بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا، کشمیر بھر میں کرفیو

مودی سرکار نےمقبوضہ کشمیر میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلنےکی گھناؤنی حکمت عملی اختیار کرتےہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کرنےکی تجویز دیدی، مذکورہ تجویز راجیہ سبھا میں مودی حکومت کی جانب سےبھارتی وزیر داخلہ نےپیش کی جس پر اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑاکردیا

1247715
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا، کشمیر بھر میں کرفیو

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیاہے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کردی اور بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پربھارتی پارلیمنٹ کااجلاس ہوا، بھارتی وزیراعظم نریندرمودی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی گھناؤنی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کرنے کی تجویز دیدی، مذکورہ تجویز راجیہ سبھا میں مودی حکومت کی جانب سے بھارتی وزیر داخلہ نے پیش کی جس پر اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔

بھارتی پارلیمنٹ میں اجلاس کے دوران اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال داو پر لگانے پر شدید احتجاج کیا، اپوزیشن رہنماوں نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراو کر لیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔

بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیرسے متعلق آرٹیکل 370 کی ایک کے سوا تمام شقیں ختم کرنے کا اعلان کیا۔

بھارتی وزیرداخلہ نے آرٹیکل370 ختم کرنے کا بل پیش کردیا، تجویز کے تحت غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کرسکیں گے اور 370 ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوجائےگی۔

بعد ازاں بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے اور گورنر کاعہدہ ختم کرکے اختیارات کونسل آف منسٹرز کو دے دیئے، جس کے بعد مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔

خیال رہے آرٹیکل تین سو ستر مقبوضہ کشمیرکوخصوصی درجہ دیتے ہوئے کشمیر کو بھارتی آئین کا پابند نہیں کرتا، مقبوضہ کشمیر جداگانہ علاقہ ہے، جسے اپنا آئین اختیارکرنے کا حق حاصل ہے۔

دوسری جانب بھارتی اپوزیشن کا ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت کا فیصلہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔

بھارتی وزیرداخلہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ مودی سرکارنے آرٹیکل35 اے ختم کیا تومخالفت کریں گے جبکہ کانگریسی رہنما کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق قانون پر مشورہ نہیں کیا۔

اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارتی وزیراعظم کی زیرصدارت کابینہ اجلاس ہوا تھا ، اس موقع پر بھارت کی متعدد ریاستوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب کانگریس اوردیگراپوزیشن جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وزیرداخلہ کےبیان کے بعد لائحہ عمل دیں گے، مقبوضہ کشمیر میں جغرافیائی یا کوئی اورتبدیلی کی تو بھارتی صدر سے بات کریں گے۔

مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو لگا دیا گیا ہے ۔ مقبو ضہ وادی میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل ،اسکول اور کالجز سمیت تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

یونی ورسٹیز میں 5 سے 10 اگست تک ہونے والے امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے سیکورٹی ریڈ الرٹ جاری کر کے سیاحوں کو چوبیس گھنٹوں میں وادی چھوڑنے کی ہدایت کر دی، وادی میں شدید خوف و ہراس کی فضا، ہزاروں کی تعداد میں سیاح، ہندو یاتریوں، طلبہ اور پیشہ ور افراد کا وادی چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارتی فوج کی نفری میں اضافے سے وادی میں شدید بے چینی اور تشویش میں مبتلا کشمیریوں نے اشیائے خورونوش جمع کرنا شروع کردیں، پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر کے دو سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے عمر عبداللہ کے گھر پر اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر بات چیت کی گئی تھی۔

ادھر وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اضافی بھارتی فوج جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے، بھارتی عزائم خطے میں تشدد بڑھا کر اسے فلیش پوائنٹ بناسکتے ہیں، بھارت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ کر تنازع کے پُرامن حل کی طرف بڑھے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی سے خطے کا امن تباہ ہو رہا ہے، کسی بھی بھارتی مہم جوئی یا جارحیت کا پوری قوم کی مدد سے جواب دیا جائے گا، پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا، کبھی کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا

 



متعللقہ خبریں