مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فیصلہ مسترد، پارلیمنٹ میں متفقہ مذمتی قرارداد منظور

متفقہ قرار داد کشمیر کمیٹی کے چیئر مین سیّد فخر امام نے پڑھی، قرار پڑھنے کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کی مذمت کرتے ہیں

1249775
مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فیصلہ مسترد، پارلیمنٹ میں متفقہ مذمتی قرارداد منظور

پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

پارلیمانی کمیٹی برائے کمشیر فخر امام نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بلائے جانے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد پیش کی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی سختی سےمذمت کرتا ہے، جغرافیائی حیثیت تبدیل ہونے سے کشمیری عوام کے حقوق کی خلاف ورزی بھی ہوگی، بھارتی یکطرفہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی یک طرفہ حل قبول نہیں، کشمیر عالمی سطح پر متنازع علاقہ ہے، یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے اور کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے۔

چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے پارلیمنٹ کے مشترکا اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور بھارتی مظالم کے خلاف قرارداد پیش کی، جس پر تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کے دستخط ہیں۔

پارلیمنٹ نے قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری دےد ی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ کا مشترکا اجلاس بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے، مسئلہ کشمیر کے پاکستان، بھارت اور کشمیری تین فریق ہیں، کوئی یک طرفہ حل قبول نہیں، عالمی برادری بھارت کو روکے جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ ہے، جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

قرارداد میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے جب کہ بھارت سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور غیر قانونی اقدامات ختم کرنے اور کشمیری قیادت کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

قرارداد میں مقبوضہ کشمیر کے نہتے افراد پر کلسٹر بموں کے حملوں، بربریت کا نشانہ بنائے جانے اور ایل او سی پر ہونے والی فائرنگ کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔

قرارداد میں زور دیا گیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، قابض بھارتی فوج کا انخلاء، فوجی ایریاز اور کرفیو کا خاتمہ کیا جائے، بھارت تشدد، نسل کشی روکے، پیلٹ گنز کا استعمال ختم کرے۔ نام نہاد سرچ آپریشن ختم کیے جائیں، کشمیریوں کو بنیادی انسانی حقوق دیے جائیں، اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کرے، کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے، مسئلے کا حل باہمی مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔

قرارداد میں یہ عہد بھی کیا گیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدجہد آزادی میں ان کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔

متفقہ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیرکا آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل کرنے سے باز رہے۔ مقبوضہ علاقے سے مقامی افراد کی جبری بے دخلی جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرم ہے، بھارت کے جارحانہ اقدامات سے علاقائی امن واستحکام کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے، پاکستانی عوام اور مسلح افواج کسی بھی بھارتی مہم جوئی کے مقابلے کے لیے تیارہیں۔

متفقہ قرارداد منظور کرنے کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

متفقہ قرار داد کشمیر کمیٹی کے چیئر مین سیّد فخر امام نے پڑھی، قرار پڑھنے کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کی مذمت کرتے ہیں۔ آرٹیکل 35 اے اور 371 کو مسترد کرتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور کلسٹر بمباری کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ بھارت نے آبادی کا تناسب بدلنے کے لیے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی۔

قرارداد پڑھنے کے دوران ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے بھی لگے۔

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمارے سیاسی اختلاف ہو سکتے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ایوان نے اتحاد کا ثبوت دیا۔

مقبوضہ کشمیر کے اہم مسئلے پر مشترکہ اجلاس سے خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد بھارت کے لیے مکے کا نشان اور اتحاد کا پیغام ہوگا۔ ہمارے سیاسی اختلاف ہو سکتے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ایوان نے اتحاد کا ثبوت دیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک فیصلے سے کشمیری عوام اور قیادت کو یکجا کر دیا ہے۔ کشمیری رہنما محبوبہ مفتی بھی اعتراف کر رہی ہیں کہ ہمارے بڑوں سے تاریخی غلطی ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جواہر لعل نہرو نے کئی بار کشمیریوں سے معاملہ حل کرنے وعدہ کیا تھا لیکن مودی سرکار نے اپنے ہی لیڈر کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ حال ہی میں بھارت کے اپوزیشن رہنما چدم بھرم نے اہم بیان میں پانچ اگست کو تاریخ کا سیاہ ترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ بتائے گی، مودی کا فیصلہ بہت بڑی حماقت ہے۔



متعللقہ خبریں