پاکستان کی پلوامہ حملے کی تحقیقات پر غیرملکی سفارت کاروں کو بریفنگ

پاکستان کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی الزامات کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں، تحقیقات آگے بڑھانے کے لیے بھارت سے مزید معلومات اور دستاویزات چاہئیں

1172052
پاکستان کی پلوامہ حملے کی تحقیقات پر غیرملکی سفارت کاروں کو بریفنگ

حکومت پاکستان کی جانب سے پلواما حملے کی تحقیقات سے متعلق ابتدائی رپورٹ پر غیرملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی الزامات کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں، تحقیقات آگے بڑھانے کے لیے بھارت سے مزید معلومات اور دستاویزات چاہئیں۔

پاکستان نے پلوامہ واقعہ سے متعلق بھارتی ڈوزئیر کا ابتدائی جواب دے دیا ہے جس کے بعد آج اسلام آباد میں غیر ملکی سفارتکاروں کو بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں خودکش حملہ ہوا اور 27 فروری کو بھارت نے حملے کے حوالے سے شواہد اور دستاویزات پاکستان کو دیں۔۔

دفترخارجہ میں بریفنگ کے دوران اٹارنی جنرل، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے سمیت غیرملکی سفارت بھی موجود تھے۔

بریفنگ کے دوران غیرملکی سفارت کاروں کو بتایا گیا کہ بھارت کی جانب سے 27 فروری کو پلواما حملے سے متعلق شواہد دیے گئے۔

بھارت کی جانب سے ملنے والی دستاویزات کے بعد پاکستان نے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی اورکئی افراد کو حراست میں لیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے پلواما حملے سے متعلق تکنیکی معاملات کو دیکھا اور سوشل میڈیا پر معلومات کا جائزہ بھی لیا، تحقیقات کے درمیان معاملے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی دستاویز کی روشنی میں 54 افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات کی گئیں، اُن کا پلوامہ حملے سے تعلق ثابت نہیں ہو سکا، جن 22 مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی، وہاں کسی کیمپ کا کوئی وجود نہیں، غیر ملکی سفارت کاروں کو بتایا گیا کہ درخواست پر ان مقامات کا دورہ بھی کرایا جا سکتا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھارت نے 27 فروری کو حملے سے متعلق شواہد دیے، بھارتی دستاویز 91 صفحات پر مشتمل تھی جس کے 6 حصے تھے، دستاویز کا دوسرا اور تیسراحصہ پلوامہ حملے سے متعلق تھے، باقی حصے عام الزامات سے متعلق تھے، پاکستان نے پلوامہ حملے سے متعلق معلومات کو فوکس کیا، فوری تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں، تکنیکی معاملات کو دیکھا اور سوشل میڈیا پر معلومات کا جائزہ بھی لیا۔

دفتر خارجہ کی بریفنگ کے مطابق عادل ڈار کے اعترافی ویڈیو بیان کا بھی جائزہ لیا گیا ہے،نیز واٹس ایپ اورٹیلی گرام نمبر اور ویڈیو پیغامات سے متعلق تحقیقات کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 19 فروری کو وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو پیشکش کی تھی کہ بھارت کے پاس پلواما حملے کے ثبوت ہے تو پیش کرے کارروائی کریں گے اور واضح کیا تھا بھارت نے پاکستان پرحملہ کیا توجواب دینے کا سوچیں گے نہیں بلکہ جواب دیں گے۔



متعللقہ خبریں