پاکستانیوں کےبیرون ملک 12ارب ڈالرزکےاثاثےموجود ہیں: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر

پریس کانفرنس کے دوران شہزاد اکبر نے کہا کہ پاکستان کی گرے اکنامی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے حکومت ہرممکن اقدامات اٹھارہی ہے، پاکستانیوں کے بیرون ملک 12 ارب ڈالرزکے اثاثوں کا پتاچلا لیا گیا ہے

پاکستانیوں کےبیرون ملک 12ارب ڈالرزکےاثاثےموجود ہیں:  وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کے بیرون ملک 12 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا پتاچلا لیا گیا ،ہمیں 26 ممالک سے ڈیڑھ لاکھ اکاونٹس کا ڈیٹا موصول ہو چکا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران شہزاد اکبر نے کہا کہ پاکستان کی گرے اکنامی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے حکومت ہرممکن اقدامات اٹھارہی ہے، پاکستانیوں کے بیرون ملک 12 ارب ڈالرزکے اثاثوں کا پتاچلا لیا گیا ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ بےنامی ایکٹ قانون کا نفاذ بہت ضروری ہے، جتنے بے نامی اثاثے ہوں گے انہیں ضبط کیا جائے گا، پاکستان نے برطانیہ کے ساتھ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں، جس سے دونوں ملک شہریوں کی بینکنگ معلومات کا تبادلہ کرسکیں گے۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے دور حکومت میں سلمان شہباز کے اثاثے 85 فیصد بڑھے، شہبازشریف کے ایک صاحبزادے کو ایک ارب 30 کروڑ روپے براہ راست موصول ہوئے مگر شہباز شریف کسی سوال کا جواب نہیں دے رہے، شاید شہبازشریف اثاثوں سے متعلق لندن سے جواب لے کر آئے ہوں۔فیصل واوڈا کے خلاف تحقیقات سے متعلق شہزاد اکبر نے کہا کہ فیصل واوڈا اور خسرو بختیار کے خلاف شکایات نیب میں تصدیق کے مرحلے پر ہیں تاہم فیصل واوڈا کے جو اثاثے بتائے جا رہے ہیں میرے خیال میں وہ ظاہر شدہ ہیں۔

 



متعللقہ خبریں