مطالبات نہ مانے گئے تو ملک میں افراتفری ہوگی: مولانا فضل الرحمن

مولانا فضل الرحمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان ناجائز طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات کا انعقاد ہے

مطالبات نہ مانے گئے تو ملک میں افراتفری ہوگی: مولانا فضل الرحمن

امیر جمعیت العلمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ملک میں افراتفری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہادتیں لیں گے اور نعشیں اٹھائیں گے۔

جے یو آئی (ف) کے امیر نے کہا کہ کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں موجود لوگ تفریح کے لیے نہیں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ایک نظریے کے تحت آئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان ناجائز طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔

امیر جے یو آئی (ف) نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ایسی بیداری آئی ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن اپنی افادیت کھو چکا ہے۔

ایک اور سوال پرانہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت بھی دوبارہ انتخابات قبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے چاروں مطالبات متفقہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ انہیں ماننا پڑے گا۔

دریں اثنا  حکومت نے آزادی مارچ  کے بارے میں  بڑا فیصلہ کرتے ہوئے دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی کو فعال کرنے کی دعوت بھی دے دی گئی۔

 

حکومت کی جانب سے 2018 کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق بڑی پیشکش سامنے آئی ہے، اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے اپوزیشن کو باضابطہ انتخابات کی تحقیقات کی بھی پیشکش کردی، ذرائع کے مطابق حکومت نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو براہ راست پیشکش کی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کو فعال کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ اسد قیصر کی جانب سے مل کر ٹی اوآرز طے کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔



متعللقہ خبریں