ملک کو آبادی میں اضافہ اور صحت کے مسائل جیسے چیلنجز درپیش ہیں: صدر عارف علوی

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو آبادی کے حوالے سے پارلیمانی فورم کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز، سینیٹر مشاہد حسین سید اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بھی خطاب کیا

1376803
ملک کو آبادی میں اضافہ اور صحت کے مسائل جیسے چیلنجز درپیش ہیں: صدر  عارف علوی

 

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک کو آبادی میں اضافہ اور صحت کے مسائل جیسے چیلنجز درپیش ہیں، تمام شراکت داروں کو عوامی فلاح کے معاملات پر احساس ملکیت کے ساتھ متحد ہو کر کام کرنا چاہیے، اس حوالے سے قومی نمائندوں، علما و مشائخ اور میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، کسی بھی شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے اپنی ترجیحات ،اہداف، حکمت عملی اور مدت متعین کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے تجربات سے بھی استفادہ کرنا ضروری ہے، ہمیں اپنے معاشرتی اور شہری فرائض سے آگاہ ہونا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو آبادی کے حوالے سے پارلیمانی فورم کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز، سینیٹر مشاہد حسین سید اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بھی خطاب کیا۔ صدر مملکت نے پارلیمانی فورم کے اجراء کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آبادی کے مسئلہ کی سنگینی کے پیش نظر آج کا دن پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بہت اہم ہے، آبادی میں اضافہ سے غربت، خوراک اور صحت جیسے دیگر مسائل جنم لیتے ہیں، ہمیں ان کے حل کے سلسلے میں اجتماعی مقصد اور احساس ملکیت کے ساتھ پیشرفت کرنا چاہیے ۔

صدر مملکت نے کہا کہ کسی بھی شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے اپنی ترجیحات اور اہداف واضح کرنا ہوتے ہیں جبکہ اس حوالے سے حکمت عملی واضح کرتے ہوئے ان کی تکمیل کے لئے مناسب مدت متعین کرنے کے علاوہ دوسرے ملکو ںکی کامیابیوں اور ناکامیوں پر مشتمل تجربات سے بھی سیکھنا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے اس کی نشاندہی کرنا او نوعیت کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بدقسمتی سے بعض مسائل صرف آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بڑھے ہیں، ان میں آبادی میں اضافہ کے علاوہ صحت کے مسائل بھی شامل ہے، پاکستان میںچھاتی کے کیسنر کی شرح باقی دنیا کی نسبت زیادہ ہے جبکہ ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کی تعداد بھی مجموعی آبادی کے10 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس طرح اولاد میں مناسب وقفہ کا نہ ہونا بھی بہت سے دیگر مسائل کی ایک وجہ ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ مناسب آگاہی اور تعلیم سے ان مسائل میں خاطر خواہ کمی لائی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں ہماری دینی تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ ہونی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگان اور میڈیا کے علاوہ علماء کرام کو بھی زمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے، یہ ملک و قوم کی بڑی خدمت ہوگی۔ اس موقع پر سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبادی میں اضافہ کی شرح پریشان کن ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے تعلیم اور آگاہی کی کوششوں کو کامیاب بنانے میں پارلیمانی فورم برائے آبادی اہم پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے سے غربت میں اضافے کے علاوہ صحت، تعلیم اور خوراک کی قلت جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، تمام شراکت دار باہمی تعاون سے اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے مشترکہ کوششیں کریں۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پارلیمانی فورم برائے آبادی کا قیام اہم اقدام ہے۔ اس ادارہ جاتی انتظام کے ذریعے آبادی کے مسئلہ کو حل کرنے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو سیاسی اونر شپ ملے گی۔ اس مو قع پر انہوں نے 20 جنوری 2020ء کو پاس کی گئی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس میں آبادی کے اضافہ سے ملک کو پیش آنے والے معاشرتی ، معاشی اور دیگر مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے آبادی میں متناسب کمی لانے کے لئے صوبائی حکومتوں اور دیگر شراکتداروں کے ساتھ مل کر بامقصد جدوجہد کرنے کی ضرورت پر زور دیاگیا ہے۔

 اس موقع پر پاپولیشن کونسل کی کنٹری ڈائریکٹر زیبا، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی کنٹری نمائندہ لینا موسی اور سینیٹر ثناء جمالی نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں ممبران پارلیمنٹ، سفارتکاروں اور ماہرین نے بھی شرکت کی۔



متعللقہ خبریں