کون بنےگانگران وزیراعظم؟کیامعاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائےگایا نام پراتفاق ہوجائےگا؟جلد پریس کانفرنس

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کوشش کر رہے ہیں کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق ہو جائے، وزیراعظم کے ساتھ ساڑھے 12 بجے مشترکہ پریس کانفرنس ہے، پریس کانفرنس سے پہلے وزیراعظم کے ساتھ دوبارہ ملاقات ہو گی

980232
کون بنےگانگران وزیراعظم؟کیامعاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائےگایا نام پراتفاق ہوجائےگا؟جلد پریس کانفرنس

نگران وزیراعظم کی تقرری پر ڈیڈ لاک ختم ہو گیا۔ وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور اسپیکر مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے، پریس کانفرنس سے پہلے شاہد خاقان عباسی اور خورشید شاہ ایک اور ملاقات بھی کرینگے۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کوشش کر رہے ہیں کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق ہو جائے، وزیراعظم کے ساتھ ساڑھے 12 بجے مشترکہ پریس کانفرنس ہے، پریس کانفرنس سے پہلے وزیراعظم کے ساتھ دوبارہ ملاقات ہو گی۔ انہوں نے کہا امید ہے پریس کانفرنس سے پہلے ایک نام پر اتفاق ہو جائے گا، سیاستدانوں کو خود فیصلہ کرنا چاہیے، کسی اور کو نہیں۔

ادھر سندھ اور کے پی اسمبلیاں آج تحلیل ہوجائیں گی۔ نگران وزیراعلیٰ کے حلف اٹھانے تک مراد علی شاہ کام جاری رکھیں گے جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا بھی آج آخری دن ہے۔ صوبائی کابینہ بھی تحلیل ہوجائے گی، نگران وزیراعلیٰ بننے تک پرویز خٹک ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔ وفاق، پنجاب اور بلوچستان کی اسمبلیاں 31 مئی کو تحلیل ہوں گی۔ 25 جولائی کو عوام اگلی حکومت کے چناؤ کیلئے حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

یاد رہے کہ نگراں وزیراعظم کی تعیناتی کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے ذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام سامنے آئے ہیں جب کہ حکومت نے جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی اور ڈاکٹر عشرت حسین کے نام تجویز کیے ہیں۔ 

نگراں وزیراعظم کے لیے اپوزیشن کے ناموں میں سے کسی ایک کا اعلان ہوسکتا ہے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز کردہ سابق سیکرٹری خارجہ و سفیر جلیل عباس جیلانی کو نگراں وزیراعظم تعینات کیے جانے کا قومی امکان ہے۔

یاد رہے کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر مشاورت کے لیے اس سے قبل وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان 5 ملاقاتیں ہوئیں جو بے نتیجہ ثابث ہوئیں۔

اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے پیپلز پارٹی کے پیش کردہ ناموں کو مسترد کیا گیا ہے تاہم حکومتی ناموں پر پی ٹی آئی متفق دکھائی دیتی ہے۔



متعللقہ خبریں