پاکستان کی معاشی رینکنگ میں تنزلی، اقتصادیات کو بہتر بنانے میں طویل عرصہ درکار ہوگا

اس نئی رینکنگ  کےمطابق 2034ءمیں پاکستانی معیشت 50ویں پوزیشن پرہوگی جبکہ پہلےنمبر پرچین، دوسرے پر امریکہ اورتیسرے نمبرپربھارت بڑی معیشتیں ہوں گی۔ CEBRکی گزشتہ سال کی رپورٹ میں تھنک ٹینک نے پاکستان کو 2028ء میں37ویں اور2033ءمیں 27ویں بڑی معیشت بتایا گیا تھا

پاکستان کی معاشی رینکنگ میں تنزلی، اقتصادیات کو بہتر بنانے میں  طویل عرصہ درکار ہوگا

برطانیہ کے سینٹر فار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ(CEBR)  نے حال ہی میں  عالمی معیشت کی رینکنگ  جاری کی ہے۔  اس  نئی  رینکنگ  کے مطابق  2019ءمیں دنیا کے 193ممالک میں پاکستان 44ویں نمبر پر جبکہ امریکہ پہلی، چین دوسری، جاپان تیسری، جرمنی چوتھی اور بھارت کوپانچویں بڑی معیشت قرار دیا گیا ہے جبکہ 2018ءمیں پاکستان 41ویں پوزیشن پر تھا۔

اس نئی رینکنگ  کے  مطابق 2034ءمیں پاکستانی معیشت 50ویں پوزیشن پر ہوگی جبکہ پہلے نمبر پر چین، دوسرے پر امریکہ اور تیسرے نمبر پر بھارت بڑی معیشتیں ہوں گی۔ CEBRکی گزشتہ سال کی رپورٹ میں تھنک ٹینک نے پاکستان کو 2028ء میں 37ویں اور 2033ءمیں 27ویں بڑی معیشت بتایا گیا تھا۔

اس معاشی رینکنگ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ معاشی تھنک ٹینک خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مستقبل میں پاکستان کی معاشی گروتھ میں کمی دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کی معاشی گروتھ کا جائزہ لینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ 2019میں پاکستان کی جی ڈی پی 3فیصد رہی جبکہ 2018میں یہ 5.5فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق 2020سے 2025تک پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 4.2فیصد رہنے کی توقع ہے۔

پاکستان 2018میں معاشی بحران کا شکار ہوا تھا جب زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر 8ارب ڈالر کی سطح پر آگئے تھے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6سے 7فیصد تک بڑھ گیا تھا، ایکسپورٹس میں کمی اور امپورٹس میں ریکارڈ اضافے کی وجہ سے تجارتی خسارہ 38ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گیا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو 12ویں مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

پاکستان 2018میں معاشی بحران کا شکار ہوا تھا جب زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر 8ارب ڈالر کی سطح پر آگئے تھے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6سے 7فیصد تک بڑھ گیا تھا، ایکسپورٹس میں کمی اور امپورٹس میں ریکارڈ اضافے کی وجہ سے تجارتی خسارہ 38ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گیا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو 12ویں مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

عالمی اور علاقائی معیشتوں کا جائزہ لینے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان کو زرعی اور صنعتی شعبوں کو فروغ دے کر مسلسل کئی سال تک ایکسپورٹ لیڈ گروتھ سے اونچی جی ڈی پی گروتھ حاصل کرنا ہوگی۔



متعللقہ خبریں