاف انداز میں ایک سو چالیس ارب روپے تقسیم کئے۔
فلاحی ریاست کے بارے میں اپنے ویژن کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ملک کے مختلف حصوں میں دوسو پناہ گاہیں قائم کی ہیں اور ان میں مزید اضافہ کیا جائیگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملک کے تمام حصوں کی مساوی ترقی میں یقین رکھتی ہے اور خیبرپختونخوا میں ضم کئے گئے اضلاع اور بلوچستان کیلئے نئے بجٹ میں وافر رقم مختص کی گئی ہے۔
تاہم انہوں نے صوبوں سے اپیل کی کہ وہ سابقہ فاٹا کیلئے اعلان کردہ این ایف سی ایوارڈ میں سے تین فیصد حصہ فراہم کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے یکساں نصاب تیار کیا ہے جو آئندہ سال مارچ میں نافذ کیا جائیگا۔
وزیراعظم نے ٹڈی دل کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے بھرپور کوششوں کا یقین دلایا۔
عمران خان نے ورشگاف الفاظ میں کہا کہ حزب اختلاف کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے تاہم وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ترقی کیلئے قانون کی حکمرانی اور قیادت کا احتساب ناگزیر ہے۔
سیاسی انتقام کے تاثر کو رد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے خلاف نوے فیصد مقدمات ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے قائم کئے گئے۔
چینی کے حالیہ سکینڈل کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ معاملے کی تاریخی تحقیقات کی گئیں جن میں یہ بات سامنے آئی کہ چار سال میں شوگر ملوں کو 29ارب روپے کی سبسڈی دی گئی لیکن انہوں نے صرف چار ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔
خارجہ پالیسی میں پی ٹی آئی حکومت کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر آج عالمی سطح پر اجاگر ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ساری دنیا بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کو دیکھ رہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا حق خودارادیت 8لاکھ بھارتی فوجیوں کی تعیناتی سے دبایا نہیں جاسکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان کے امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان امریکی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ امن مذاکرات میں سہولت کیلئے ہمیشہ تیار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان کے امن عمل میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کرتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بہتری کیلئے کوشاں ہے۔
سابقہ حکومتوں کے ساتھ موجودہ حکومت کی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حسابات جاریہ کا خسارہ 20ارب ڈالرز سے کم کرکے صرف تین ارب ڈالرز کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی تو سٹیٹ بنک سے لئے گئے قرضوں کا حجم 6کھرب روپے تھا اب یہ حجم صفر تک لایا جاچکا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر چلانے کے عزم کا اعادہ کیا جہاں میرٹ اور قوانین کی پاسداری ریاستی شعار تھے۔



متعللقہ خبریں