پاکستان کی سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظر ثانی اپیل مسترد کردی

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو توہین رسالت کیس میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دیا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظر ثانی اپیل مسترد کردی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو توہین رسالت کیس میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دیا تھا

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو اسلام آباد میں نظرِ ثانی کی اپیل کی سماعت کی۔ بینچ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے خلاف مقدمے کے مدعی قاری عبدالسلام نے سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی اپیل دائر کی تھی۔

اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت نے اُن حقائق کو مدِ نظر نہیں رکھا جن کی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے توہینِ عدالت کے مقدمے میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔

سماعت کے بعد اپنے مختصر فیصلے میں عدالت نے آسیہ بی بی کی بریت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نظرِ ثانی کی اپیل مسترد کردی۔

ینچ نے دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایک بھی غلطی کی نشان دہی نہیں کرسکے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو توہینِ مذہب کے مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ سنایا تھا۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ دیا تھا۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا تھا کہ آسیہ بی بی پر عائد الزامات سے متعلق گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے اور قانون کے مطابق جو دعویٰ کرتا ہے، ثابت کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام کارروائی میں ملزم کے ارتکابِ جرم کو ہر قسم کے شک و شبہے سے بالا تر ثابت کرے۔ جس جگہ بھی استغاثہ کی کہانی میں کوئی جھول ہوتا ہے اس کا فائدہ ملزم کو دیا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے خلاف مذہبی جماعت تحریکِ لبیک نے ملک گیر احتجاج کیا تھا۔

بعد ازاں حکومت نے تحریکِ لبیک کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن کیا تھا اور جماعت کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت اہم رہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کر کے انھیں گرفتار کرلیا تھا۔ گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں میں سے بیشتر تاحال حکومت کی حراست میں ہیں۔

منگل کو نظرِ ثانی کی اپیل کی سماعت کے دوران اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے اور ریڈ زون میں واقع سپریم کورٹ سمیت حساس عمارتوں پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

 



متعللقہ خبریں