فریال تالپور کے لیے 9 روزہ ریمانڈ کا فیصلہ

فریال تالپور نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر غیرقانونی رقم کی لانڈرنگ کی، نیب پراسیکیوٹر

فریال تالپور کے لیے 9 روزہ ریمانڈ کا فیصلہ

قومی احتساب بیورو نے جعلی اکاوٴنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور کو احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش کرتے ہوئے  ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست  کی۔

پراسیکیوٹر  کا کہنا تھا  کہ فریال تالپور زرداری گروپ کے اکاوٴنٹ کی ڈائریکٹر ہیں، ان کے دستخط سے زرداری گروپ کے اکاوٴنٹ سے 30 ملین کی رقم اویس مظفر کے اکاوٴنٹ میں منتقل ہوئی، فریال تالپور نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر غیرقانونی رقم کی لانڈرنگ کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فریال تالپور کو ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کیا گیا تھا، جعلی اکاؤنٹس ریفرنس میں فریال تالپور کا مرکزی کردار ہے۔

بعد ازاں عدالت نے نیب کی جانب سے فریال تالپور کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے پی پی پی کی رہنما کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا، انہیں 24 جون کو عدالت میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

احتساب عدالت میں پیشی  کے وقت پی پی پی کی رہنما فریال  نے میڈیا کو بتایا کہ  نیب کی گرفتاریاں سیاسی ہیں، میں نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیا ہے۔

 



متعللقہ خبریں