پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا بھارتی اقدام مسترد کردیا

دفترخارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف تمام آپشنز بروئے کار لائے گا اور کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھے گا

1248069
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا بھارتی اقدام مسترد کردیا

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اعلان مسترد کرتے ہوئے کہا بھارت کاکوئی بھی یکطرفہ قدم کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں کرسکتا ، بھارتی حکومت کافیصلہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئےناقابل قبول ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی اختیارات سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے احکامات جاری کیے جانے پر ردعمل دیا اور اس حوالے سے بھارت کے صدارتی آرڈیننس کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف تمام آپشنز بروئے کار لائے گا اور کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھے گا جب کہ بھارت کے اس یک طرفہ فیصلے اور اقدام سے کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کی جاسکتی، ایسے اقدامات کشمیریوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق یہ متنازعہ علاقہ ہے، بھارتی حکومت کافیصلہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئےناقابل قبول ہے، بطور فریق پاکستان اس غیرقانونی اقدام کے خلاف ہرممکن قدم اٹھائے گا۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا پاکستان کشمیری عوام کی ساتھ کھڑا ہے، کشمیری عوام کی سیاسی،سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رہےگی۔

یاد رہے بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھارتی وزیرداخلہ نے آرٹیکل370 ختم کرنے کا بل پیش کیا ، تجویز کے تحت غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کرسکیں گے۔

بعد ازاں بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے اور گورنر کاعہدہ ختم کرکے اختیارات کونسل آف منسٹرز کو دے دیئے، جس کے بعد مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔

خیال رہے آرٹیکل تین سو ستر مقبوضہ کشمیرکوخصوصی درجہ دیتے ہوئے کشمیر کو بھارتی آئین کا پابند نہیں کرتا، مقبوضہ کشمیر جداگانہ علاقہ ہے، جسے اپنا آئین اختیارکرنے کا حق حاصل ہے۔

دوسری جانب بھارتی اپوزیشن کا ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت کا فیصلہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔

واضح رہے مقبوضہ کشمیرمیں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے ، لوگ گھروں میں محصورہوکررہ گئے، کشمیری رہنما محبوبہ مفتی،عمرعبداللہ اورسجاد لون سمیت دیگر رہنماؤں کوبھی نظربند کردیاگیا ہے۔

مقبوضہ وادی میں دفعہ ایک چوالیس نافدکر کےوادی میں تمام تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بنداور لوگو ں کی نقل وحرکت پربھی پابندی عائد کردی گئی ہے، سری نگر سمیت پوری وادی کشمیرمیں موبائل فون، انٹرنیٹ، ریڈیو، ٹی وی سمیت مواصلاتی نظام معطل کردیاگیا ہے جبکہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے پولیس تھانوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

 



متعللقہ خبریں