ترکی، ملیشیا اور پاکستان مسلمان ڈیموکریسی اور مسلم امہ کے لیڈر ممالک ہیں، وزیر اعظم آزاد کشمیر

حالیہ 30 برسوں میں مقبوضہ کشمیر میں 1 لاکھ سے زائد مسلمانوں کا قتل ہوا

ترکی، ملیشیا اور پاکستان مسلمان ڈیموکریسی اور مسلم امہ کے لیڈر ممالک ہیں، وزیر اعظم آزاد کشمیر

آزاد جموں کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان  نے مسئلہ کشمیر کے پر امن  طریقے سے سفارتی حل  کے لیے دنیا بھر سے تعاون کرنے کی اپیل کی  ہے۔

حیدر خان نے 5 اگست کے بعد پاک و ہند کشیدگی کا جائزہ لینے والے ترک اخباری نمائندوں کے وفد کو اسلام آباد میں شرف ملاقات بخشا اور بعض اہم بیانات دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ 30 برسوں میں مقبوضہ کشمیر میں 1 لاکھ سے زائد مسلمانوں کا قتل ہوا ہے ، اپنے خاوندوں سے طویل عرصے سے اطلاع نہ ملنے والی 10 ہزار خواتین  کو "نیم بیوہ" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے ،دس ہزار سے زائد کشمیری  خواتین ہندوستانی فوجیوں   کی جنسی حوس کا نشانہ بنی ہیں اور آج 90 لاکھ کشمیری ایک کھلے آسمان تلے کی جیل  کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

فاروق حیدر خان  نے بتایا کہ "ہم مسئلہ کشمیر کے معاملے میں ڈیاسپورا کے علاوہ ترکی، پاکستان اور ملیشیا پر اعتماد کرتے ہیں کیونکہ اس مسئلے میں ہمارے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک یہ ہیں۔ یہ تینوں مسلمان ڈیموکریسی  مسلم امہ کے لیڈر ممالک کی حیثیت رکھتے ہیں۔"

دنیا بھر سے مسئلہ کشمیر کے پر امن  حل میں کوششیں صرف کرنے کی اپیل کرنے والے وزیر اعظم نے کہا کہ"یہ کشمیریوں کا آخری موقع ہے اگر اس میں بھی ناکامی ہوئی تو پھر ہم جنگ لڑنے پر مجبور ہو جائینگے۔ بعض اوقات جنگ بھی حل کی راہوں میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ یورپ کا نقشہ دوسری جنگ ِ عظیم کا نتیجہ ہے۔"

 



متعللقہ خبریں