چشمہ امن آپریشن

مقصد امن
ہدف دہشت گردی

پاکستان کبھی بھی  بھارت سے کشیدگی بڑھانے میں پہل نہیں کرے گا: عمران خان

گورنر ہاؤس لاہور میں منعقدہ انٹرنیشنل سکھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت سے کہا تھا مسئلہ کشمیر ڈائیلاگ سے حل کر سکتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بھارت نے مثبت جواب نہیں دیا

پاکستان کبھی بھی  بھارت سے کشیدگی بڑھانے میں پہل  نہیں  کرے گا:  عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کبھی بھی   بھارت سے کشیدگی بڑھانے میں پہل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔  

گورنر ہاؤس لاہور میں منعقدہ انٹرنیشنل سکھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت سے کہا تھا مسئلہ کشمیر ڈائیلاگ سے حل کر سکتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بھارت نے مثبت جواب نہیں دیا۔

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کا کہنا تھا کہ کوئی بھی مسئلہ جنگ سے حل نہیں ہوتا۔ اگر کوئی جنگ کی بات کرے گا تو اسے عقل نہیں ہے۔ بھارت اور پاکستان کا ایک ہی مسئلہ غربت اور بے روزگاری ہے۔ کوئی بھی دین کسی کوقتل کی اجازت نہیں دیتا لیکن آر ایس ایس کے لوگ بھارت میں گوشت کھانے والوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ بھارتیا جنتا پارٹی آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی پر چل رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال کو کوئی بھی انسانیت برداشت نہیں کر سکتی، کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اگر وہ کسی اور مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ ہوتا تو تب بھی میں آواز بلند کرتا، ہندوستان میں ہندوﺅں کی بالادستی کی سوچ رکھنے والوں کی حکمرانی ہے جو نہ صرف ہندوستان میں بسنے والی اقلیتوں بلکہ دنیا کے لئے بھی خطرہ ہے، سب کو اس نظریئے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔

 وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کبھی پہل نہیں ہوگی، مگر پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں، تناؤ بڑھا تو اس سے دنیا کو خطرہ ہے۔ 

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ انسانی معاشروں میں رحم ہوتا ہے۔ کشمیر میں گزشتہ 29 دنوں سے کرفیو نافذ کرکے 80 لاکھ لوگوں کو گھروں میں بند کر دیا گیا ہے۔ ہندو مذہب بھی ایسے مظالم کی اجازت نہیں دیتا۔

عمران خان نے کہا ہے کہ سکھوں کو پاکستان آنے کے لیے ملٹی پل ویزے جاری کرینگے، بھارت میں میرے بہت دوست ہیں، وزیراعظم بنا تو تعلقات اچھے کرنے کی کوشش کی، مودی کو پیغام دیا تم ایک قدم بڑھاؤ ہم دو قدم آگے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مودی کو تعلقات بہتر کرنے کا موقع دیا مگر افسوس ہوا کہ ہماری پیشکش پر بھارت کا ردعمل منفی رہا، مودی سے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہم مذاکرات سے حل کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مودی سرکار آر ایس ایس کے نظریے پر چل رہی ہے، کرفیو لگے 29 دن ہوگئےہیں، مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ لوگ بند ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت میں بی جے پی کی حکومت صرف ہندو راج چاہتی ہے، آر ایس ایس جو حرکتیں کر رہی ہے، اس کی کسی مذہب میں گنجائش نہی ںہے۔

 

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اگر وہ کسی اور مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ ہوتا تو تب بھی میں آواز بلند کرتا، ہندوستان میں ہندوﺅں کی بالادستی کی سوچ رکھنے والوں کی حکمرانی ہے جو نہ صرف ہندوستان میں بسنے والی اقلیتوں بلکہ دنیا کے لئے بھی خطرہ ہے، سب کو اس نظریئے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔



متعللقہ خبریں