نواز شریف کی سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پارٹی کے صدر شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے 20، 20 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض سابق وزیراعظم کی ضمانت آٹھ ہفتوں کے لیے منظور کی

1296558
نواز شریف کی سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا  8 ہفتوں کےلیے معطل کردی ہے۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پارٹی کے صدر شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے 20، 20 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض سابق وزیراعظم کی ضمانت آٹھ ہفتوں کے لیے منظور کی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 8 ہفتوں میں نواز شریف کا علاج مکمل نہ ہونے پر صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جائے۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیادوں پر سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے علاج کے لیے چھ ہفتوں کے لیے سزا معطل کی تھی جس کے کچھ اصول طے کیے گئے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ پہلے واضح کر لیں کہ انہوں نے ملک سے باہر علاج کرانا ہے یا ملک میں؟ جس پر فاضل جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیئے کہ ملک سے باہر کی تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی، انہوں نے کہا ہے کہ ایک چھت کے نیچے تمام علاج چاہیے۔

نیب کے وکیل نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مریض کی حالت خراب ہے، لیکن ہم سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرانا چاہتے ہیں۔

عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی مرکزی اپیل پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی اور جج ویڈیو کیس سے متعلق متفرق درخواستوں پر نیب کو تحریری جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا۔دورانِ سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے اس وقت 4 آپشنز ہیں، معاملہ ایگزیکٹو کو بھجوائیں یا نیب کی تجویز پر ٹائم فریم کے تحت سزا معطل کریں۔انہوں نے کہا کہ آپ کی مان لیں یا درخواست خارج کر دیں، شفاء اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، ڈاکٹرز بھی صرف اپنی کوشش ہی کرتے ہیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نے ضمانت کا معاملہ ایگزیکٹوز کو بھجوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حکومت کو یہ معاملہ بھجوانا جو ہماری شدید مخالف ہے زیادہ مناسب نہ ہو گا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت تو ابھی تک اس معاملے پر کنفیوز ہیں۔

اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی جان کو اسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے، مجھے خدشہ ہے کہ ہم نواز شریف کو کہیں کھو نہ دیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، میڈیکل بورڈ نے کل نواز شریف کی مکمل باڈی اسکین کا فیصلہ کیا ہے، نواز شریف کو جان بچانے والی ادویات دی گئیں، 8 دن میں ان کا 7 کلو وزن کم ہو گیا، میں نے آج تک کبھی نواز شریف کی اتنی تشویش ناک حالت نہیں دیکھی۔

ڈاکٹر عدنان نے یہ بھی بتایا کہ نواز شریف کی عمر 70 سال ہے اور ان کو عارضۂ قلب بھی لاحق ہے، نوازشریف کی جان کو اسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے۔



متعللقہ خبریں