امریکی صدرٹرمپ جلد ہی کشمیر تنازع پر وزیراعظم عمران خان اور وزیراعظم مودی سے ملاقات کریں گے

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ صدر ٹرمپ کے شیڈول کے مطابق وہ وزیراعظم عمران خان سے رواں ماہ نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سائیڈ لائن پر ملاقات کرسکتے ہیں

امریکی صدرٹرمپ جلد ہی  کشمیر تنازع پر وزیراعظم عمران خان اور  وزیراعظم مودی سے ملاقات کریں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کے  جلد ہی   پاکستان  اور بھارت کے وزرائے اعظم الگ الگ  ملاقاتیں ہوں  گی جس میں مسئلہ  کشمیر  سمیت دونوں  ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم کروانے پر غور کیا جائے گا۔    

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ صدر ٹرمپ کے شیڈول کے مطابق وہ وزیراعظم عمران خان سے رواں ماہ نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سائیڈ لائن پر ملاقات کرسکتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 ستمبر کو ہیوسٹن میں بھارتی وزیراعظم مودی کی ایک ریلی سے بھی خطاب کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کروں گا اور میں بلکہ ہم بھارت اور پاکستان کے وزرا اعظم سے ملاقاتیں کریں گے، مجھے لگتا ہے کہ جنوبی ایشیا کی دو جوہری قوت کے حامل ممالک میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہیں'۔

انہوں نے یہ ریمارکس ہیوسٹن میں 22 ستمبر کو ان کی نریندر مودی کے ہمراہ طے شدہ مشترکہ ریلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں دیے۔

امریکی صدر کی اس ریلی میں شرکت کو بھارت میں جہاں 'بڑی سفارتی کامیابی' قرار دیا جارہا ہے وہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے ریمارکس ظاہر کر رہے ہیں کہ امریکی رہنما جنوبی ایشیا کے روایتی حریف کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے میں اب بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا آئندہ چند روز میں پاکستانی و بھارت کے رہنماؤں سے ملاقات کے اعلان سے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ٹرمپ-عمران ملاقات کی میڈیا رپورٹس کی تصدیق ہوئی۔

پاکستانی اور بھارتی وزیر اعظم 27 ستمبر کو نیو یارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب کریں گے۔

امریکی صدر کے جنرل اسمبلی کا شیڈول اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان سے جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائنز میں ملاقات کرسکتے ہیں جبکہ نریندر مودی سے ہیوسٹن میں ان کی ملاقات پہلے ہی طے ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا کہ نریندر مودی نیو یارک یا واشنگٹن میں ایک باضابطہ ملاقات کو ہیوسٹن میں ریلی کے دوران بات چیت پر ترجیح دیں گے۔

اس کا مطلب ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نریندر مودی سے 2 ملاقاتیں ہوسکتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے دوسرے حصے میں کہا گیا کہ 'اہم پیش رفت ہوئی ہیں' اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ امریکا دونوں ممالک سے بات چیت میں مصروف ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر تنازع پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔

 

امریکی صدر نے یہ پیشکش 22 جولائی کو وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ واشنگٹن میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دی تھی۔

اس کے بعد سے انہوں نے کم از کم دو مرتبہ اس پیشکش کو دہرایا ہے جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ماہ فرانس میں ہونے والے جی 7 اجلاس میں اس پیشکش کو مسترد کیا تھا۔

واضح رہے کہ نئی دہلی کے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لینے کے فیصلے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اسلام آباد نے بھارت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کردیے تھے۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکی صدر کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان کی بھارتی اقدامات کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی حکمت عملی کے تحت دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات بھی متوقع ہے

 



متعللقہ خبریں