اقوام متحدہ کے اجلاس میں کشمیریوں پرظلم وستم اوراضطراب سےآگاہ کروں گا: عمران خان

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنرل اسمبلی اجلاس میں کشمیر کاز کو بھر پور طریقے سے اٹھاؤں گا، وعدہ کرتا ہوں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں ایسے اٹھاؤں گا کہ کسی نے آج تک نہ اٹھایا ہوگا

اقوام متحدہ کے اجلاس میں کشمیریوں پرظلم وستم اوراضطراب سےآگاہ  کروں گا: عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا وعدہ کرتا ہوں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں ایسے اٹھاؤں گا کہ کسی نے آج تک نہ اٹھایا ہوگا، امریکا اور طالبان مذاکرات میں رکاوٹ ہم سب کی بدقسمتی ہے، افغان امن مذاکرات کی بحالی کیلئے پورا زور لگائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا طور خم میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا دعا ہے افغانستان میں امن ہو ، افغانستان میں امن ہونےسے طورخم کاعلاقہ ترقی کرے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنرل اسمبلی اجلاس میں کشمیر کاز کو بھر پور طریقے سے اٹھاؤں گا، وعدہ کرتا ہوں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں ایسے اٹھاؤں گا کہ کسی نے آج تک نہ اٹھایا ہوگا۔

کشمیر کی صورتحال سے متعلق وزیراعظم نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے 80لاکھ لوگوں کو محصور کررکھاہے، بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ ان پر اب قبضہ ہوچکا ہے ، انتہاپسند ہندو آرایس ایس نے بھارت پر قبضہ کرلیا ہے ، آرایس ایس کی پالیسی نفرت سے بھری ہوئی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں آرایس ایس مسلمانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے، بھارت میں اس وقت نارمل حکومت نہیں ہے ، آرٹیکل 370اور کرفیو اٹھانے تک بھارت سے بات چیت نہیں ہوسکتی، جہاد کی سوچ رکھنے والا سب سے پہلے کشمیریوں کیساتھ ظلم کرے گا، بھارت نے 9لاکھ فوجیوں کو مقبوضہ کشمیر میں اکٹھا کرکے رکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیر کو امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوگی ، افغان امن مذاکرات معطل ہونے کا زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے، افغان امن مذاکرات کی بحالی کیلئے پورا زور لگائیں گے ، افغان امن مذاکرات پر معاہدہ بالکل قریب تھا، طالبان نے افغان الیکشن میں حصہ نہ لیا تو پھر یہ بڑاالمیا اور افسوسناک ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو پہلے بھارت کیساتھ تھے اب وہ بھی نہیں رہے، بھارت اس وقت بری طرح پھنسا ہوا ہے ، یہاں سے کسی نے کوئی حرکت کی تووہ پاکستان کا بھی دشمن ہوگا اور کشمیریوں کابھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو پہلے بھارت کیساتھ تھے اب وہ بھی نہیں رہے، بھارت اس وقت بری طرح پھنسا ہوا ہے ، یہاں سے کسی نے کوئی حرکت کی تووہ پاکستان کا بھی دشمن ہوگا اور کشمیریوں کابھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طورخم کے راستے سینٹرل ایشیا تک تجارت ہوگی، پشاور پاکستان کا تجارتی حب بنے گا، طور خم ٹرمینل کھولنے سے ہی تجارت میں 50 فیصد اضافہ ہوگیا ہے، اس سے تجارتی روابط بڑھنے سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔



متعللقہ خبریں