پورے ملک میں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن 7 اپریل صبح 9 بجے تک جاری رہے گا

زیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے اعلان کےبعد محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سےلاک ڈاؤن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔لاہوراور راولپنڈی سمیت صوبے بھرمیں تمام سرکاری و نجی ادارےمکمل بند ہیں

1383952
پورے ملک میں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن 7 اپریل صبح 9 بجے تک جاری رہے گا

کورونا سے نمٹنے کیلئے پورے ملک میں لاک ڈاؤن، پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہے، میٹرو سروس بھی تاحکم ثانی بند ہے، موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی ہے۔ لاک ڈاؤن 7 اپریل صبح 9 بجے تک جاری رہے گاجبکہ سرکاری اور نجی دفاتر، شاپنگ مالز، تفریحی مقامات بند رہیں گے۔

 پنجاب میں لاک ڈاؤن کا آغاز صبح 9 بجے ہوا جس کے دوران اندرون شہر اور ایک سے دوسرے شہر میں نقل و حمل ممنوع ہے۔ سماجی، مذہبی اور دیگر اجتماعات پر بھی پابندی ہو گی، شہر کی چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند ہیں۔

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے اعلان کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے لاک ڈاؤن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

لاہور اور راولپنڈی سمیت صوبے بھر میں تمام سرکاری و نجی ادارے مکمل بند ہیں تاہم بینک، میڈیکل اسٹورز اور اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلی ہیں اور شہریوں کو وہاں سے خریداری کی اجازت ہے۔

حکومت نے پنجاب کورونا آرڈیننس 2020 تیار کر لیا۔ ذرائع گورنر ہاؤس کے مطابق آرڈیننس کے تحت پنجاب میں کسی بھی شخص کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے گا، کسی بھی شہری کو علاج کی غرض سے تحویل میں لے کر گھر سے سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکے گا۔

آرڈیننس کی حکم عدولی پر 10 ہزار روپے سے 50 ہزار روپے جرمانہ یا 6 ماہ قید کی سزا ہوگی، آج صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آرڈیننس کی منظوری دی جائے گی اور سیکرٹری صحت کیپٹن (ر)محمد عثمان آرڈیننس پیش کریں گے۔

 پنجاب میں جزوی لاک ڈاؤن کے دوران میڈیکل سٹور، فار ما فیکٹریاں، کریانہ سٹور کھلے رہیں گی، دودھ، دہی، فروٹ اور سبزی کی دکانوں سے بھی لوگ خریداری کرسکیں گے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق جزوی لاک ڈاؤن کے دوران سیکیورٹی اداروں، محکمہ صحت کے ملازمین اور صحافیوں کو استثنیٰ دیا گیا، سیکیورٹی ایجنسیز بھی پابندی سے مستثنٰی ہوں گی۔

کال سینٹرز میں 50 فیصد عملے کے ساتھ اور بغیر پبلک ڈیلنگ کی اجازت ہوگی، ایسے سرکاری ملازمین جن کے پاس مصدقہ اجازت نامہ ہو گا، وہ گھروں سے باہر آ سکیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق فیملی سے ایک شخص ضروری اشیا کی خریداری کیلئے گھر سے باہر آسکیں گے، صرف 2 افراد ضروری ادویات اور گراسری خریدنے کیلئے گھر سے باہر آسکیں گے۔ ایمرجنسی میں مریض کیساتھ 2 تیمارداروں ہسپتال جانے کی اجازت ہوگی، مذہبی رسومات نماز جنازہ یا تدفین کیلئے گھر سے باہر آ سکیں گے۔

ملک کے تین صوبوں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے علاوہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی حکومتوں نے مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ملک بھر میں فوج بھی طلب کر لی گئی ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے بھی سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے بعد صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی خدشات کے پیش نظر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظر سندھ اور پنجاب کے بعد بلوچستان میں بھی لاک ڈاؤن کا آغاز ہو گیا ہے۔



متعللقہ خبریں