چیف جسٹس کا بلاول بھٹو اور مرادعلی شاہ کانام جے آئی ٹی رپورٹ اور ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جہاں جہاں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ہے اس حصے کو ڈیلیٹ کیا جائے

1120354
چیف جسٹس کا بلاول بھٹو اور مرادعلی شاہ کانام جے آئی ٹی رپورٹ اور ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سپریم کورٹ نے بلاول بھٹو اور سندھ کے وزیر اعلیٰ   مراد علی شاہ  کا نام جے آئی ٹی رپورٹ اور ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جہاں جہاں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ہے اس حصے کو ڈیلیٹ کیا جائے۔

عدالت نے معاملہ نیب کو بھجواتے ہوئے 2 ماہ میں تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا 172 لوگوں کے نام کابینہ دیکھ رہی ہے، نیب کو بار بار کہہ رہا ہوں لوگوں کی عزت نفس بہت اہم ہے، نیب کے زیر انتظام اس طرح کی چیزیں نہیں ہونی چاہئیں، نیب والے لوگوں کو بلا کر گھنٹوں بٹھا کے رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف سیاسی اسکورنگ کے لیے وزیراعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو کو شامل کیا گیا، صرف ڈائریکٹر بن جانے سے کیسے ثابت ہوتا ہے کہ بلاول کسی اسکینڈل میں شامل ہوگئے، والد اور پھوپھی نے کاروبار کیا، بلاول بھٹو فی الوقت معصوم اور کلین ہیں ان کانام کیوں شامل کیا گیا؟ وہ تو اپنی والدہ کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

 چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ کیا جے آئی ٹی لوگوں کو ذلیل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے؟ جے آئی ٹی لوگوں کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی، جے آئی ٹی کی تشکیل میں عدالت اور جے آئی ٹی کی بدنیتی شامل نہیں، جمہوریت بہت بڑی رحمت ہے، ہم کسی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مراد علی شاہ کی عزت نفس مجروح کی جا رہی ہے، دیکھ تو لیتے کہ مراد علی شاہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں۔

سپریم کورٹ نے جعلی اکاونٹس کا معاملہ نیب کو بھیج دیا اور حکم دیا کہ نیب جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کی از سر نو تفتیش کرے اور یہ تفتیش 2 ماہ میں مکمل کرے۔

جعلی بینک اکاونٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

 



متعللقہ خبریں