بھارت طے پانے والے معائدے کے تحت پاکستان کے پانی کو نہیں روک سکتا: انڈس واٹر کمیشن

انڈس واٹر کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے پانی روکے جانے کا جائزہ لے رہے ہیں، اگر بھارت نے ایسا کیا تو عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا جائے گا، بھارت سندھ طاس معاہدے کے مطابق پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا

1160830
بھارت طے پانے والے معائدے کے تحت  پاکستان کے پانی کو نہیں روک سکتا: انڈس واٹر کمیشن

پاکستان انڈس واٹر کمیشن  کے حکام  کے مطابق  دریائے سندھ  کا پانی طے پانے والے  معائدے  کے مطابق   بھارت کی جانب سے پاکستان کو  دیے جانے والے پانی   کو کسی بھی صورت نہیں روک سکتا ہے۔

انڈس واٹر کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے پانی روکے جانے کا جائزہ لے رہے ہیں، اگر بھارت نے ایسا کیا تو عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا جائے گا، بھارت سندھ طاس معاہدے کے مطابق پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا۔

حکام انڈس واٹر کمیشن کے مطابق پانی روکنے سے متعلق بھارتی انڈس حکام نے پاکستان کو مطلع نہیں کیا، بھارت میں الیکشن کی وجہ سے پاک بھارت پانی پر مذاکرات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں، پانی پر پروپیگنڈا کرنا بھارت کی پرانی عادت ہے پھر بات چیت پر آجاتا ہے۔

حکام انڈس واٹر کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ وزارت پانی و بجلی بہ غور جائزہ لے رہی ہے، بھارت کو پانی کا رخ موڑنے میں کئی سال لگیں گے۔

دریں اثنا بھارت نے کہا ہے کہ وہ بھارتی زیر انتظام کشمیر سے پاکستانی سر زمین کی طرف بہنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کو جانے والا پانی روک دے گا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بھارت کا استدلال ہے کہ یہ قدم بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والےایک  خودکش کار بم حملے کی سزا کے طور پر اٹھایا جا رہا ہے۔ 14 فروری کو ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں 40 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔ بھارت اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتا ہے جبکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

بھارت کے واٹر ریسورس منسٹر نیتن گڈکاری کے مطابق پاکستان جانے والے تین مختلف دریاؤں سے اپنے حصے کے غیر استعمال شدہ پانی کو روک کر اسے مختلف بھارتی ریاستوں کو فراہم کیا جائے گا۔

1960 میں انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر ایوب خان نے یہ معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق دریائے سندھ میں شامل ہونے والے دریاؤں کو مغربی اور مشرقی دریاؤں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

سمجھوتے میں دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو دیا گیا اور راوی، بیاس اور ستلج کا پانی انڈیا کو دیا گیا۔

اس میں یہ بھی طے ہوا کہ انڈیا اپنے دریاؤں کے پانی کا کچھ چیزوں کو چھوڑ کر بے روک ٹوک استعمال کر سکتا ہے۔ وہیں پاکستان کے دریاؤں کے استعمال کا کچھ حق انڈیا کو بھی دیا گیا تھا جیسے بجلی بنانا اور زراعت کے کے لیے پانی کی محدود مقدار۔

پاکستان کے صوبوں پنجاب اور سندھ کو زراعت کے لیے دریاؤں سے پانی ملتا ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں کے لیے آبپاشی کا یہی ذریعہ ہے۔



متعللقہ خبریں